منگل , 25 جنوری 2022

دنیا کا پہلا خودکار پرواز کرنے والا ہیلی کاپٹر

متعدد کمپنیوں کی جانب سے خودکار ٹیک آف اور لینڈنگ کی صلاحیت رکھنے والے طیاروں کی تیاری پر کام کیا جارہا ہے مگر ایک کمپنی نے دنیا کا پہلا خودکار پرواز کی صلاحیت رکھنے والا کمرشل ہیلی کاپٹر پیش کردیا ہے۔اسکائی رائز نامی اس کمپنی نے کہا کہ اسے مستقبل میں شہروں میں کام کرنے والی فضائی ٹیکسیوں کا حصہ بنایا جاسکتا ہے۔کمپنی کی جانب سے خودکار پرواز کرنے والے ہیلی کاپٹر کی کامیاب آزمائش کی ویڈیو بھی جاری کی گئی ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کو اس وقت موجود ہیلی کاپٹرز میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے اور ویڈیو میں بھی رابنسن آر 44 میں اس کا اضافہ کرکے تجربہ کیا گیا اور امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن کی منظوری کے بعد اس نے پرواز بھری، جس کے اندر 2 پائلٹ بھی بیک اپ کے طور پر موجود تھے۔اسکائی رائز واحد کمپنی نہیں جو خودکار پرواز کی صلاحیت رکھنے والے طیاروں کا خواب دیکھ رہی ہے، اس حوالے سے گوگل، اوبر اور متعدد کمپنیوں کی جانب سے کام کیا جارہا ہے، یہاں تک کہ ائیربس اور بوئنگ بھی ائیر ٹیکسی منصوبوں پر کام کررہے ہیں۔

اسکائی رائز کا پراجیکٹ اس حوالے سے کچھ مختلف ہے کیونکہ یہ ٹیکنالوجی اس وقت استعمال ہونے والے ہیلی کاپٹرز میں بھی استعمال ہوسکتی ہے۔یہ کمپنی ضرور خودکار پروازوں پر ہی توجہ مرکوزن نہیں کررہی بلکہ اس کا سسٹم پرواز کے مختلف پہلوﺅں کو بھی خودکار بناتا ہے۔مختلف سنسرز اسٹیئر، اسٹیبلائز اور ہیلی کاپٹر کو سمت کی رہنمائی میں مدد دیتے ہیں جبکہ دیگر فلائٹ ڈیٹا پر بھی نظر رکھی جاتی ہے۔ہیلی کاپٹر کو مسلسل مانیٹر کیا جاتا ہے تاکہ وہ حفاظتی حد سے آگے نہ نکل سکے خصوصاً ہنگامی حالات میں۔خودکار ٹیک آف اور لینڈ کو ہیلی پیڈ میں نصب سنسرز ان ایبل کرتے ہیں اور یہ سنسرز ہیلی کاپٹر سے رابطہ قائم کرنے کے ساتھ موسم پر نظر رکھتے ہیں تاکہ محفوظ پرواز کو ممکن بنایا جاسکے، جبکہ پرندوں اور ڈرونز پر بھی نظر رکھتے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

واٹس ایپ اسٹیٹس کے لیے بہترین فیچر کی آزمائش

اگر آپ واٹس ایپ پر بہت زیادہ اسٹیٹس اپ ڈیٹ کرتے ہیں تو اچھی خبر …