ہفتہ , 15 مئی 2021

ہٹلر سے مودی تک: سب مایا ہے

(وسعت اللہ خان)

نچلے طبقے کے ٹوٹے ہوئے کنبے میں پیدا ہونے والا ناکام مصور، ضدی مزدور، ارادے کا پکا فوجی ڈاکیا اڈولف ہٹلر جرمنی کا چانسلر کیسے بنا؟ جب انیس سو انیس میں اس نے نیشنل سوشلسٹ جرمن ورکرز پارٹی میں شمولیت اختیار کی تو انتہائی دائیں بازو کے کئی جرمن گروپوں کی طرح اس پارٹی کی کوئی سیاسی حیثیت نہیں تھی۔ مگر ایسے کسی گروپ میں شمولیت کا یہ فائدہ ضرور ہوتا ہے کہ تنظیمی صلاحیت کے بل بوتے پر آدمی تیزی سے ترقی کرسکتا ہے اور ہٹلر تو سراپا تنظیمی صلاحیت تھا۔

چنانچہ انتھک ہٹلر کی قیادت میں گمنام نازی پارٹی نے انیس سو چوبیس میں پہلا پارلیمانی الیکشن لڑا اور پانچ سو ستتر کے ایوان میں چودہ سیٹیں حاصل کیں۔ انیس سو اٹھائیس کے الیکشن میں صرف بارہ سیٹیں ملیں لیکن انیس سو تیس میں ہونے والے الیکشن میں نازی پارٹی ایک سو سات سیٹیں لے کر سوشل ڈیموکریٹس کے بعد دوسری بڑی جماعت کے طور پر ابھری۔ صرف دو سال میں بارہ سے ایک سو سات سیٹیں کرلینا بچوں کا کھیل نہیں ہے۔ ہٹلر اور اس کی ٹیم نے ان دو برسوں میں اپنی ناکامی کے اسباب کو سمجھنے کی سنجیدگی سے کوشش کی۔ پتہ یہ چلا کہ صرف یہودیوں کے خلاف نفرت، کیمونسٹوں سے دشمنی اور سوشل ڈیموکریٹس کو منافق بتانے سے کام نہیں چلے گا۔

زیادہ سے زیادہ ووٹروں کو شیشے میں اتارنے کے لیے انتخابی حکمتِ عملی اور نعرے بدلنے پڑیں گے۔ لہٰذا پورے جرمنی کو نازی پارٹی کی اٹھانوے علاقائی شاخوں میں تقسیم کیا گیا۔ مقصد پارٹی کی ممبر سازی میں تیزی لانا اور نچلی سطح تک منظم ہونا تھا۔ نوجوانوں کو ساتھ ملانے کے لیے ہٹلر یوتھ بنی۔ پارٹی رضاکاروں کی پانچ نیم عسکری شاخیں تشکیل دی گئیں۔ مزدوروں، کسانوں، اساتذہ، سرکاری ملازموں، چھوٹے کاروباریوں کی ذیلی تنظیمیں بنا کر انھیں پارٹی کے ساتھ جوڑا گیا۔ نازی پارٹی کی انیس سو تیس کی ممبر شپ دیکھی جائے تو اکیانوے فیصد ممبروں کا تعلق مڈل کلاس سے اور پینتیس فیصد کا مزدور طبقے سے تھا۔

سن تیس کے الیکشن کا انچارج جوزف گوئبلز کو بنایا گیا۔ جس نے انتخابی مہم کو ایک سائنس میں تبدیل کردیا۔ پہلی دفعہ کسی لیڈر نے الیکشن مہم میں تیزی لانے کے لیے ہوائی جہاز کا استعمال کیا۔ ریڈیو پر انتخابی پیغامات دینے کا سلسلہ شروع ہوا۔ رات کو ہزاروں افراد کے مشعل بردار جلوس کی روایت پڑی تاکہ دیکھنے والے مبہوت رہ جائیں۔ لاکھوں کی تعداد میں رنگین پوسٹرز اور بینرز کی مفت تقسیم کا چلن شروع ہوا۔ ہزاروں کے مجمع میں جا کر عام لوگوں سے ہاتھ ملانا، چھوٹے بچوں کو گود میں اٹھا کر پیار کرنا اور تصویر کھچوانا وغیرہ وغیرہ۔

