جمعہ , 14 مئی 2021

پاراچنار، ایک انوکھے کالے قانون کا راج

رپورٹ: روح اللہ طوری

کرم ویلی ٹیچرز ایسوسی ایشن کے صدر اور دیگر نمائندوں نے دفتر انجمن حسینیہ میں انجمن حسینیہ کے سیکریٹری اور تحریک حسینی کے صدر مولانا یوسف حسین جعفری کے ساتھ ایک تفصیلی میٹنگ کی۔ جس میں ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے کرم میں ایجوکیشن کے حوالے سے درپیش مسائل سے انہیں آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ عرصہ دراز سے کرم کو میرٹ کی بجائے مسلک کی بنیاد پر تقسیم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ پاکستان کے دیگر اضلاع میں رائج قانون سے قطع نظر یہاں اپنا خود ساختہ ایک انوکھا قانون رائج ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے تمام اضلاع میں تمام بھرتیاں میرٹ کی بنیاد پر ہوتی ہیں۔ جبکہ کرم میں عرصہ 1992ء سے ایک عرصہ تک ٹو ٹو ون (2۔ 2۔ 1) کے نام سے ایک ظالمانہ قانون رائج تھا۔ جسکے تحت میرٹ کی دھجیاں اڑاتے ہوئے اپر کرم، سنٹرل کرم اور لوئر کرم کو بنیاد بناکر ہر تحصیل کو بالترتیب دو، دو اور ایک سیٹ ریزرو کی گئی تھی۔ جس پر اس وقت کے اساتذہ نے کافی احتجاج کیا۔ مگر انکی کوئی نہیں سنی گئی۔ تاہم کچھ عرصہ قبل وہ خود ساختہ قانون اپنی موت آپ مرگیا۔

انہوں نے کہا کہ عرصہ 15 سال سے یہاں ایک اور خود ساختہ قانون لاگو کیا جاچکا ہے، جس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ بلکہ لوئر کرم کے اساتذہ نے اپنی من مانی اور مقامی انتظامیہ کی آشیر باد سے اس کو لاگو کرایا ہے۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ہر ضلع کی سطح پر ایک ایجوکیشن آفیسر ہوتا ہے۔ جسے ڈی ڈی او کہا جاتا ہے۔ اسکے ماتحت دو یا تین اے ڈی ڈی اوز ہوا  کرتے ہیں۔ جن میں سے ہر ایک کے ماتحت مخصوص سکول ہوتے ہیں۔ مگر صدہ میں وہاں کے اساتذہ کرام نے محکمہ ایجوکیشن کے قوانین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے مفادات کیلئے اپنا ایک الگ قانون بناکر صدہ میں ایڈیشنل ڈی ڈی او کے نئے نام سے 16 یا زیادہ سے زیادہ 17 سکیل کا اپنا ایک ایجوکیشن آفیسر بٹھایا ہے۔ جو ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کے ماتحت نہیں ہوتا بلکہ وہ اپنے اختیارات میں مکمل طور پر آزاد ہوتا ہے۔ اسکے اختیارات کی حد یہ ہے کہ ڈی ڈی او سے چند دن پہلے ہی سنٹرل اور لوئر کرم میں اپنے منظور نظر افراد کی تقرریاں کربیٹھتا ہے۔ بلکہ ایک مرتبہ تو ایسا بھی ہوا کہ اصل ڈی ڈی او ایک بھی تقرری نہ کرسکا۔

جبکہ ایڈیشنل نے اپنے صوابدیدی اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے 75 افراد کو بھرتی کیا۔ ایڈیشنل جس کی پاکستان بھر میں کوئی مثال ہی نہیں، اہلیان کرم کے لئے ایک مسئلہ بنا ہوا ہے، جسکی فریاد ہم اس وقت کے پی اے صاحبان سے لیکر آج کے ڈی سی صاحبان تک کے گوش گزار کرچکے ہیں۔ مگر یہ سب لوگ انکے ساتھ اس لاقانونیت میں شریک کار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس لاقانونیت پر ہم نے ڈائریکٹر آف ایجوکیشن سے احکامات لیکر لائے۔ جنہوں نے واضح احکامات صادر کئے کہ ایک ضلع میں صرف ایک ہی ڈی ڈی او ہوگا۔ مگر یہاں لاکر اسکے احکامات کی دھجیاں اڑائی گئیں۔ انہوں  نے کہا، کہ بعض اوقات ایسی سرگرمیوں میں ایڈیشنل کے ساتھ خود ڈی ڈی او بھی شامل ہوتا ہے۔ انکی لاقانونیت میں ڈی ڈی او کی بھی کبھی کبھی آشیرباد حاصل ہوتی ہے۔ جیسے 2017 میں ایس ایس ٹیز کی تقرریوں کے دوران اس وقت کے اے ای او (ڈی ڈی او) سید حسین آفریدی نے تمام ایجنسیوں میں تقرریوں کے ایک ماہ بعد یہاں تقرریاں کیں۔ تاکہ کرم کے اساتذہ کی سنیارٹی باقی فاٹا کے مقابلے میں کم رہے۔

