پیر , 18 اکتوبر 2021

شہید قاسم سلیمانی اور شہید ابو مہدی مہندس شخصیت کا نام نہیں نظریے کا نام ہے؛ محمد امین شہیدی

اسلام آباد: ایرانی جنرل قاسم سلیمانی پر امریکی حملے کے بعد اسلام آباد میں نکالی گئی ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے امت واحدہ پاکستان کے سربراہ علامہ محمد امین شہیدی نے کہا ہے کہ شہید جنرل قاسم سلیمانی ایک جنرل کا نام نہیں, ایک نظریے کا نام ہے۔ شہید ابومہدی مہندس ایک عراقی کمانڈر کا نام نہیں, ایک نظریہ کا نام ہے۔ جب دنیا میں داعش، النصرہ اور  طالبان جیسی خونخوار تنظیمیں ہوں تو ان سے مقابلہ کرنے کے لیے اللہ قاسم سلیمانی اور ابو مہدی مہندس جیسے لوگوں کو پیدا کرتا ہے۔ داعش اور دیگر دہشت گرد تنظیمیں اس فکر کے حامل لوگ ہیں جو مظلوم انسانوں کا اس طرح قتل عام کرتے ہیں جس کی پوری تاریخ انسانیت میں مثال نہیں ملتی۔ اللہ کا شکر ہے کہ انہوں نے ایسے مجاہد پیدا کیے جنہوں نے ان خونخوار دہشت گردوں کا نہ صرف مقابلہ کیا بلکہ دنیا کو ان کے نجس وجود سے پاک کر دیا۔

انہوں نے کہا شاید ہمارے میڈیا کے دوستوں کو اور عام معاشرے کو ان چیزوں کا علم نہ ہوکہ امریکیوں نے جس طرح سے داعش کے ذریعے جو ظلم اور بربریت کے مظاہرے پوری دنیا میں کیے اس کے لیے ظلم، دہشت اور بربریت کے الفاظ بہت چھوٹے ہیں اور وہ ظلم بہت بڑا ہے۔ ذرا سوچئے اسکول کے معصوم بچوں کو ٹافیاں اور کھلونے دینے کے بہانے جمع کر کے درمیان میں بم رکھ کر پھوڑ دیا جائے اور ان معصوم بچوں کے چیتھڑے ہوا میں اڑا کر ویڈیو پیش کی جائے کہ یہ ہے ہمارا کارنامہ تو یہ امریکیوں کے لیے قابل فخر ہو سکتا ہے سفیانیوں اور داعشیوں کے لیے قابل فخر ہو سکتا ہے لیکن انسانیت کے لیے ان دہشت گردوں کا عمل قابل فخر نہیں ہو سکتا۔ ان دہشت گردوں کا کسی دین سے یا کسی مسلک سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔کسی بھی انسان کے لیے ان دہشت گردوں کا یہ عمل  قابل تحمل ہے نہ قابل قبول۔

انکا کہنا تھا کہ امریکی چہرہ داعش کا چہرہ ہے اس چہرے کے مقابلے میں ابو مہدی مہندس عراق کے اندر کھڑے ہوئے۔اور اسی چہرے کے مقابلے کے لیے قاسم سلیمانی کھڑے ہوئے۔ بڑی باتیں ہو رہی ہیں کہ آجکل یہ ہونا چاہئے وہ ہونا چاہئے اصل جو چیز ہے اس کو ذہن میں رکھیے گا۔ قاسم سلیمانی ایک ہدف کے لیے، ابو مہدی مہندس ایک ہدف کے لیے نکلے تھے ہدف اگر زندہ ہے تو قاسم سلیمانی جیسے کمانڈروں کی شہادت سے فرق نہیں پڑتا۔ اس ہدف کی تکمیل کے لیے سینکڑوں قاسم سلیمانی اٹھیں گے, ہزاروں مہندس اٹھیں گے اور مزید امریکیوں اور ان کے حواریوں کے چہروں کو مخدوش اور روسیاہ کر کے دنیا کو بتا دیں گے کہ ظلم کا خاتمہ یقینی ہے اور عدل کی حکمرانی بھی یقینی ہے۔

یہ یاد رکھیں کہ قاسم سلیمانی یا ابو مہدی مہندس کا انتقام یہ نہیں ہے کہ کسی امریکی جنرل حتیٰ ٹرمپ کو قتل کر دیا جائے۔ قاسم سلیمانی بہت بڑی ہستی ہے ابو مہدی مہندس کے جسم کا ایک بال ہزاروں ٹرمپ اور ہزاروں امریکی جرنیلوں پر بھاری ہے۔ اس نجس العین کا ان ملکوتی ہستیوں سے کیا مقابلہ جو الہٰی ہیں۔ جو فرشتوں کے لیے قابل مبہات ہیں۔ تو پھر انتقام کیا ہونا چاہیے؟ انتقام یہ ہونا چاہیے کہ بیداری کی یہ تحریک اور توجہ کی یہ آواز نسل انسانی کے ہر ہر فرد تک پہنچے اور ہر شخص کا ضمیر اپنے خظے میں زندہ ہو۔ کشمیر، اسلام آباد ، سرینگر، مظفر آباد، گلگت بلتستان، بغداد، دمشق، زینبیہ اور صنعا میں زندہ ہو۔ اس کے نتیجے میں ظلم کا راستہ روکا جا سکے اور عدل کے نفاذ کی راہیں ہموار کی جا سکیں تاکہ اللہ کی حاکمیت قائم ہوجائے اور امام مہدی آخرالزماںؑ (عج) کی عالمگیر حکومت کے لیے میدان ہموار ہو سکے۔

انہوں نے کہا کہ ان شہادتوں کے نتیجے میں بیدار ی کی تحریک آخری فرد تک پہنچے گی۔ شہید جنرل قاسم سلیمانی فرد نہیں, آواز ہے تحریک ہے جدوجہد ہے نظریہ ہے۔ شہید مہندس فرد نہیں, تحریک ہے لہٰذا اسکا انتقام یہ ہونا چاہیے کہ پاکستان کے اندر ایسی فضا قائم ہو جائے کہ امریکی اپنی ایمبیسی چھوڑ کر واپس واشنگٹن پہنچ جائیں اور انہیں محسوس ہو کہ پاکستان کی سرزمین ان کے لیے قابل تحمل اس لیے نہیں ہے کہ پاکستان میں بسنے والے بائیس کروڑ عوام حتیٰ کہ بچے بچے کا دل امریکیوں کی نفرت سے معمور ہے ۔ ان کا انتقام یہ ہے کہ اس پورے خطے سے امریکیوں کا بوری بستر لپیٹ دیا جائے۔

یہ بھی دیکھیں

ایرانی و ہندوستانی وزرائے خارجہ کی ملاقات، باہمی تعاون کے مزید فروغ کے لئے پر عزم

نیویارک: اسلامی جمہوریہ ایران اور ہندوستان کے وزرائے خارجہ کے درمیان اقوام متحدہ کی جنرل …