ہٹلر غضب کا مقرر تھا۔ بہت آہستہ آہستہ تقریر شروع کرتا اور رفتہ رفتہ آواز بڑھتی چلی جاتی اور آخر میں مجمع خطابت کی سحر انگیزی سے پاگل ہوچکا ہوتا۔ اقتصادی مسائل اور سیاسی عدم استحکام سے تنگ آدمی جلسے سے باہر نکلتا تو ہر ایک کے پاس کوئی نہ کوئی خواب ضرور ہوتا۔ بے روزگاروں کو روزگار، دیوالیہ کاروباریوں کے لیے قرضے، صنعت کاروں کو ٹیکس کی چھوٹ، فوج کی سابقہ عظمت کی بحالی، طبقاتی فرق میں کمی، سیاسی افراتفری کا خاتمہ، ایک مضبوط حکومت قائم کرکے بدعنوانی سے پاک ایسے عظیم جرمنی کی تعمیر کا خواب جو معاہدہ ورسائے کی غلامانہ زنجیریں کاٹ پھینکے۔ رگوں میں خالص آریائی خون رکھنے والی شاندار قوم کا عظیم الشان جرمنی جس میں یہودی بینکروں اور کیمونسٹوں کے لیے کوئی جگہ نہ ہوگی۔

تین اکتوبر انیس سو تیس کو جرمن پارلیمنٹ کا افتتاحی اجلاس ہوا تو ایک سو سات نازی ممبر ایک ساتھ ہال میں داخل ہوئے اور جب اسمبلی کے صدر نے ایک ایک کا نام پکارا تو ہال میں ”پریزنٹ ہائل ہٹلر“ کا نعرہ ایک سو سات دفعہ گونجا۔

اب سوال یہ ہے کہ ہٹلر جس نے انیس سو بیس میں جرمن ٹیکس حکام کو بتایا تھا کہ وہ ایک ایسا غریب اخباری لکھاری ہے جس کے پاس گاڑی بھی ادھار کی ہے۔ اسی ہٹلر کی جماعت نے اگلے چھ برس میں بارہ سیٹوں سے ایک سو سات سیٹوں تک جو زقند لگائی تو وسائل کہاں سے آئے۔

انیس سو چوبیس تک بہت سے جرمن کاروباریوں نے آگے کے حالات بھانپ لیے تھے۔ وہ پہلی عالمی جنگ کی تباہ کاریوں سے بدحال جرمنی میں بڑھتی کیمونسٹ طاقت سے خائف تھے اور سوشل ڈیموکریٹس کے حامی تھے مگر کچھ سرمایہ کاروں نے جرمنی کے اقتصادی و سیاسی مسائل کا حل ہٹلر کی فلاسفی میں دیکھنا شروع کیا چنانچہ انیس سو چوبیس کے بعد سے نازی پارٹی جرمن کارپوریٹ سیکٹر کی سرپرستانہ نگاہوں میں آنی شروع ہوئی۔ معروف اسٹیل صنعت کار فرٹز تھائیسن نازی پارٹی کا باقاعدہ ممبر بنا۔ ہیوگو سٹائنز کی بزنس فیملی نے نازیوں کے ہفت روزہ وولکشر بیوباختر کو روزنامہ بنانے میں مدد دی۔ کیمیکلز اور دواساز کمپنی آئی جی فاربین کی طرف سے مالی معاونت شروع ہوئی اور انیس سو تیس کی انتخابی کامیابی کے بعد تو نازی پارٹی ایسا سیاہ گھوڑا بن گئی جس پر کارپوریٹ سیکٹر آنکھیں بند کرکے شرط بد سکتا تھا۔

انیس سو اکتیس میں کوئلے کی کانوں کے سیٹھوں کی تنظیم نے ہر ایک ٹن کوئلے کی فروخت سے حاصل پیسے میں سے آدھا مارک نازی پارٹی کو بطور چندہ دینا شروع کیا۔ اسی سال آئی جی فاربین اور چند دیگر کاروباریوں اور بینکروں نے پانچ لاکھ مارک کا چندہ دیا۔ نازی پارٹی نے اس مقصد کے لیے ڈوش بینک میں نیشنل ٹرسٹی شپ کے نام سے ایک اکاؤنٹ قائم کیا جو ہٹلر کے نائب رڈولف ہس کے نام پر تھا۔

