جمعہ , 14 مئی 2021

امام حسین علیہ السلام ولید ابن عتبہ کے دربار میں

(سیدہ سائرہ بانو)

بانی انقلاب اسلامی ایران حضرت امام خمینی رح کا قول ہے: "اسلام کتنا عظیم مذہب ہے کہ اس پر امام حسین علیہ السلام جیسی شخصیت بھی قربان کی جا سکتی ہے۔” واقعہ کربلا کے تناظر میں امام خمینی رح کا یہ قول بالکل درست معلوم ہوتا ہے۔ سن 60 ہجری میں معاویہ ابن سفیان کی موت کے بعد یزید ابن معاویہ مسندِ خلافت پر بیٹھ گیا۔ معاویہ ابن سفیان نے اپنی زندگی میں ہی اپنے بیٹے یزید کو خلیفہ مقرر کر دیا تھا۔ باپ کی موت کے بعد یزید نے بطور خلیفہ لوگوں سے دوبارہ بیعت کا مطالبہ کیا۔ اس نے مدینہ کے گورنر ولید بن عتبہ کو ایک خط بھیجا جس میں اس نے ولید کو سیدالشہداء امام حسین علیہ السلام , عبداللہ ابن زبیر اور عبداللہ ابن عمر سے بیعت لینے کا حکم دیا۔ ولید نے اس مقصد کے تحت مذکورہ شخصیات کو اپنے دربار میں بلایا۔ اس نے امام حسین علیہ السلام سے یزید کی بیعت کرنے کو کہا۔ آپ علیہ السلام نے اس مطالبہ کا جواب انتہائی جامع خطبہ کی شکل میں دیا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا:

"اے امیر! ہم خاندانِ نبوت اور معدنِ رسالت ہیں۔ ہمارے گھر پر فرشتوں کی رفت و آمد رہا کرتی ہے۔ اور ہمارے خاندان پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوتی ہیں۔ اللہ تعالی نے اسلام کو ہمارے گھرانے سے شروع کیا اور آخر تک ہمیشہ ہمارا گھرانہ اسلام کے ہمراہ رہے گا۔ لیکن یزید جس کی بیعت کی تم مجھ سے توقع کر رہے ہو اُس کا کردار یہ ہے کہ وہ شراب خور ہے۔ بے گناہ افراد کا قاتل ہے۔ اس نے اللہ تعالی کے احکام کو پامال کیا اور برسرِعام فسق و فجور کا مرتکب ہوتا ہے۔ مجھ جیسا شخص کسی صورت اُس جیسے شخص کی بیعت نہیں کرے گا۔ اب ہم اور تم دونوں آنے والے وقت کا انتظار کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ ہم میں سے کون خلافت اور بیعت کا زیادہ مستحق ہے۔” (خطبات, فرمودات و مکتوبات حسین ابن علی ۔ مدینہ تا کربلا)

امام کے بیعت سے انکار نے ولید کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ وہ بخوبی جان چکا تھا کہ امام حسین علیہ السلام باطل کے سامنے سر جھکانے والوں میں سے نہیں۔ آپ نے اپنے خطبہ میں دوٹوک الفاظ میں یزید کے خلاف قیام کا اعلان کیا۔ اسی خطبہ سے واقعہ کربلا کا آغاز ہوا اور امام حسین علیہ السلام نے دین کی بقا کی خاطر مدینہ سے ہجرت کا فیصلہ کیا۔ آپ اپنے مختصر خانوادے اور اصحاب کی ہمراہی میں مدینہ سے مکہ کی طرف چل پڑے تاکہ وہاں کے حالات کا جائزہ لیں اور یزید کے مکروہ چہرے کو بےنقاب کریں۔ یہ ہجرت 10 محرم الحرام سن 61 ہجری کو تمام ہوئی اور امام حسین علیہ السلام خلیفہ وقت یزید ابن معاویہ کی مسلط کردہ جنگ میں شہید ہوگئے۔ اناللہ واناالیہ راجعون۔

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …