جمعہ , 22 اکتوبر 2021

تنخواہوں کیلئے 5 فیصد شرح سود پر قرضہ

کراچی:اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملک میں کاروباری اداروں کو کرونا وائرس کے اثرات سے محفوظ رکھنے اور ملکی معیشت کو استحکام دینے کے لئے ایک اور ریلیف پیکج کا اعلان کردیا۔اس پیکیج کے تحت ملازمین کو برطرفی سے بچانے کے لئے’’ ری فنانس اسکیم فار پیمنٹ آف ویجز اینڈ سیلریز ٹو دی ورکرز اینڈ ایمپلائز آف بزنس کنسرنس‘‘ کے نام سے کاروباری اداروں کے لیے ایک عارضی ری فنانس اسکیم متعارف کرائی ہے۔

جمعہ کو مرکزی بینک سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق اس سہولت کا بنیادی مقصد کاروباری اداروں کو ترغیب دینا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کے دوران ملازمین کو برطرف نہ کریں۔ قرض کی اصل رقم کی ادائیگی دو سال میں کرنی ہوگی جبکہ قرض لینے والوں کو چھ ماہ کی رعایتی مہلت بھی دی جائے گی۔یہ اسکیم پاکستان کے تمام کاروباری اداروں کو بینکوں کے توسط سے دستیاب ہوگی اور اس میں مستقل، کنٹریکٹ، ڈیلی ویجز سمیت ہر قسم کے ملازمین نیز آؤٹ سورس کارکن بھی شامل ہوں گے۔ اس اسکیم کے تحت ان کاروباری اداروں کو جو اپریل تا جون 2020ء کے دوران اپنے ملازمین کو برطرف نہیں کریں گے اِن تین مہینوں کی اجرتوں اور تنخواہوں کے اخراجات کے لیے فنانسنگ فراہم کی جائے گی۔اس اسکیم کے تحت لیے گئے قرضوں پر مارک اپ 5 فیصد تک ہوگا۔ قرض لینے والے جو افراد ایکٹو ٹیکس پیئرز لسٹ میں شامل ہیں وہ مزید کم یعنی 4 فیصد مارک اپ ریٹ پر قرضے حاصل کرسکیں گے۔ یہ اسکیم چھوٹے کاروباری اداروں کو ترجیح دینے کے لیے تیار کی گئی ہے۔

جن کاروباری اداروں کی تین ماہ کی اجرتوں اور تنخواہوں کا خرچ بیس کروڑ روپے تک ہے وہ اس پوری رقم کی فنانسنگ حاصل کرسکیں گے جبکہ وہ کاروباری ادارے جن کی اجرتوں اور تنخواہوں کا خرچ 500 ملین روپے سے زیادہ ہےوہ اس خرچ کے 50 فیصد تک فنانسنگ حاصل کرسکیں گے۔ درمیانی کٹیگری میں آنے والے تین ماہ کی اجرتوں اور تنخواہوں کے خرچ کے 75 فیصد تک فنانسنگ حاصل کرسکیں گے۔بینک اس اسکیم کے تحت قرضے کی پروسیسنگ فیس، کریڈٹ لمٹ فیس، پری پیمنٹ پینالٹی چارج نہیں کریں گے۔ بینک اس اسکیم کے استعمال پر اسٹیٹ بینک کو ہفتہ وار رپورٹنگ فراہم کریں گے خصوصاً اس اسکیم کے تحت فنانسنگ کی درخواستوں رد کرنے کی وجوہ بتائیں گے۔اسٹیٹ بینک کو توقع ہے کہ اس اسکیم کا ایک بڑا فائدہ یہ پہنچے گا کہ جو آجر اپنے پے رول پر ملازمین کو برقرار رکھیں گے وہ صورت حال معمول پر آنے پر جلد اپنی پیداوار بحال کرسکیں گے یا اس میں اضافہ کرسکیں گے۔

 

یہ بھی دیکھیں

توانائی کے بحران میں حکومت کا نئے ایل این جی ٹرمینل کی طرف جھکاؤ

اسلام آباد: بظاہر لگتا پے کہ حکومت نے موجودہ ایل این جی ٹرمینل کی مرمت …