انیس سو بتیس میں جب جرمنی میں بے روزگاری بین الاقوامی کساد بازاری کے سبب عروج پر تھی اور کوئی قومی جماعت اپنے طور پر یا باہمی نفاق کے سبب مخلوط حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں تھی تو جولائی کے پارلیمانی انتخابات میں نازی پارٹی اپنی پچھلی کامیابی کو دوگنا کرتے ہوئے دو سو تیس نشستیں حاصل کر کے سب سے بڑی پارلیمانی پارٹی کے طور پر ابھری۔ مگر پانچ سو ستتر کے ایوان میں دو سو اناسی کی سادہ اکثریت کسی کے پاس نہیں تھی مگر کوئی کیمونسٹوں، سوشل ڈیموکریٹس اور نازیوں میں سے کوئی کسی کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت بنانے پر تیار نہیں تھا چنانچہ صرف چار مہینے بعد دوبارہ الیکشن کرانے پڑ گئے لیکن کساد بازاری کی شدت میں کمی کے سبب نازیوں کی سیٹیں دو سو تیس سے کم ہو کر ایک سو چھیانوے رہ گئیں۔ صدر وان ہنڈن برگ نے اگلے دو مہینے حکومت بننے کے انتظار کے بعد جنوری تینتیس میں پہلی دفعہ نازیوں کو حکومت سازی کی دعوت دی اور ہٹلر نے چانسلر کا حلف اٹھا لیا مگر یہ بھی دیوار پر لکھا تھا کہ کوئی پارٹی نازیوں سے حکومت سازی میں تعاون نہیں کرے گی لہٰذا پھر انتخابات کرانے پڑیں گے۔

بیس فروری کو اسمبلی کے صدر (اسپیکر) ہرمن گوئرنگ کے گھر پر جرمن بزنس اور انڈسٹری کے باسز کو مدعو کیا گیا۔ شرکاء میں سب سے بڑی اسٹیل اور اسلحہ ساز کمپنی کرپ کے مالک الفرڈ کرپ وان بوہلن کے علاوہ آئی جی فاربین، اے ای جی اور اوسرم سمیت تیرہ بڑے صنعتی و تجارتی نمایندے اور سرمایہ کار شریک ہوئے۔ ہٹلر نے تقریباً ڈھائی گھنٹے ان سے خطاب کیا۔ لبِ لباب یہ تھا کہ اس وقت ایک ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو ملک کو متحد کرکے تعمیرِ نو کر سکے۔ اگر جلد ایسا نہ ہوا تو کیمونزم جرمنی کو کھا جائے گا۔ اس تقریرِ پرتاثیر کے نتیجے میں کارپوریٹ سیکٹر نے تین ملین مارک کا فنڈ قائم کیا۔ یہ اتنی بڑی رقم تھی کہ الیکشن کے بعد بھی اس میں سے چھ لاکھ مارک بچ گئے۔

اس اجلاس کے سات دن بعد پارلیمنٹ کو پراسرار طور پر آگ لگ گئی۔ اگلے دن پارلیمنٹ نے یہ قانون منظور کیا کہ کابینہ پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر اگلے چار ماہ تک ضروری قانون سازی کرسکتی ہے چنانچہ بنیادی شہری حقوق معطل ہوگئے۔ پارلیمنٹ کی آتشزدگی کے الزام میں کیمونسٹوں کی پکڑ دھکڑ شروع ہوگئی۔ الیکشن کا اعلان ہوا۔ تربیت یافتہ نازی نوجوانوں نے سڑکوں اور گلیوں میں مخالفین کی مارپیٹ شروع کردی اور جلسے خراب کیے گئے۔ مارچ تینتیس کے الیکشن میں نازیوں کو دو سو اٹھاسی سیٹیں مل گئیں یعنی سادہ اکثریت سے ایک کم۔ انھوں نے دائیں بازو کے چند غیر نازی ارکان کو توڑا اور ہٹلر باقاعدہ چانسلر بن گیا۔

