جمعہ , 27 مئی 2022

عالمی شرح نمو منفی 3، پاکستان منفی1.5 فیصد رہے گی

کراچی:عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے کورونا وائرس کی وبا پھوٹنے کے بعد عالمی معیشت کو پہنچنے والے نقصان کے متعلق اپنی نئی رپورٹ جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ عالمی سطح پر مجموعی شرح نمو منفی تین جبکہ پاکستان کی شرح نمو منفی ایک اعشاریہ پانچ فیصد رہنے کا امکان ہے. وبا کے اثرات زائل ہونے کے بعد پاکستان 2021ء میں ریکور کرکے اپنی شرح نمو 2؍ فیصد تک ریکور کرنے اور بحرانوں سے نمٹنے کے قابل ہو جائے گا، وبا کے نتیجے میں کم آمدنی کی حامل معیشتوں کو لاحق خطرات گئی گنا بڑھ چکے ہیں، چین اور بھارت کساد بازاری کے اثرات سے بال بال بچ جائیں گے، مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کی معیشتیں بدترین ابتری میں چلی جائیں گی.یوروزون کی معیشت 2020ء میں کریش ہو جائے گی، فرانس کی جی ڈی پی میں 8؍ فیصد کمی جبکہ برطانوی شرح نمو میں 13؍ فیصد کمی کا امکان ہے۔ دوسری جانب جی ٹوئنٹی اور پیرس کلب غریب ملکوں کو قرضوں کی ادائیگی ملتوی کرنے پر متفق ہوگئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق، دنیا بھر میں کورونا وائرس کی وجہ سے شدید معاشی کساد بازاری کے حالات کے دوران عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے منگل کو دہائیوں بعد پہلی مرتبہ مالی سال 2019-20ء کے دوران پاکستان کی معیشت منفی ایک اعشاریہ پانچ (1.5) فیصد رہنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔یہ پیشگوئی سابقہ ڈھائی فیصد سالانہ شرح نمو کی پیشگوئی کے بالکل برعکس ہے کیونکہ جنوری میں عالمی معیشت کے حوالے سے پیش کردہ جائزے (ورلڈ اکنامک آئوٹ لک) کے بعد دنیا گزشتہ تین ماہ کے دوران ڈرامائی انداز سے تبدیل ہو چکی ہے۔ آئی ایم ایف کی ریسرچ ڈپارٹمنٹ کی ڈائریکٹر گیتا گوپی ناتھ نے پریس کانفرنس کے دوران پاکستان کے متعلق سوالوں کے جواب دینے سے گریز کیا تاہم خبردار کیا کہ کم آمدنی والی معیشتوں کیلئے چیلنجز بہت بڑے ہیں، ان کے پاس صحت کا نظام ٹھیک نہیں اور مالی لحاظ سے بھی ان کے پاس اخراجات کی گنجائش نہیں۔

