ہفتہ , 4 دسمبر 2021

“okay”

اوکے (ok) دنیا بھر میں بولا اور لکھا جانے والا وہ لفظ ہے جسے ناخواندہ یا ان پڑھ لوگ بھی بات چیت اور عام گفتگو میں بلا تکلف استعمال کرتے ہیں بلکہ اس میں زیادہ سہولت اور آسانی محسوس کرتے ہیں۔زیادہ تر یہ زبانی اظہار کی ایک صورت اور بول چال کے دوران استعمال ہوتا ہے۔ تاہم ضرورت کے مطابق اسے تحریر بھی کیا جاتا ہے۔کہتے ہیں کہ یہ لفظ امریکا کی سَرزمین سے نکلا اور دنیا بھر میں رضامندی کے اظہار، اجازت دینے کے لیے، قبولیت و آمادگی ظاہر کرنے، کسی چیز یا فرد کی خوبی کو تسلیم کرنے، کسی بات کی تصدیق اور درست ہونے کی توثیق کے لیے استعمال ہونے لگا۔

مشہور ہے کہ امریکی صدر اینڈریو جیکسن نے ایک موقع پر all correct کا ہجّا oll kurrect استعمال کیا جو کہ غلط تھا، مگر ہجّے کی اسی غلطی نے ایک لفظ کو جنم دیا جو سکڑ کر ok ہو گیا۔ تاہم ماہرینِ لسانیات اسے درست نہیں‌ مانتے اور اس واقعے کو کسی کی اختراع قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک اس کا اصل ماخذ ریڈ انڈین لفظ okeh ہے جس سے مراد ٹھیک ٹھاک ہے۔موجودہ دور میں بھی یہ لفظ عام بول چال اور تحریر میں برتا جاتا ہے اور دنیا بھر میں مختلف طریقوں سے لکھا جاتا ہے۔ ان میں سب سے زیادہ عام ok ہے۔ اسی طرح o.k یعنی دونوں حروف کے درمیان فل اسٹاپ لگاکر لکھنا اور ایک صورت okay بھی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

سیالکوٹ میں سری لنکن شہری کے قتل کے دلخراش واقعے پر صدر مملکت عارف علوی کا اظہار افسوس

اسلام آباد: سیالکوٹ میں سری لنکن شہری کے قتل کے دلخراش واقعے کے بعد صدر …