انیس سو پچیس میں ناگپور کے ڈاکٹر کیشو بالی رام ہیگواڑ نے راشٹریہ سیوامک سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی بنیاد رکھی۔ اس کا مقصد ہندوستان کو خالص آریائی ہندو راشٹر بنانا تھا۔ ہٹلر کی طرح آر ایس ایس نے بھی اپنی خالص آریائی شناخت ابھارنے کے لیے سواستیکا کا نشان اپنایا۔ آر ایس ایس کی بنیادی قیادت جو مہا دیو سداشیوگول والکر، ونائک دمودر ساورکر اور ہیگواڑ پر مشتمل تھی اسے ہندو راشٹر کی منزل مسولینی کی فاشسٹ اور ہٹلر کی نازی آئیڈیا لوجی میں صاف نظر آرہی تھی۔ گولوالکر نے اپنے ایک مضمون میں ہٹلر کی یہود دشمن پالیسی کو سراہتے ہوئے مسلمانوں کا ذکر کیے بغیر لکھا۔ ”غیر ملکی عناصر کے لیے دو ہی راستے ہیں۔ یا تو اکثریتی گروہ میں ضم ہو کر اس کا کلچر اپنا لیں یا پھر دھرتی چھوڑ دیں۔ یہی اقلیتی مسئلے کا درست اور منطقی حل ہے“۔

اکتیس جنوری انیس سو اڑتالیس کو جب آر ایس ایس کے ایک سابق رکن ناتھورام گوڈسے نے گاندھی جی کو قتل کردیا تو آر ایس ایس پر پابندی لگا دی گئی۔ انیس سو اکیاون میں آر ایس ایس نے ڈاکٹر شیاما پرشاد مکھر جی کی قیادت میں بھارتیہ جن سنگھ کے نام سے اپنی ذیلی سیاسی شاخ تشکیل دی۔ جن سنگھ نے انیس سو باون میں ملک کے پہلے عام انتخابات میں لوک سبھا کی صرف تین نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ انیس سو ستاون کے انتخابات میں اسے چار، باسٹھ میں چوہتر، سڑسٹھ میں پینتیس اور اکہتر کے الیکشن میں بائیس نشستیں ملیں۔ انیس سو ستتر کا الیکشن آر ایس ایس نے اندرا گاندھی کی ایمرجنسی کے خلاف بننے والے اتحاد جنتا پارٹی کے بینر تلے لڑا لیکن جب انیس سو اسی کے انتخابات میں جنتا پارٹی کو شکست ہوگئی اور اتحاد بکھر گیا تو بھارتیہ جن سنگھ نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے نام سے جنم لیا۔

نئی پارٹی نے انیس سو چوراسی کے انتخابات میں دو سیٹیں حاصل کیں لیکن اس کے فوراً بعد ایودھیا میں رام مندر بناؤ تحریک کے نتیجے میں اسے انیس سو نواسی میں پچاسی نشستیں، اکیانوے میں ایک سو بیس اور چھیانوے میں ایک سو چھیاسٹھ نشستیں ملیں۔ بی جے پی نے سادہ اکثریت نہ ہونے کے باوجود حکومت بنانے کی کوشش کی مگر سولہ دن بعد یہ حکومت مستعفی ہوگئی لیکن جب انیس سو اٹھانوے میں ایک سو بیاسی سیٹیں ملیں تو پہلی مرتبہ آر ایس ایس کو بی جے پی کی شکل میں واجپائی کی قیادت میں حکومت بنانے کا موقع ملا لیکن دو ہزار چار کے انتخابات میں بی جے پی گجرات میں قتلِ عام سے پیدا ہونے والی بے یقینی اور اقتصادی ترقی کے ثمر میں عام آدمی کو شریک نہ کرنے کے سبب انڈیا شائننگ کا نعرہ لگانے کے باوجود کانگریس کے ہاتھوں شکست کھا گئی اور دو ہزار نو میں بھی اسے اندرونی انتشار کے سبب صرف ایک سو سولہ نشستیں ملیں جو پچھلے الیکشن کے مقابلے میں اکیس کم تھیں۔ تو پھر ایسا کیا معجزہ ہوا کہ بی جے پی کے سیاسی اتحاد نے دو ہزار چودہ کے الیکشن میں اگلے پچھلے سارے ریکارڈ توڑ دیے اور بھارت کو تیس سال بعد ایسی حکومت مل گئی جو اپنی معیاد مکمل کرنے کے لیے سیاسی اتحادیوں کے رحم و کرم پر نہیں۔ کیا یہ گجرات ماڈل کی کامیابی ہے یا سن تیس کے جرمن کارپوریٹ ماڈل کی چمتکاری ہے۔

