بدھ , 19 جنوری 2022

امریکی دستاویزات میں تضاد، افغان قیدیوں کا معاملہ الجھ گیا

واشنگٹن:امریکا نے طالبان اور افغانستا ن کیساتھ دستاویزات میں مختلف زبان استعمال کرکے طالبان اور افغان حکومت کے درمیان قیدیوں کے تبادلے سے متعلق معاملے کو الجھا دیاہے۔امریکا طالبان معاہدے میں قیدیوں کی رہائی پیشگی شرط ہے جبکہ افغان اعلامیئے میںانٹر اافغان مذاکرات میںقیدیوں کی رہائی پر غور کرنے پر اتفاق کیاگیاہے۔دوسری جانب ایک سابق امریکی افسر کاکہناہےکہ دیکھتے ہیں کیا افغان فریقین خودیہ معاملہ طے کرلیں گے یا پھریہ بھی امریکا کو حل کرناہوگا۔غیرملکی خبررساںادارے کےمطابق امریکا طالبان معاہدہ کہتاہےکہ افغان حکومت 10 مارچ تک 5ہزار طالبان قیدیوں کو رہاکریگی جبکہ امریکا افغان اعلامیے کہتاہےکہ کابل حکومت صرف اس طرح کی رہائی کی ’’فزیبلٹی‘‘ کے لئے امریکا کی جانب سے اہتمام شدہ مذاکرات میں حصہ لے گی۔یہ مسئلہ امن مذاکرات کی راہ میں ایک ایسے وقت میں نئی رکاوٹ کے طور پر ابھراہے جب طالبان اور افغان حکومتی وفد نے 10 مارچ کو امریکا طالبان معاہدے کے تحت انٹرا افغان مذاکرات کرنے تھے۔

پیرکو طالبان کی جانب سے کہاگیاکہ وہ اس طرح کےنام نہاد انٹرا افغان مذاکرات میں اس وقت تک شرکت نہیں کرینگے جب تک اشرف غنی حکومت ہمارے 5 ہزار قیدی رہا نہیں کرتی۔اتوار کو غنی نے کہاتھاکہ قیدیوں کی رہائی مذاکرات کی پیشگی شرط نہیں، قیدیوں کی رہائی کے فیصلے کا اختیار امریکا کو نہیں، امریکاصرف سہولت کار ہے۔اس معاملے سے وابستہ ایک سابق سینئرامریکی افسر نے بتایاہےکہ سمجھوتہ کرنا پڑے گا ، سوال یہ ہےکہ کیا افغان فریقین خودیہ معاملہ طے کرتے ہیں یا پھریہ بھی امریکا کو کرناپڑیگا۔دستاویزات میں تضاد کے حوالےسے جب ایک اور ذرائع سے پوچھا گیاتو انہوں نے بتایاکہ یہ ایک واضح مسئلہ ہے۔میری ہمدردیاں غنی کیساتھ ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

صنعا پر جارح سعودی اتحاد کی وحشیانہ بمباری، بارہ شہید، گیارہ زخمی

صنعا: جارح سعودی اتحاد کے بمبار جہازوں نے پیر کی شام کو صوبے صنعاء کے …