بدھ , 20 اکتوبر 2021

کاش آزاد قلم کوئی اٹھے! (آزاد نظم)

ہندوستان سے تعلق رکھنے والے ایک معروف اہل قلم، شاعر، ادیب، خطیب اور سیاسی تجزیہ نگار جناب سید نجیب الحسن زیدی کی ایک نظم جس میں انہوں نے تصنیف و تالیف اور صحافت کی موجودہ صورتحال پر اپنے مجروح احساسات کو سمونے کی کوشش کی ہے۔

!کاش آزاد قلم کوئی اٹھے

کاش آزاد قلم کوئی اٹھے
کاش آزاد قلم کوئی چلے
حق کا سودا نہ کرے
حق کو فقط حق ہی کہے
حق کا اظہار  کرے،
ظلم کو خوار کرے،
کاش آزاد قلم کوئی اٹھے
کاش آزاد قلم کوئی چلے
جو غریبوں کا ،ضعیفوں کا مسیحا بن کر
ان کے حالات لکھے ،انکی کچھ بات رکھے
بے سہاروں کا بیاں حال کرے ،
انکی روداد لکھے
جو نہ دولت پہ بکے ، جو نہ طاقت سے ڈرے
حق کی بس بات کرے حق کو بس حق ہی کہے
کاش آزاد قلم کوئی اٹھے
کاش آزاد قلم کوئی چلے
جو نہ مذہب نہ کسی ذات نہ فرقے پہ بٹے
بات انساں کی سنے، بات انساں کی کرے
جو ضمیر اپنا تھپک کر نہ سلائے ہرگز
کسی نادار کو ہرگز جو ستائے نہ کبھی
نفرتوں سے جو پرے
عشق کی بات کرے
نفرتیں بانٹنے والے جو نظر آئیں کہیں
سامنے انکے ڈٹے
نفرتوں سے جو لڑے،
رنگ الفت کا بھرے،
بوڑھے مزدور کو جو راہ میں چلتا دیکھے
اسکی بیساکھی بنے
اسکا سہارا بن جائے
کاش آزاد قلم کوئی اٹھے
کاش آزاد قلم کوئی چلے
جو کسی بوجھ اٹھاتے ہوئے بچے کے لئے
باپ کا ہاتھ بنے، بوجھ ہلکا کر دے
کاش آزاد قلم کوئی اٹھے
کاش آزاد قلم کوئی چلے
منتظر بیٹھی ہوئی ڈیوڑھی پہ اک ماں کے لئے
اسکا مضبوط سہارا بن جائے
اور پھر ماں کی دعاوں سے کچھ اتنا چمکے
چاند تارے بھی اسے جھک کے سلامی دیے دیں
ایک دن ملک کا اور قوم کا چہرہ بن جائے
ایسا چہرہ
جو غریبوں کی صدا بن جائے
ایسا چہرہ کے جسے جب کبھی دیکھیں نادار
انکے ہونٹوں پہ تبسم آجائے
کوئی اپنا بھی ہے بس اتنا یقین ہو جائے
کاش آزاد قلم کوئی اٹھے
کاش آزاد قلم کوئی چلے

یہ بھی دیکھیں

پچیس ذیقعدہ کا دن نزول رحمت اور فرش زمین بچھنے کا دن ہے

حضرت امام رضا علیہ السلام جب خراسان کے سفرکے دوران 25 ذیقعدہ کو مرو پہنچے …