انیس سو تیس، بتیس اور تنیتیس کے پارلیمانی انتخابات میں جرمن کارپوریٹ سیکٹر نے شاید یہی سوچ کر انتخابی ریس میں ہٹلر نامی گھوڑے پر شرط لگائی تھی۔ کیونکہ جرمن کیمونسٹوں اور سوشل ڈیموکریٹس پر تو شرط نہیں بدی جاسکتی تھی۔ چنانچہ منطقی انتخاب مضبوط اور فیصلہ کن شخصیت کا مالک ہٹلر ہی تھا جو جمہوریت اور کثیر جماعتی نظام کی افادیت پر یقین رکھے نہ رکھے مگر ایک مستحکم معیشت کے ستون بننے والوں کے لیے راستہ صاف کرسکے۔

ہٹلر کے مددگار سرمایہ کاروں کو اس کا صلہ جنگی معیشت کو تیزی سے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے اسٹیل سازی، اسلحہ سازی، کیمیکل سازی کے ٹھیکوں کی شکل میں ملا۔ بھاگتے یہودیوں کا کاروبار اونے پونے داموں ہاتھ آگیا اور چند برس بعد روس سے فرانس تک کا مقبوضہ علاقہ، کاروبار اور بینک، مشرقی یورپ کے کنسنٹریشن کیمپوں کے قیدی بشمول لاکھوں غلام مزدوروں سستی یا مفت افرادی قوت کی صورت میں دستیاب ہو گئے۔ اور ان سب سے حاصل ہونے والا منافع غیرجانبدار سوئٹزرلینڈ کے بینکوں میں جمع کرایا جانے لگا۔

سن چوراسی میں جب آر ایس ایس کے سیاسی بازو بھارتیہ جن سنگھ نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے روپ میں پہلا الیکشن لڑا تو اس کے ہاتھ لوک سبھا کی صرف دو سیٹیں آئیں۔ چنانچہ بی جے پی نے اپنا ووٹ بینک بڑھانے کے لیے رام مندر کی تعمیر کا ایشو اٹھایا اور اگلے پانچ قومی انتخابات میں اس کا ووٹ بینک ساڑھے تین فیصد سے اٹھ کر بیس فیصد کے اوسط پر آگیا۔ لیکن دو ہزار نو کے الیکشن میں بی جے پی کا ووٹ بینک کم ہو کر تقریباً انیس فیصد پر پہنچ گیا۔ اور پھر دو ہزار چودہ کے انتخابات میں اسی بی جے پی نے اکتیس فیصد ووٹروں کا اعتماد حاصل کرلیا۔ یعنی دیگر پارٹیوں کے تقریباً بارہ فیصد ووٹروں نے اپنا وزن بی جے پی کے پلڑے میں ڈال دیا۔ مگر کیوں؟

انیس سو اکیانوے میں جب بھارت کی بند سوشلسٹ معیشت کو آزاد روی کے راستے پر ڈالا گیا تو لائسنس جاری کرنے والے بابو کا زوال شروع ہوا اور مقامی کارپوریٹ سیکٹر نے پھلنا پھولنا شروع کیا۔ ٹاٹا اور برلا آزادی سے پہلے سے بھی کانگریس کی مالی معاونت میں پیش پیش تھے اور آزادی کے بعد بھی۔ سن اسی کے عشرے میں لائسنس راج کی سرپرستی میں دھیرو بھائی امبانی کا ریلائنس گروپ ابھرنا شروع ہوا۔

