جمعہ , 14 مئی 2021

مودی کا دورہ امارات و بحرین، پاکستان کیلئے سبق

(تحریر: محمد سلمان مہدی)

الٹی ہوگئیں سب تدبیریں، کچھ نہ دوا نے کام کیا!! انصافین حکومت کے وزیراعظم عمران خان عرب شاہ و شیوخ کے ڈرائیور تک بن گئے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے خلیجی عرب شاہ و شیوخ کی خارجہ پالیسی پر بھرپور پاکستانی غلاف بھی چڑھائے رکھا، مگر پاکستان حکومت کے حصے میں سوائے ناکامی و رسوائی کے کچھ ہاتھ نہ آیا۔ بھارت کے وزیراعظم نریندرا مودی متحدہ عرب امارات اور بحرین کے اعلیٰ ترین قومی اعزازات لینے میں کامیاب ہوگئے اور ایک ایسے وقت کہ جب مودی سرکار کشمیریوں کی نسل کشی اور ان پر ظلم و ستم میں نئی شدت لاچکی تھی، تب بھی یہ خائن اماراتی و بحرینی شیوخ و شاہ مودی کی آؤ بھگت کرنے سے باز نہ آئے۔ کشمیریوں کی قاتل حکومت کے وزیراعظم مودی کا خلیجی عرب ممالک کا کامیاب دورہ، اماراتی و بحرینی شیوخ و شاہ نے اس سے پاکستان اور کشمیر کے لئے جو پیغام دیا ہے، اس کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

پاکستانی ریاست کے لئے پیغام کے ساتھ عبرتیں بھی ہیں۔ اپریل 2016ء میں سعودی بادشاہ سلمان نے مودی کو اعلیٰ ترین سعودی اعزاز سے نوازا تھا۔ پاکستانی ریاست نے سعودی، اماراتی، بحرینی شاہ و شیوخ کی خدمت میں کبھی کوئی کمی کوتاہی نہیں کی، جبکہ یہ خلیجی عرب ممالک امریکی و برطانوی مفادات کی خاطر پاکستان کو استعمال کرتے آئے ہیں۔ پاکستانی ریاست نے انہی ممالک کا اتحادی، دوست اور شراکت دار بن کر اسی ہزار شہداء و زخمی اور تین سو بلین ڈالر کا مالی نقصان اٹھایا، مگر پاکستان کی مشکلات کے حل میں مدد کے لئے ان میں سے کوئی بھی خلوص کے ساتھ نہ آیا بلکہ پاکستان کو ایڈ کے نام پر قرضے دے کر ہمیشہ نیک نام بنتے رہے۔

حد تو یہ ہے کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے امارات کے دفاع میں یہاں تک کہہ دیا کہ بین الاقوامی تعلقات مذہبی جذبات سے بالاتر ہیں اور یہ بھی کہا کہ متحدہ عرب امارات کو یہ حق ہے کہ وہ اپنی مرضی کے کسی بھی ملک سے دوطرفہ تعلقات رکھے اور ان کے بیان سے یوں لگا جیسے متحدہ عرب امارات نے انہیں اعزازی وزیر دفاع مقرر کر دیا ہو۔ اگر بین الاقوامی تعلقات مذہبی جذبات سے بالاتر ہیں تو پھر 1969ء میں اسلامی ممالک کی تنظیم کیوں بنائی گئی؟؟؟ اگر بین الاقوامی تعلقات مذہبی جذبات سے بالاتر ہیں تو یہ امریکی اتحادی سعودی عرب کے بادشاہ کو کیوں پاکستان میں خادم حرمین شریفین کے نام سے معتبر قرار دیا جاتا رہا؟ اور اس بحرین کو کس خوشی میں افرادی قوت پاکستان نے فراہم کی؟!

