پیر , 18 اکتوبر 2021

بن سلمان، سعودی عرب کو لے ڈوبیں گے؟؟؟ (دوسرا حصہ)

یہ بات صحیح ہے کہ یہ انٹرویو، نشر ہونے سے تین دن پہلے ریکارڈ کیا گیا تھا اور اس وقت تحریک انصار اللہ نے تین ہزار فوجیوں کو قیدی بنانے کا اعلان نہیں کیا تھا جس میں بڑی تعداد سعودی فوجیوں کی ہے، یہ اعلان بھی نہیں ہوا تھا کہ اس نے سیکڑوں کی تعداد میں سعودی فوجیوں کی گاڑیوں اور ٹینکوں کو ضبط کر لیا ہے نیز 350 مربع کیلومیٹر کا علاقہ بھی آزاد کرا لیا ہے لیکن یہ طے تھا کہ بن سلمان کو ان تمام واقعات کی اطلاع اس وقت بھی نہیں تھی۔ اسی لئے کہ وہ وزیر دفاع اور ولیعہد ہیں۔

یمن کی تحریک انصاراللہ کی فتح کا تاثر بن سلمان کے لہجے میں صاف نظر آیا۔ اس لئے انہوں نے انصار اللہ ہی نہیں بلکہ ایران کے ساتھ بھی امن کی باتیں کیں۔

صاف نظر آ رہا ہے کہ بن سلمان نے ثالثی کے لئے راستہ کھول دیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ امن و صلح کروا دیں بلکہ وہ شاید واسطوں کو ترغیب دلانے کی کوشش کر رہے تھے۔ یہ صرف اتفاق نہیں ہو سکتا کہ نیویارک میں پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ سعودی عرب نے ان سے درخواست کی ہے کہ وہ ایران سے صلح کے مسئلے میں ثالثی کر دیں اور ٹھیک اسی وقت عراق کے وزیر اعظم عادل عبد المہدی نے جو گزشتہ ہفتے ریاض کے دورے پر گئے تھے، اعلان کیا کہ ان سے بھی سعودی عرب نے ثالثی کی درخواست کی ہے۔

ایران کی حکومت کے ترجمان علی ربیعی نے بھی بتایا کہ سعودی عرب نے صدر روحانی کو خاص طور پر خفیہ پیغام ارسال کیا ہے کہ ایران امن مذاکرات کرے لیکن ایران نے کہا ہے کہ سعودی عرب مذاکرات کو خفیہ رکھنے کی شرط ختم کرے۔

ولیعہد بن سلمان کو جنگ یمن کے تقریبا پانچ سال بعد اب یہ احساس ہوا ہے کہ وہ اس جنگ کو فتح نہیں کر سکتے اور دوسری بات یہ ہے کہ تحریک انصار اللہ جسے ایران کی حمایت حاصل ہے اور جو علاقے میں موجود طاقتور اسلامی محاذ کا حصہ ہے اب دفاعی پوزیشن میں سامنے آ چکی ہے ۔

جاری ہے…

بشکریہ

رای الیوم

عبد الباری عطوان

یہ بھی دیکھیں

عراق: رضاکار فورس الحشد الشعبی کی پریڈ