مگر راجیو گاندھی کے قتل کے بعد سے جب بھارت میں یک جماعتی کے بجائے لگاتار مخلوط مرکزی حکومتوں کا چلن شروع ہوا تو ریلائنس گروپ نے ایک ہی ٹوکری میں انڈے رکھنے کے بجائے انھیں کئی چھوٹی بڑی ٹوکریوں میں پھیلا دیا تاکہ جو بھی اقتدار میں آئے اس سے گروپ کی گروتھ میں فرق نہ پڑے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اس وقت ریلائنس اثاثوں کے اعتبار سے بھارت کا سب سے طاقتور صنعتی گروپ ہے۔ ظاہر ہے باقی کارپوریٹ سیکٹر نے بھی کارپوریٹ لیڈر کی تقلید میں یہی روش اختیار کی تاکہ فائدہ ہو نہ ہو مگر منافع میں خسارہ نہ ہو۔

بی جے پی کو چندہ دینے والا سب سے بڑا روایتی گروہ وہ مڈل کلاس تاجر طبقہ تھا جسے دین و دنیا کی یکساں فکر رہتی ہے۔ جب انیس سو اٹھانوے میں اٹل بہاری واجپائی نے مخلوط حکومت بنائی تو بیس سے زائد اتحادی جماعتوں کو ساتھ لینے کی مشکل میں ان کے ہاتھ بندھے رہے اور بی جے پی کی جو بھی اقتصادی فلاسفی تھی اس پر پوری طرح عمل درآمد نہیں کرپائی۔ لہذا واجپائی جی کو من موہن سنگھ اقتصادی ماڈل پر ہی تکیہ کرنا پڑا۔ چنانچہ ترقی کی شرح ضرور چار سے سات فیصد تک رہی لیکن اس کا شہری مڈل کلاس کو فائدہ پہنچا اور دیہی ہندوستان میں رہنے والی ساٹھ فیصد آبادی کی روزمرہ زندگی میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی۔ لہٰذا دو ہزار چار کے انتخابات میں چند بڑے شہروں میں انفراسٹرکچر کی ترقی تو انڈیا شائننگ کے الیکشن نعرے میں دکھائی دے رہی تھی مگریہ نعرہ مزدور اور کسان کے پلے نہیں پڑ رہا تھا۔ نتیجہ بی جے پی اتحاد کی شکست اور کانگریس کی فتح کی صورت میں نکلا۔

مگر بھارت کے ایک کونے میں سن دو ہزار میں ایک ایسی تبدیلی آئی جس کا اس وقت کسی نے کوئی خاص نوٹس نہیں لیا۔ مغربی بھارت کی ریاست گجرات میں نریندر مودی بی جے پی کے وزیرِ اعلیٰ بن گئے۔ اور انھوں نے گجرات کی سوشیو پولٹیکل لیبارٹری میں اقتصادی لبرلائزیشن اور اندرونی فاشزم کی ایک موثر کاک ٹیل تیار کی جس کے نتیجے میں ایک جانب تو بڑے سرمائے کو ریاست میں راغب کرنے کے لیے زمین کے حصول، قرضوں کی دستیابی اور ماحولیاتی قوانین کو لچکدار اور سہل بنایا گیا۔

دوسری جانب ووٹ بینک کو بڑھانے اور پکا کرنے کے لیے مذہبی شدت پسندی کا سستا ٹکاؤ پائیدار راستہ اختیار کیا گیا جس کا نتیجہ فروری مارچ دو ہزار دو کے عظیم گودھرا بلوے کی شکل میں نکلا۔ جس طرح نازی جرمنی میں اکثریت کو مصروف رکھنے کے لیے یہودیوں کی شکل میں ایک پنچنگ بیگ فراہم کردیا گیا تھا اسی طرح گجرات میں مسلمان اقلیت جو کل ریاستی آبادی کا لگ بھگ نو فیصد ہے شدت پسند تجربات کے لیے پنچنگ بیگ بن گئی۔ اس کے بعد مودی نے لگاتار چار ریاستی انتخابات بھاری اکثریت سے جیتے اور ریاست پر عملاً یک جماعتی بلکہ یک شخصی حکومت قائم ہوگئی۔