یہی نہیں بلکہ انہوں نے صدہ کے جونیئر اساتذہ کی تقرریاں بھی اپر کے اساتذہ سے ایک ہفتہ پہلے کرائیں۔ انہوں نے اپنا دکھڑا سناتے ہوئے سیکریٹری انجمن حسینہ اور صدر تحریک حسینی سے کہا کہ مقامی سطح پر تعصب اور ناانصافی کا یہ حال ہے کہ اپر کرم میں پاراچنار جیسے مرکزی شہر میں دو بڑے بڑے ہائی سکولز، نیز شلوزان، زیڑان، مالی کلے، کڑمان وغیرہ جیسے بڑے بڑے سکولوں کے ہوتے ہوئے تین ہاسٹل کی ٹینڈر ہوئی تو تینوں کے تینوں کو افغان سرحد پر موجود افغان نژاد قبائل کے نذر کیا گیا۔ اور انہیں اپنے اس واضح تعصب پر کوئی شرم تک محسوس نہیں ہوئی۔ کہ طوری قوم کو تین میں سے ایک کا بھی اہل نہ سمجھا گیا۔ حالانکہ وہاں ہاسٹل کا کوئی فائدہ نہیں، ایک تو وہاں سکول میں تعداد کا مسئلہ ہے۔ دوسری بات یہ کہ تمام بچے لوکل ہونے کی بنا پر ہاسٹل میں رہتے نہیں۔ انہیں ہاسٹل کی کیا ضرورت ہے۔ ہاسٹل کی ضرورت تو پاراچنار میں سب سے زیادہ ہے۔ اسکے علاوہ دیگر بھی ایسے سکول ہیں، جہاں ایسے طلباء موجود ہیں جو کئی کلومیٹر دور کے علاقوں سے آتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایڈیشنل ڈی ڈی او کی منسوخی کے حوالے سے ہم نے ڈائریکٹر آف ایجوکیشن سے رابطہ کیا تو کہا کہ جب یہ عہدہ وجود ہی نہیں رکھتا تو میرا اس سے کوئی تعلق ہے۔ چنانچہ انہوں نے ڈی ڈی او کے نام احکامات صادر کرتے ہوئے واضح کیا کہ ضلع میں صرف ایک ہی ڈی ڈی او ہوگا۔ جس پر صرف دو دن عمل ہوسکا۔ تاہم دو ہی دن بعد ایم این اے منیر خان اورکزئی کے دباؤ میں آکر ڈی سی صاحب نے ڈی ڈی او کو بلاکر زبانی احکامات صادر کرتے ہوئے اسے ایڈیشنل پوسٹ کو برقرار رکھنے پر مجبور کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ دیگر اضلاع میں اساتذہ کی تقرریاں ہوچکی ہیں۔ جبکہ کرم میں ایڈیشنل کی طرف سے اساتذہ کے لسٹ فراہم نہ کرنے کی وجہ سے تقرریاں نہیں ہورہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہاسٹلز کے حوالے سے ڈی سی صاحب کا کہنا ہے کہ اس میں اسکی کوئی رائے شامل نہیں بلکہ یہ فورسز نے از خود کرائے ہیں۔

تاہم انہیں حقیقت کا کوئی علم نہیں کہ اس متعصبانہ فعل میں واقعا فورسز ملوث ہیں یا ڈی سی صاحب جھوٹ بولتے ہیں۔ انہوں نے مولانا یوسف حسین اور حاجی سردار حسین سے کہا کہ قومی سطح پر ان مسائل کو اٹھائیں۔ ورنہ اپنے مطالبات کے حق میں ہم آئندہ چند روز میں احتجاجا تمام سکول بند کریں گے۔ اور پریس کانفرنس میں دودھ کا دودھ پانی کا پانی کردیں گے۔ حاجی سردار حسین اور مولانا یوسف حسین جعفری نے انکے مطالبات کو بغور سن کر اسے متعلقہ حکام تک پہنچانے کی یقین دلائی۔ انہوں نے کہا کہ اپنے تمام مسائل کو درخواست کی شکل میں لکھ دیں۔ اساتذہ نے تمام مطالبات درخواست کی شکل میں لکھ کر قومی رہنماؤں کے حوالے کیا۔ اگلے روز انہوں نے انکی درخواست ڈی سی کرم کے حوالے کی۔ جس کا ابھی تک کوئی خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہیں ہوسکا ہے۔

بشکریہ اسلام ٹائمز