یاد رہے کہ ورلڈ اکنامک آئوٹ لک میں دنیا بھر کے ملکوں کی معیشتوں میں گراوٹ کا امکان ظاہر کیا گیا تھا تاہم چند وسط ایشیائی ممالک ان میں شامل نہیں تھے۔ گوپی ناتھ کا کہنا تھا کہ اگر یہ تاثر ذہن میں رکھا جائے کہ دنیا بھر میں سال کی دوسری سہ ماہی کے دوران وبا اور لاک ڈائون کا سلسلہ عروج کو پہنچا اور دوسری ششماہی کے دوران اس میں کمی آئی تو عالمی سطح پر 2020ء کے دوران شرح نمو میں تین فیصد کمی آئے گی۔ جنوری میں یہی شرح نمو 6.3؍ فیصد رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ 1929ء کی زبردست عالمی کساد (گریٹ ڈپریشن) کے بعد یہ بدترین کساد بازاری ہے۔ تاہم آئندہ مالی سال کے دوران پاکستان میں معمولی بہتری آنے کا امکان ہے اور شرح نمو 2؍ فیصد تک آ جائے گی۔گوپی ناتھ کا کہنا تھا کہ بحران سے نمٹنے کیلئے ضروری ہے کہ ابھرتی ہوئی اور ترقی پذیر معیشتیں اپنے سماجی تحفظ (سوشل پروٹیکشن) کی اسکیموں کے موجودہ نظام کو وسیع کریں۔ گیتا گوپی ناتھ کا کہنا تھا کہ 2021ء میں ہونے والی یہ ریکوری ان اندازوں سے بہت کم ہوگی جن کا ہم پہلے اعلان کر چکے تھے کیونکہ وبا پھیلنے کے بعد پیدا ہونے والی خراب صورتحال وسیع پیمانے پر پھیل چکی ہے۔ سابقہ اشاریے وائرس پھیلنے سے قبل کے تھے۔ 2020ء اور 2021ء میں وائرس کی وجہ سے ہونے والا مجموعی نقصان 9؍ ٹریلین ڈالرز تک رہے گا، یہ نقصان جاپان اور جرمنی کی معیشتوں کو ملا کر دیکھیں تو بھی بہت بڑا ہے۔ گیتا گوپی ناتھ نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک میں غیر رسمی شعبہ جات اور دیہاڑی دار طبقہ بہت زیادہ ہے جنہیں سب سے زیادہ نقصان ہوگا۔