کارپوریٹ سیکٹر کے لیے ایسی حکومتوں سے معاملہ کرنا ہمیشہ آسان ہوتا ہے۔ چنانچہ جب بنگال نے ٹاٹاکے نینو کار پروجیکٹ کو کسانوں میں زرخیز زمین سے محروم کی بے چینی کے سبب ہری جھنڈی دکھا دی تو مودی نے اس پروجیکٹ کو گجرات منتقل کرنے کی فوری پیش کش کردی۔ بیرونی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لیے صنعتی بدامنی سے پاک ریاست کی مارکیٹنگ کی گئی اور فورڈ اور جنرل موٹرز، اسرائیلی کمپنیاں اور ہندوستان کے تمام بڑے بڑے ٹیلی کام، پیٹرو کیمیکل اور دیگر بھاری مصنوعات ساز گجرات آنے لگے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ بھارت کی مجموعی اقتصادی گروتھ تو دس برس کے عرصے میں نو فیصد کا ہندسہ چھو کر ساڑھے چار فیصد تک پہنچ گئی لیکن اس دوران گجرات کی معیشت دس فیصد سالانہ کی بڑھوتری ہی دکھاتی رہی۔

ایک اندازے کے مطابق بھارت میں ہر سال ایک کروڑ نوجوان ملازمت کی منڈی میں داخل ہوتے ہیں اور انھیں کھپانے کا مطلب یہ ہے کہ ترقی کی سالانہ شرح کم ازکم سات سے آٹھ فیصد کے درمیان ہونی چاہیے۔ کانگریس کے پہلے دور میں (دو ہزار چار تا نو ) ترقی کی شرح کم و بیش سات تا آٹھ فیصد رہی لیکن جب دو ہزار آٹھ میں عالمی کساد بازاری شروع ہوئی تو بھارت کو ساٹھ ارب ڈالر سالانہ کما کر دینے والی آئی ٹی اور آؤٹ سورسنگ انڈسٹری کو بھی بیرونی آرڈرز ملنے کم ہوگئے اس کا اثر دیگر شعبوں پر بھی پڑنے لگا لہٰذا شرح ترقی آہستہ آہستہ گرتی چلی گئی اور دو ہزار گیارہ کے بعد اس کا اوسط چار تا پانچ فیصد کے درمیان آگیا۔

ایسے موقع پر کانگریس کے امیج پر جلتی پر تیل کا کام پے درپے سامنے آنے والے میگا کرپشن اسکینڈلز نے کیا۔ پہلے ایشین گیمز کے تعمیراتی کام میں اربوں کا گھپلا، پھر ٹو جی ٹیلی کام لائسنس کی نیلامی میں لگ بھگ سترہ ارب روپے کا گھپلا، پھر کوئلے کی کانوں کی لیز من پسند صنعت کاروں کو ٹکے سیر بیچنے کا اسکینڈل۔ ساتھ ہی ساتھ کنگ فشر ایئرلائن کا دیوالیہ اور سیکڑوں دیگر کمپنیوں کا ڈوبنا۔ چنانچہ مڈل کلاس نے کرپشن کے خلاف مزاحمت شروع کردی اور پہلے انا ہزارے کی تحریک اور پھر اروند کیجری وال کا ظہور ہوا۔ دوسری جانب گجرات میں مودی کی اقتصادی پرفارمنس کے سبب ہندوستان کا کارپوریٹ سیکٹر اس نتیجے پر پہنچ گیا کہ جب تک کانگریس کے وزنی کچھوے کو گجرات ماڈل کا اقتصادی خرگوش پیچھے نہیں چھوڑے گا تب تک معیشت لنگڑاتی ہوئی چلتی رہے گی۔

بی جے پی نے اپنی پے درپے دو شکستوں سے یہ سبق لیا کہ صرف مذہبی شدت پسندی ایک حد تک ہی بیچی جا سکتی ہے۔ لہٰذا بی جے پی نے بدعنوانیوں کے خلاف مڈل کلاس کی بے چینی کو ہائی جیک کرکے کیش کرانے کا فیصلہ کرلیا اور رام مندر کے معاملے کو انتخابی تانگے کی پچھلی سیٹ پر بٹھا دیا۔ لیکن مودی کے ماتھے پر چونکہ دو ہزار دو کے مسلم کش فسادات کا ٹیکہ لگا ہوا تھا اس لیے بی جے پی مودی کو وزیرِ اعظم کا امیدوار بنانے کے بارے میں خاصی ہچکچاہٹ کا شکار تھی۔ چنانچہ کارپوریٹ سیکٹر نے براہ راست مودی کو اگلے وزیرِاعظم کے طور پر اتارنے کا بیڑہ اٹھایا۔ سب سے پہلے رتن ٹاٹا نے دو ہزار بارہ میں یہ خواہش ظاہر کی کہ ملک کو مودی جیسا شخص چاہیے۔ پھر ریلائنس کے امبانی برادرز نے بھی اس بات کو آگے بڑھایا۔

