ہفتہ , 28 مئی 2022

شاپنگ کی عادت کو بیماری قرار دے دیا گیا

جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ خواتین کا شاپنگ سے گہرا تعلق ہوتا ہے اور انہیں چیزیں خریدنا بے حد پسند ہوتا ہے مگر ہر چیز معتدل انداز میں کی جائے تو ہی بہتر ہے کیونکہ کسی بھی چیز کی زیادتی آپ کے لیے نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔

جو خواتین شاپنگ کرنے کی عادی ہوتی ہیں اور وہ شاپنگ کرنے سے اپنے آپ کو روک نہیں سکتیں تو اس عادت کو ہلکا نہ لیں۔

ایک تحقیق کے مطابق 20 لوگوں میں سے ہر ایک فرد کو شاپنگ کرنے کی بہت عادت ہوتی ہے جسے کم لوگ ہی سنجیدگی سے لیتے ہوں گے۔

بحالی صحت کے مرکز نے یہ بات واضح کردی ہے کہ خریداری کی لت کو ایک مرض قرار دے کر اسے قابل علاج مرض کی سرکاری فہرست میں شامل کردیا گیا ہے۔

ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ خریداری کی لت میں مبتلا افراد کو روکنا مشکل لگتا ہے اور اس کا نتیجہ انتہائی نقصان ہوتا ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ خطرناک عادت تباہ کن نوعیت کا طرز عمل ہے۔

پریوری ویب سائٹ میں لکھا گیا ہے کہ خریداری کی لت جسے ’شاپنگ ڈس آرڈر‘ یا ’اونیو مینیا‘ بھی کہا جاتا ہے، یہ معاشی اور معاشرتی طور پر انسان کی نفسیات کو تباہ کر رہا ہے۔

برطانیہ میں اب باقاعدہ طور پر ایسے سینٹرز کا قیام کیا جائے گا جو کہ شاپنگ کی لت میں مبتلا افراد کی نفسیات پر کام کرے گا اور ان کی اس عادت کو ختم کرنے کی کوشش کرے گا۔

یہ بھی دیکھیں

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی، دہشت گرد گروہوں کے لیے ڈراؤنا خواب ہے: ایران

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے امریکی نئی پابندیوں کے ردعمل میں کہا ہے …