جمعہ , 14 مئی 2021

امریکہ میں یوم دعا کی اپیل

اداراتی نوٹ
دنیا کی واحد سپر پاور کے صدر سونے کے دعویدار امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے چند پہلے بڑے گھمنڈ، تکبر ، غرور کے ساتھ ایرانی حکومت اور عوام کا تمسخر اڑاتے ہوئے کہا تھا، ہمارے پاس دنیا کے ماہر ترین ڈاکٹر ہیں۔ ہم حقیقت میں چاہتے ہیں کہ ایرانیوں کی مدد کریں۔ ایرانی صرف یہ کام کریں کہ ہم سے مدد کی خواہش کریں۔صدر ٹرمپ کے ان جملوں کی  گونج ابھی فضاؤں میں موجود تھی کہ  کرونا نے امریکہ کا رخ کر لیں ۔

اب امریکی صدر کی یہ حالت ہے کہ انہوں نے یورپ کے تمام پروازیں منسوخ کر کے ملک میں ہنگامی حالت یعنی ایمرجنسی کردی ہے۔ بات یہاں تک پہنچی ہے  کہ امریکی  عہدیدار اور ماہرین چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ ہمارے پاس   ڈاکٹر بھی کم ہے میڈیکل اسٹاف کی بھی شدید کمی ہے اور ہسپتالوں میں مریضوں کا علاج کرنے کے کی سہولیات بھی نہیں ہیں۔ امریکہ کے صفحہ اول کے تمام اخبارات اور میڈیا سینٹر خوف و ہراس کا شکار ہیں اپنے تحریر اور تجزیوں میں بول اور لیکھ رہے ہیں۔ امریکہ میں 160 سے  214 ملین افراد کرونا میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔ CNBC  نے  کرونا کے پھیلاؤ کے پیش نظر امریکہ  حکومت کی ناکامی  کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ  کرونا وائرس امریکہ کے لیے ایک  قومی سانحہ رونما ہو سکتا ہے۔

ڈیلی میل کے اخبار ہے یہاں تک لکھا ہے کہ امریکی ہسپتالوں کو  ساڑھے نو کروڑ افراد کے علاج  اور چار لاکھ اسی ہزار  افراد کے مرنے کی تیاری کرلینی چاہیے۔ امریکہ کے محکمہ صحت نے اپنی وزارت کو موصول ہونے والی رپورٹوں کی تناظر میں کہا ہے کہ کرونا سے دس لاکھ افراد کے ہلاک ہونے کا اندیشہ ہے۔ ان کے بقول ہمارے پاس کرونا ٹیسٹ کے لیے سہولیات بھی موجود نہیں، وہی امریکی صدر جو دو دن پہلے ایران کو طعنے دے رہے تھے اور ایران کو امریکی حکومت کے سامنے گھٹنے ٹیک کر اپیلیں  کرنے کی خواہش  کا اظہار کررہے تھے آج جدید ترین وسائل، ماہر ترین ڈاکٹروں اور مضبوط ترین اقتصادی نظام کے باوجود امریکہ میں یوم دعا منانے کی اپیلیں کر رہے ہیں۔ ایران تمام تر مشکلات کے باوجود کرونا سے نبرد آزما ہے۔ اگر ایران میں اس بیماری کی وجہ سے یا کسی بھی اسلامی ملک میں کرونا سے نجات کے لیے قومی سطح پر ‘یوم دعا’  منانے کی اپیل کی جاتی تو غیر سے غیر ہمارے ہمارے نام نہاد مسلمان دانستہ اور خود ساختہ روشن خیال و روشن  فکر اس ملک کا مذاق اڑاتے لیکن ٹرمپ کے اعلان کے بعد سب کے لبوں پر تالے لگ گئے ہیں۔