دو ہزار بارہ میں ہی دو برس بعد ہونے والے انتخابات کی حکمتِ عملی کارپوریٹ بورڈ روم میں تیار ہونے لگی اور یہ نقشہ بنایا گیا کہ انتخابی مہم میں ڈجیٹل بمباری کی جائے بالکل ایسے جیسے بالی وڈ کی کسی بھی فلم کو سو کروڑ روپے کے کلب میں لانے کے لیے فلم ریلیز ہونے سے پہلے ایسا اشتہاری طوفان اٹھایا جاتا ہے کہ عام آدمی اس طوفان کی تاب نہ لاتے ہوئے بادلِ نخواستہ فلم دیکھ ہی لیتا ہے۔ اور جب پہلے ہفتے میں فلمساز کو سو کروڑ روپے کا ہدف حاصل ہوجاتا ہے تو دوسرے ہفتے میں فلم ڈوبے یا تیرے اس کی بلا سے۔ چنانچہ جب ستمبر دو ہزار تیرہ میں اتخابات سے سات ماہ پہلے مودی نے اپنی انتخابی مہم کا آغاز کیا تو اس مہم کا نقطہ صرف اور صرف مودی کے گجرات اکنامک ماڈل کو بنایا گیا۔ بی جے پی نے بطور پارٹی ثانوی حیثیت اختیار کرلی تاکہ جو لوگ بی جے پی کے نظریے سے الرجک ہیں وہ مودی کے نام پر ہی ووٹ ڈال دیں۔ ذرایع ابلاغ میں اشتہاری سونامی آگیا اور اس قدر اشتہاری گڑ ڈالا گیا کہ ہر ٹی وی چینل مودی مودی کرنے لگا۔ کانگریس اور مودی کی اشتہاری مہم کا تناسب ایک اور پچاس ہوگیا۔

کہاں بی جے پی دو ہزار نو کے انتخابات میں بھارتی سرمایہ داروں اور سیاستدانوں کے پندرہ سو ارب ڈالر کے کالے دھن کی سوئس بینکوں سے واپسی پر کمربستہ تھی اور کہاں دو ہزار چودہ کے انتخابات میں مودی کے انتخابی فنڈ میں تیرہ سو چونتیس بڑے صنعت کاروں نے چندہ دیا جب کہ کانگریس کو محض چار سو اٹھارہ سرمایہ کاروں کی جانب سے ہی چندہ مل پایا۔

اب جب کہ مودی وزیرِ اعظم بن گئے ہیں کیا وہ سوویت یونین ٹوٹنے کے بعد کے روسی ماڈل کی طرح سرکاری سیکٹر کو ٹکے سیر طفیلی سرمائے کو دے دیں گے یا پھر ترقی کا چینی ماڈل اپنائیں گے جس میں سرکاری، نجی اور بیرونی ساتھ ساتھ برابری سے چلتا ہے۔ ماڈل کوئی بھی ہو دیکھنے کی بات یہ ہوگی کہ دو ہزار انیس کے انتخابات تک بھارتی کسانوں کی خود کشیوں میں کتنی کمی آتی ہے جو اس وقت بارہ ہزار سالانہ کے لگ بھگ ہے۔ نکسل تحریک کا زور کتنا ٹوٹتا ہے جو اس وقت شمالی اور وسطی بھارت کے قبائلیوں کی زمین چھن جانے کے خوف پر پھل پھول رہی ہے۔ اور مڈل کلاس کو کیا ملتا ہے۔ مودی نے جو خواب دکھائے ہیں اگر وہ اگلے تین برس کے دوران پورے ہوتے نظر نہ آئے تو اس سے اگلے دو برس میں مودی کا سحر ٹوٹنا شروع ہوجائے گا اور یہی وقت ہوگا جب گجرات ماڈل نمبر ٹو سامنے لایا جائے یعنی فرقہ وارانہ کارڈ۔ خدا کرے ایسا نہ ہو۔بشکریہ ہم سب نیوز

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …