جمعہ , 1 جولائی 2022

کورونا وائرس، اسکائپ کا بہترین فیچر صارفین کے لیے دستیاب

اس وقت جب دنیا بھر میں اربوں افراد کو گھروں تک محدود کردیا گیا ہے تاکہ کورونا وائرس کو تیزی سے پھیلنے سے روکا جاسکے، ویڈیو کالز کی شرح میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔مگر اس سے زیادہ فائدہ ایک ویڈیو کالنگ ایپ زوم کو ہوا ہے اور مائیکرو سافٹ کی پراڈکٹ اسکائپ کے حصے میں کم ٹریفک آیا ہے۔حالانکہ اسکائپ اس وقت سے آڈیو اور ویڈیو کال کی سہولت فراہم کررہی ہے جب اسمارٹ فونز بھی متعارف نہیں ہوئے تھے۔

زوم کو حالیہ مقبولیت اس لیے ملی کیونکہ اس میں شیئرنگ میٹنگ کا فیچر موجود ہے جبکہ اس کا استعمال بہت آسان ہے، درحقیقت کچھ زیادہ ہی آسان ہے جس کے نتیجے میں اس میں سیکیورٹی خامیاں بہت زیادہ ہیں۔مگر ا اسکائپ نے جوابی وار کا فیصلہ میٹ نائو نامی فیچر کے ذریعے کیا ہے۔کمپنی کے مطابق اس فیچر کے ذریعے ایک فرد صرف 3 کلک کے ذریعے فری میٹنگ کو شیئر کرسکتا ہے اور سب سے اچھی بات یہ ہے کہ میزبان یا ہوسٹ کو اس کے لیے اسکائپ انسٹال کرنے کی بھی ضرورت نہیں۔اس کے لیے ویب سائٹ پر جاکر فری کانفرنس کال کی سہولت سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے، جس کے بعد لوگوں کو ایک لنک یا شیئر بٹن کے ذریعے انوائٹ کیا جاسکتا ہے۔جن لوگوں کو انوائٹ کیا جائے گا، اگر ان کے پاس اسکائپ انسٹال ہوگا تو ہو کال کو براہ راست اپلیکشن میں اوپن کرسکیں گے، اگر ایسا نہیں تو کروم یا کسی بھی برائوزر پر ویب کلائنٹ پر کال کا حصہ بننا ممکن ہوگا۔اسکائپ کی جانب سے ایک ٹوئٹ کے ذریعے صارفین کو اس فیچر کی یقین دہانی کرائی گئی۔

ویسے یہ کوئی نیا فیچر نہیں مگر اس کے لیے سائن اپ یا انسٹالیشن کی ضرورت کو ختم کرکے صارفین کو زیادہ سہولت فراہم کی جارہی ہے۔مایکرو سافٹ نے رواں ہفتے میں بتایا تھا کہ اب روزانہ 4 کروڑ افراد اسکائپ کو استعمال کررہے ہیں اور یہ تعداد گزشتہ ماہ کے مقابلے میں 70 فیصد زیادہ ہے۔کمپنی کے مطابق اسکائپ ٹو اسکائپ کالز میں 220 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ گزشتہ 6 ماہ کے دوران اس کے صارفین کی تعداد 20 کروڑ سے زیادہ ہوگئی ہے۔مائیکرو سافٹ کے نائب صدر یوسف مہدی نے بتایا کہ اپنے پیاروں سے رابطے میں رہنا پہلے کبھی اتنا ضروری نہیں تھا جتنا اب ہے۔انہوں نے کہا کہ اسکائپ میں حال ہی میں متعارف کرائے جانے والے فیچر میٹ نائو سے لوگوں کو ویب برائوزر پر ویڈیو میٹنگز کی سہولت ملی ہے، جس کے لیے دیگر افراد کو سائن اپ یا سافٹ وئیر ڈائون لوڈ کرنے کی بھی ضرورت نہیں۔

دنیا بھر میں اس وبا کے دوران گھروں تک محدود کروڑوں افراد کی جانب سے انٹرنیٹ پر انحصار بڑھ چکا ہے، کیونکہ بیشتر گھر سے کام کررہے ہیں جبکہ کچھ اسے اپنے پیاروں سے رابطے کے ذریعے کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔اس کے علاوہ اسٹریمنگ سروسز کا استعمال بھی بڑھا ہے تاکہ لوگ وقت گزار سکیں۔اس سلسلے میں یوٹیوب نے دنیا بھر میں ویڈیوز کا ڈیفالٹ ریزولوشن کم رکنے کا اعلان کیا ہے اور ایک ماہ تک اس پر عمل کیا جائے گا۔گوگل کے ایک ترجمان کا اس بارے میں کہنا تھا کہ ہم دنیا بھر میں حکومتوں اور نیٹ ورک آپریٹرز کے ساتھ کام کریں گے تاکہ اس صورتحال میں انٹرنیٹ پر دباؤ کو کم از کم کیا جاسکے۔اس سے قبل نیٹ فلیکس نے بھی یورپ میں اسٹریمنگ کوالٹی کو 25 فیصد تک کم کیا جبکہ ایپل اور ایمیزون کی جانب سے یورپ میں ایسا کیا گیا۔نیٹ فلیکس کی جانب سے پاکستان سمیت کئی ممالک میں بھی ایسا کیا گیا ہے۔

 

یہ بھی دیکھیں

بھارت میں یوٹیوب کو مسلمانوں کے استحصال کیلئے استعمال کئے جانے کا انکشاف

نیویارک:بھارت میں یوٹیوب کو ہندوتوا قوم پرستوں کے ہاتھوں مسلمانوں کے استحصال کیلئے استعمال کئے …