پیر , 23 مئی 2022

پاکستان کی چین سے توانائی معاہدوں کی شرائط نرم کرنے کی درخواست

اسلام آباد: پاکستان نے چین سے پاک چین اقتصادی راہداری کے تحت 12 ہزار میگا واٹ توانائی کے 30 ارب ڈالر کے منصوبوں پر واجب الادا رقم کی ادائیگی میں آسانی کی درخواست کی ہے تاکہ ملک کو درپیش معاشی مشکلات کو کم کیا جاسکے۔ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق یہ درخواست گردشی قرضوں کے 20 کھرب روپے تک پہنچ جانے پر حکومت کی جانب سے انڈیپینڈنٹ پاور پروڈیوسرز(آئی پی پیز) سے بجلی کی خریداری میں رعایت حاصل کرنے اور بچت کی کوششوں کا حصہ ہے۔اس بارے میں کابینہ کے ایک رکن نے ڈان کو بتایا کہ صدر مملکت عارف علوی کے دورہ چین کے دوران اعلیٰ سطح کے اجلاس میں توانائی کی قیمتِ خرید میں ریلیف کے لیے پاکستان نے یہ معاملہ باضابطہ طور پر چین کے سامنے اٹھایا تھا۔خیال رہے کہ رواں برس پاکستان کے صرف کیپیسٹی چارجز کی مد میں ادائیگیاں تقریباً 6 کھرب روپے سالانہ تک پہنچنے کا امکان ہے۔

وزیراعظم عمران خان کے مطابق آئندہ چند برسوں میں کیپیسٹی چارجز 15 کھرب ڈالر سے زائد ہوسکتی ہے جو لوگوں کی قوت ادائیگی سے باہر ہوگی۔کابینہ کے رکن نے بتایا کہ چینی قیادت نے چین کے نیشنل ڈیولپمنٹ اینڈ ریفارمز کمیشن (این ڈی آر سی) کو ہدایت کی ہے کہ اس معاملے پر مالیاتی اداروں (جو زیادہ تر سرکاری ملکیت میں ہیں) کے ساتھ بات چیت کی جائے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اس معاملے کو حتمی شکل دینے سے قبل سی پیک کے جوائنٹ ورکنگ گروپس برائے توانائی میں پیش کیا جاسکتا ہے۔تاہم پاکستان نے موجودہ وبائی صورتحال کے باعث درپیش مشکلات میں 2 بنیادی نرمی کی درخواست کی ہے جس میں پہلی یہ کہ پاکستان قرضوں پر موجود مارک اپ کو لندن انٹر بینک کی پیشکش کردہ ریٹس بمع موجودہ 4.5 فیصد لائبر کو 2 فیصد کرنا چاہتا ہے۔

دوسرا پاکستان نے قرضوں کی ادائیگی کے لیے مقررہ 10 سال کی مدت کو بڑھا کر 20 سال کرنے کی درخواست کی ہے۔خیال رہے کہ ملک میں توانائی کے تقریباً منصوبوں کے ٹیرف اسٹرکچر کو قرضوں کی 10 سال کی ادائیگی پر ترتیب دیا گیا ہے البتہ ان دونوں رعایتوں سے سالانہ کیش فلو میں 85 ارب روپے تک کی بچت ہونے کا امکان ہے۔دوسری جانب پاکستان میں چین کے سفیر اور مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی ملاقات ہوئی جس کے بعد جاری بیان میں کہا گیا کہ ’پاکستان عالمی وبا کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے لیے چین کے تعاون کا خواہاں ہے‘۔مشیر خزانہ نے چین سفیر کے ساتھ کورونا وائرس کے باعث دنیا بھر میں برآمدات اور زرِ مبادلہ میں درپیش مشکلات کے سبب پاکستان کی نمو پر پڑنے والے مجموعی اثرات پر بھی تبادلہ خیال کیا جس کی وجہ سے دنیا کی معیشتیں کساد بازاری میں داخل ہوگئی ہیں۔مشیر خزانہ کا مزید کہنا تھا کہ مختلف معیشتوں کی نقصانات سے نمٹنے کی صلاحیت بھی مخلتف ہے اور لاک ڈاؤن کے باعث پڑنے والے اثرات سے ترقی پذیر معیشتیں بری طرح متاثر ہوں گی۔

 

 

یہ بھی دیکھیں

پاکستان کا ماہانہ زرمبادلہ پہلی بار 3 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا

پاکستان کا ماہانہ غیر ملکی زرمبادلہ تاریخ میں پہلی بار 3 ارب ڈالر سے تجاوز …