30 اگست 2019ء کو وزیراعظم عمران خان نے اماراتی ولی عہد محمد بن زاید کو فون کرکے مظلوم کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے بھارتی مظالم سے متعلق آگاہ کیا اور 31 اگست او آئی سی کے جنرل سیکریٹریٹ نے ایک بیان مسئلہ کشمیر پر جاری کر دیا۔ لیکن اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ مودی حکومت کے برپا کردہ سانحہ 5 اگست کے اگلے روز یعنی 6 اگست 2019ء کو بھارت میں تعینات اماراتی سفیر احمد البنا نے مقبوضہ کشمیر سے متعلق آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنے پر مبنی بھارتی حکومت کے فیصلے کی تائید میں بیان جاری کر دیا تھا۔ اماراتی انگریزی روزنامہ گلف نیوز میں ان کا بیان شائع ہوا۔ اماراتی سفیر نے اس اقدام کو بھارت کا اندرونی معاملہ قرار دیا اور یہی موقف امریکی حکومت کی طرف سے سامنے آیا تھا۔ سانحہ 5 اگست 2019ء کے بعد اعلیٰ ترین اماراتی و بحرینی قومی اعزازات نریندرا مودی کو دے کر امارات و بحرین نے جو کچھ کیا ہے، اس کے بعد ریاست پاکستان کو متبادل آپشنز پر سوئچ کرنے میں زیادہ وقت نہیں لگانا چاہیئے۔

مودی حکومت کے دور میں لائن آف کنٹرول، ورکنگ باؤنڈری پر، مقبوضہ کشمیر میں، ہر طرف بھارت انٹرنیشنل لاء کی خلاف ورزی کرتا رہا ہے۔ حتیٰ کہ بھارت نے پاکستان میں در اندازی کی اور پاکستان نے ستائیس فروری 2019ء کو بھارت کو کرارا جواب دیا تو یہی امارات و سعودی پاکستان کو بھارت کے پائلٹ کو آزاد کروانے کی ڈکٹیشن لے کر پہنچ گئے تھے اور اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اس کے بعد پاکستان کی تذلیل اس طرح کی کہ اس وقت بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج کو اسلامی ممالک کی تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس میں مدعو کیا۔ پاکستان کا احتجاج مسترد کر دیا۔ مگر نہ تو پاکستان کی ریاست نے اور نہ ہی حکومت نے اس سے کوئی سبق سیکھا، بلکہ ریاست و حکومت کے بڑے ہمیشہ پاکستان کے ہم نظریہ اور ہم فکر ممالک پر امریکی مغربی بلاک کو، جی سی سی ممالک اور خاص طور سعودیہ و امارات کو ترجیح دیتے رہے۔

یاد رہے کہ پاکستان حکومت، ریاست، قوم کا متفقہ موقف یہ ہے کہ بھارت کا کشمیر پر آرٹیکل 370 کے تحت بھی جو کنٹرول تھا، یہ بھی ناجائز تھا کیونکہ قانونی لحاظ سے کشمیری عوام کو حق خود ارادیت کے لئے رائے دہی کا انتظام بھارت نے کرنا تھا، جو پچھلے سات عشروں سے بھارت نے نہیں کیا۔ انٹرنیشنل کمیشن آف جورسٹس کے سیکرٹری جنرل سام ظریفی نے 6 اگست کو جو بیان جاری کیا، اس میں انہوں نے کہا کہ بھارت نے انٹرنیشنل لاء کی جو خلاف ورزی کی سو کی، خود بھارتی آئین کی بھی خلاف ورزی کی، کیونکہ آرٹیکل 370 یکطرفہ طور پر منسوخ نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اب ریاست و حکومت کے بڑے قوم کو بتائیں کہ سعودی عرب، امارات اور بحرین کا کیا موقف ہے؟! کیا وہ پاکستان اور کشمیر کے ساتھ کھڑے ہیں یا پھر بھارت کے ساتھ؟! اور اگر بھارت کے ساتھ کھڑے ہیں تو یہ پاکستان سے وفاداری نہیں بلکہ پاکستان کے ساتھ خیانت ہے کہ مودی کے یاروں کو دوست قرار دیا جاتا رہے۔

