اتوار , 28 نومبر 2021

قطرکی بی اِن اسپورٹس کےسربراہ ناصرالخلیفی پرفیفاعالمی کپ کے حقوق میں بدعنوانیوں پر فردِجرم

فٹ بال کی عالمی فیڈریشن تنظیم (فیفا) کے سابق جنرل سیکریٹری جیروم والک اور بی اِن میڈیا گروپ کے چیئرمین ناصر الخلیفی پر فیفا کے عالمی کپ مقابلوں اور کنفیڈریشن کپ فٹ بال ٹورنا منٹوں میں میڈیا کے حقوق دینے کے معاملات میں بدعنوانیوں کے الزامات میں قصور وار قراردے کر فردِ جرم عاید کردی ہے۔

سوئٹزرلینڈ کے اٹارنی جنرل کے دفتر نے جمعرات کو انھیں ماخوذ قرار دینے کی اطلاع دی ہے۔اس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ والچک پر رشوت وصول کرنے ،مجرمانہ بد انتظامی اور دستاویزات میں جعل سازی کے الزامات میں فرد جرم عاید کی گئی ہے۔الخلیفی اور ایک اور نامعلوم شخص کو والک کو مجرمانہ بدانتظامی پر اکسانے کے الزام میں فرد جرم عاید کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ پیرس سینٹ جرمین کلب کے صدر ناصر الخلیفی پر 2026ء اور 2030ء میں ہونے والے فٹ بال عالمی کپ کے میچوں کے ٹیلی ویژن حقوق بھاری رقوم کے عوض آگے دوسری کمپنیوں کو بیچنے کے الزام کی تحقیقات کی گئی ہے۔ ان کے ایک قریبی ساتھی کے بہ قول جن میڈیا حقوق کی بابت تحقیقات کی گئی ہے،یہ مشرقِ اوسط اور مغربی زون سے متعلق ہیں اور ان ممالک میں بی اِن میڈیاگروپ کے ساتھ مقابلے میں کوئی اور گروپ شریک نہیں تھا۔اس موقف پر یہ سوال اٹھایا گیا تھا کہ اگر ایسا تھا توپھر ناصر الخلیفی نے فیفا کے بعض حکام کے ساتھ سمجھوتے کی کیوں کوشش کی تھی۔

ناصرالخلیفی کے خلاف چار ممالک میں فٹ بال کی عالمی فیڈریشن (فیفا) کے سابق سیکرٹری جنرل جیروم والک کو لاکھوں ڈالرز رشوت دے کر فٹ بال مقابلوں کے بیش قیمت میڈیا حقوق حاصل کرنے کے الزام میں بھی تحقیقات کی گئی ہے۔اطالوی پولیس کے مطابق انھوں نے مبیّنہ طور پر سردینیا میں واقع 70 لاکھ یورو مالیت کا اپنا ایک وِلاجیروم والک کو استعمال کے لیے دیا تھا۔

گذشتہ سال مئی میں فرانس میں قطر کے ملکیتی بی اِن میڈیا گروپ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ( سی ای او) یوسف العبیدلی پر بھی بدعنوانی کے الزام میں ابتدائی فرد ِجُرم عاید کی گئی تھی۔وہ پیرس سینٹ جرمین کلب کے صدر اوربی اِن کے چئیرمین قطری کاروباری شخصیت ناصر الخلیفی کے قریبی ساتھی شمار ہوتے ہیں۔

یاد رہے کہ فرانسیسی اخبار لی موندے نے نومبر 2016ء میں ایک رپورٹ شائع کی تھی۔اس میں دستاویز کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ بین الاقوامی تنظیم برائے ایتھلیٹکس فیڈریشن ( آئی اے اےایف) کے اس سابق عہدہ دار نے قطری سرمایہ کاروں سے 35 لاکھ ڈالرزدو اقساط میں وصول کیے تھے۔انھیں یہ رقم 2017ء میں ٹریک ورلڈ چیمپئن شپ کی میزبانی کے لیے رائے شماری سے قبل ادا کی گئی تھی۔

قطر اس چیمپئن شپ کی میزبانی لندن کے مقابلے میں ہار گیا تھا لیکن بعد میں اس کو 2019ء میں ہونے والی چیمپئن شپ کی میزبانی کے لیے منتخب کر لیا گیا تھا۔

مذکورہ رقم قطری حکومت سے وابستہ سرمایہ کاری فنڈ اوریکس قطر اسپورٹس انوسٹ منٹس کی جانب سے اکتوبر اور نومبر 2011ء میں پامودزئی اسپورٹس مارکیٹنگ کو ادا کی گئی تھی۔پامودزئی فرم سینی گال سے تعلق رکھنے والے پاپا مساتا ڈیاک نے قائم کی تھی۔ وہ اس سے پہلے آئی اے اے ایف کے مارکیٹنگ کنسلٹنٹ رہے تھے لیکن ان پر 2012ء میں منعقدہ اولمپکس سے قبل روس سے تعلق رکھنے والے ایک میراتھن ایتھلیٹ سے ڈوپنگ کی پابندی عاید نہ کرنے کے عوض ہزاروں ڈالرز لینے کے الزام میں پابندی عاید کردی گئی تھی۔

ڈیاک بین الاقوامی تنظیم برائے ایتھلیٹکس فیڈریشن کے سابق صدرلامین ڈیاک کے بیٹے ہیں۔ لی موندے کی رپورٹ کے مطابق لامین ڈیاک کے خلاف مارچ میں قطری بولی کے حق میں ’’مجہول بدعنوانی‘‘ کے الزام میں فردِ جرم عاید کی گئی تھی۔ قطر کی حمایت کرنے پر یہ رقم ان کے بیٹے کی کمپنی کو منتقل کی گئی تھی۔

یہ بھی دیکھیں

لبنان کو ایرانی تیل کی ترسیل کا سلسلہ جاری

تہران: ایرانی ایندھن کا حامل ایک اور کاروان شام کے راستے لبنان میں داخل ہو …