حکومت کو یقین دہانی کرنا چاہئے کہ ایسے لوگوں تک پیسہ پہنچے۔ رواں ہفتے پاکستان کو آئی ایم ایف سے 1.4؍ ارب ڈالرز کا قرضہ ملنے کا امکان ہے تاکہ وہ اپنے موجودہ حالات کے مطابق صورتحال پر قابو پا سکے۔ یاد رہے کہ پاکستان پہلے ہی آئی ایم ایف کے 6؍ ارب ڈالرز کے قرضہ پروگرام کا حصہ ہے جس کا مقصد ادائیگیوں کا توازن برقرار رکھنا ہے۔ آئی ایم ایف نے توقع ظاہر کی تھی کہ رواں مالی سال کے دوران پاکستان میں مہنگائی کی شرح 11.1؍ فیصد رہے گی جبکہ آئندہ سال یہ کم ہو کر 8؍ فیصد ہو جائے گی۔ جاری کھاتوں کا خسارہ مالی سال 2020ء کے دوران 1.7؍ فیصد تک رہنے کی توقع تھی، 2019ء میں یہ 5؍ فیصد تھا۔ توقع ہے کہ آئندہ مالی سال کے دوران اس میں اضافہ ہوگا اور یہ 2.4؍ فیصد ہو جائے گا۔ دوسری جانب آئی ایم ایف کی جانب سے منگل کو جاری کیے گئے تازہ ترین عالمی جائزے میں بتایا گیا ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے عالمی معیشت رواں صدی کے بدترین دور سے گزر ر ہی ہے، رواں سال شرح نمو میں تین فیصد کمی آئے گی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر وائرس پر قابو پانے اور معیشتوں کو فعال بنانے میں کامیابی ملی تو 2020ء میں شرح نمو 5.8؍ فیصد تک جانے کا امکان ہے۔ تاہم، رپورٹ مرتب کرنے والوں نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ موجودہ حالات درست پیشگوئی میں معاون نہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حالات کی وجہ سے بدتر نتائج کے خطرات منڈلا رہے ہیں کیونکہ موجودہ بے یقینی میں کچھ بھی درست نہیں کہا جا سکتا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے امریکی معیشت 5.9؍ فیصد تک سکڑ سکتی ہے تاہم آئندہ سال تک اس میں ریکوری آئے گی اور یہ 4.9؍ فیصد تک رہے گی۔اندازوں کے مطابق، کورونا کی وبا کے اثرات دوسری ششماہی کے دوران مان پڑنا شروع ہو جائیں گے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگر وبا اور لاک ڈائون جاری رہا تو کمپنیوں کی بندش اور بیروزگاری بڑھنے کے نتیجے میں شرح نمو کے بدترین نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ آئی ایم ایف نے دنیا بھر کے مختلف ملکوں میں معیشت کی تنزلی کو عظیم لاک ڈائون (گریٹ لاک ڈائون) کا نام دیا ہے اور یہ 1930ء کی دہائی کے گریٹ ڈپریشن کے بعد کی بدترین صورتحال ہے۔ آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ معیشت کی شدید سست روی سے بچنا ممکن نہیں لیکن نمایاں انداز سے ہدف کی صورت میں مالی اور مالیاتی اقدامات کرکے حالات کی سختی اور سنگینی کو نرم کیا جا سکتا ہے اور ساتھ ہی ہمیں مل کر اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ معیشت کو ایسی پوزیشن پر رکھا جائے جس میں لاک ڈائون ختم ہونے کے بعد بحال ہونے کی صلاحیت موجود ہو۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کئی ممالک نے اپنے مرکزی بینکوں کے ساتھ مل کر زبردست اقدامات کیے ہیں اور بریک ڈائون سے بچنے کیلئے اپنے مالیاتی نظام میں لیکوئڈٹی شامل کر رہے ہیں تاہم، آئی ایم ایف نے یہ بھی کہا ہے کہ مضبوط کثیر الجہتی تعاون ضروری ہے تاکہ وبا کی وجہ سے معیشت کو ہونے والے نقصان کا ازالہ کیا جا سکے۔ 2021ء میں ریکوری کیلئے ضروری ہے کہ وبا 2020ء کی دوسری ششماہی میں ختم ہو جائے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر لاک ڈائون کا عرصہ بڑھایا گیا یا آئندہ سال یہ وبا دوبارہ پھوٹ پڑی تو 2021ء کے معاشی اشاریے موجودہ اشاریوں کے مقابلے میں 8؍ فیصد زیادہ بدتر ہوں گے۔ رپورٹ میں آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ بھارت اور چین وہ ممالک ہین جو اس وبا کے نتیجے میں معیشت کو پہنچنے والے نقصان سے بال بال بچ جائیں گے اور امکان ہے کہ 2021ء میں وہ دوبارہ بہتر انداز سے ریکور کر لیں گے۔ رپورٹ کے مطابق، چین کی معیشت رواں سال 1.2؍ فیصد کی رفتار سے بڑھے گی جو چار دہائیوں میں پہلی مرتبہ کم ترین سطح پر ہے۔ ابھرتے ہوئے ایشیا کی معیشت مثبت شرح نمو کے ساتھ (ایک فیصد) رہے گی جبکہ چین آئندہ سال تک زبردست چھلانگ لگا کر 9.2؍ فیصد تک جا سکتا ہے۔

 بھارت کی شرح نمو رواں سال 1.9؍ جبکہ آئندہ سال بڑھ کر 7.4؍ فیصد تک جانے کا امکان ہے۔ مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کی معیشت میں رواں سال چار دہائیوں بعد 3.3؍ فیصد تک کمی آئے گی جس کی وجہ کورونا وائرس کے ساتھ تیل کی قیمتوں کا کم ہونا بھی بتایا گیا ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق، یورو زون کی معیشت 2020ء میں کریش ہو جائے گی جس میں برطانوی معیشت 6.5؍ فیصد تک سکڑ جائے گی۔ رپورٹ کے مطابق، کرنسی کے طور پر یورو استعمال کرنے والے 19؍ ممالک ریکور کریں گے لیکن رفتار بہت سست ہوگی جبکہ 2021ء میں شرح نمو 4.7؍ فیصد رہے گی۔

یہ بھی دیکھیں

زرمبادلہ کے ذخائر کیوں کم ہو رہے ہیں؟ وجہ سامنے آگئی

ملکی زر مبادلہ کے ذخائر کم ہونے کی وجوہات سامنے آ گئی ہیں۔ حکومت نے …