ریاست پاکستان کے پاس متبادل آپشنز تو شروع سے ہی موجود رہے ہیں، لیکن طول تاریخ میں ریاست کے بڑے مغربی بلاک کے منصوبوں مین کاندھا فراہم کرتے آئے، جس کی وجہ سے دنیا میں پاکستان کا اچھا امیج نہ بن سکا۔ آج کے اس پرفتن دور میں چین کے ساتھ ساتھ روس اور ایران کے ساتھ بھی تعلقات بہتر بنانے کے لئے تیزی دکھائی جاتی تو آج یہ مشکل پیش نہ آتی۔ کم از کم کشمیر کے ایشو پر پوری دنیا میں جو ملک پاکستان کے ساتھ کھڑا ہوسکتا ہے، وہ ایران کے علاوہ اگر کوئی اور ہے تو بتائیں؟! امام خامنہ ای نے واضح طور پر بھارتی حکومت کو پیغام دے دیا ہے کہ کشمیریوں کے ساتھ منصفانہ روش اختیار کرے اور بدمعاشی سے باز رہے۔ ایران کے نماز جمعہ کے اجتماعات، عید الاضحیٰ کے اجتماعات میں، ایران کی پارلیمنٹ میں کشمیریوں کے حق میں قرارداد، تہران میں بھارتی ہائی کمیشن یعنی سفارتخانے کے باہر ایرانی طلباء کا احتجاجی مظاہرہ، اگر کسی اور ملک میں اسکی کوئی مثال موجود ہے تو بتائیں۔

آج جو کچھ ہو رہا ہے، یہ سب کچھ مکافات عمل ہے۔ بحرین میں اکثریتی آبادی کو اقلیت میں تبدیل کرنے میں کون سہولت کار بنا؟ کس نے بھرتیاں کرکے اپنے شہری بحرین بھیجے اور بحرین کے شہریوں پر کیا جانے والا ظلم و ستم کیا مقبوضہ کشمیر سے کم تھا؟! سعودی و اماراتی افواج نے یمن میں عرب مسلمانوں پر جو جنگ مسلط کر رکھی ہے تو کیا ریٹائرڈ جنرل راحیل شریف صاحب کو یہ زیب دیتا تھا کہ سعودی بادشاہت کی ملازمت اختیار کرتے؟! یاد رکھیں کہ یہ پورا کھیل زایونسٹ لابی کا ہے، جو مقبوضہ کشمیر و آسام سے لے کر بحرین و یمن، عراق و لبنان و شام تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ زایونسٹ بساط ہے اور مکافات عمل کی زد پر سبھی نے آنا ہے۔

زایونسٹ لابی کسی کی بھی نہیں۔ وہ امریکی صدر ٹرمپ کو ان کے داماد جیرڈ کشنر کے ذریعے استعمال کر رہی ہے۔ کشنر عرب شاہ زادوں کو استعمال کر رہے ہیں جبکہ عرب شاہ زادے پاکستان کو اس کھیل میں گھسیٹنا چاہتے ہیں اور مودی بے وقوف تو راضی خوشی زایونسٹ لابی کے اس کھیل کا مہرہ بن چکا ہے۔ اب یہ آنے والا وقت بنائے گا کہ اس کھیل میں یہ سب مہرے کس بری طرح پٹیں گے۔ مودی کے لئے تاریخ کا پیغام یہ ہے کہ جب پچھلے سات عشروں میں کشمیر پر اسکا قبضہ قانونی نہ ہوسکا تو اگلے سات عشروں میں کیسے ہوگا؟؟؟ پاکستان کے لئے تاریخ کا پیغام یہ ہے کہ ایک نظریاتی مملکت ہی ایک نظریاتی ملک کی دوست ہوسکتی ہے، یعنی ایران نہ کہ سعودیہ، امارات یا بحرین۔ ایک اور سبق یہ بھی ہے کہ اگر بہتر متبادل کو چھوڑ کر بدتر اسٹیٹس کو برقرار رکھیں گے تو پھر وہ بہتر متبادل بھی مستقل بنیادوں پر آپ کے انتظار میں وقت ضائع نہیں کرے گا، وہ بھی آپ سے زیادہ بہتر متبادل سے قربت پیدا کرلے گا۔ وقت کم ہے جناب!

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …