جمعرات , 9 دسمبر 2021

بھارت میں گو موتر سے کورونا کا علاج ناکام؛ سعودی عرب میں اونٹ کے پیشاپ سے کورونا وائرس کا علاج شروع ہو گیا ہے؛عربی نیوز ایجنسی فتبینوا

یہ بات تو پوری دنیا جانتی ہے کہ اونٹ سعودی عرب میں ایک مشہور جانور ہے اور سعودیوں کی مرعوب غذا بھی ہے ساتھ میں سعودی عرب میں اس جانور اونٹ کا پیشاپ عام حالات میں پیا جاتا ہے۔ آپ کو یاد ہوگا بھارت میں جب یہ وبا سامنے آئی تو وہاں کے انتہا پسند ہندوں کی جانب سے گو موتر یعنی گائے کے پیشاپ سے اس وبا کا علاج شروع کر دیا گیا تھا تاہم اب عربی نیوز ایجنسی فتبینوا نے یہ خبر دی ہے کہ سعودی عرب کے نقالی صفت عہدیدار اور ان کے رجعت پسند مذہبی لیڈر کرونا کے علاج کے لیے نِت نئے اور مضحکہ خیز ٹوٹکٹے پیش کرکے سوشل میڈیا پر اپنے لیے طنز وتنقید کا سامان مہیا کررہے ہیں۔ ان ٹوٹکوں کا کورونا کے بیماروں کو فائدہ ہو نہ ہوں مگر ان کی وجہ سوشل میڈیا پر ایک لا حاصل بحث کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ زیادہ تر لوگ سعودی رجعت پسند مذہبی رہ نمائوں کے بیان کردہ کورونا کے علاج کے لیے پیش کردہ ٹوٹکوں کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔

گذشتہ ماہ ایک سعودی رجعت پسند مذہبی رہ نما کو اسپتالوں میں پڑے کورونا کے مریضوں کو’ مکہ مکرمہ کی مٹی کِھلا کے صحت یاب کرنے کی ناکام کوشش کے بعد اب ایک نیا ٹوٹکا سامنے آیا ہے کہ اونٹ کے پیشاب میں کورونا جیسے عالمی وباء کا علاج مضمر ہے۔کورونا کے مریضوں کو مٹی کے ذریعے علاج کرنے والے سعودی رجعت پسند ملا صاحب غائب ہیں۔ مگر انہوں نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ ان کی مٹی دراصل طب نبوی کا حصہ ہے اور اس میں مریضوں کے لیے شفاء موجود ہے۔سعودی رجعت پسند ملا نے مٹی کو کورونا کے مریضوں کا ‘شافی علاج’ قرار دیا تھا تاہم یہ ٹوٹکٹا بھی سوشل میڈیا پر کافی زیر بحث رہا اور اب کچھ نیا علاج اونٹ کے ‘پیشاب’ کی باری ہے۔

سعودی عرب کے سوشل میڈیا صارفین نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی خبروں اور ویڈیوز میں ایک سعودی رجعت پسند ملا عمر عبدالرحیم اموی  کو دیکھا ہے جو طب اسلامی کے ماہر ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہتے ہیں  کہ اونٹ کے پیشاب میں کورونا کاعلاج موجود ہے۔  اموی کی ایک تصویر سوشل میڈیا پروائرل ہوئی ہے جس میں اسے ایک اونٹ کے ساتھ کھڑے دیکھا جا سکتا ہے۔ ساتھ ہی موصوف کا کہنا ہے کہ یہ انٹ کورونا کی پرورش روکنے کا بہترین علاج ہے۔دوسری طرف سعودی سوشل میڈیا کے صارفین کاکہنا ہے کہ اس طرح کے ٹوٹکے پیش کرنا لوگوں کو بے وقوف بنانے کی کوشش ہے۔ یہ ایک مضحکہ خیز دعویٰ ہے جس کا کوئی آئینی اور قانونی جواز نہیں اورنہ ہی اس کا کوئی سائنسی ثبوت ہے۔یہ ٹوٹکا ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی عرب میں سوموار کے روز کورونا وائرس سے ہلاکتوں میں اضافہ کے ساتھ ساتھ معمول سے ہٹ کر کورونا وائرس کے شکار افراد میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

عراق کے شہر بصرہ میں بم دھماکے میں پندرہ افراد شہید

بصرہ: عراق کے جنوبی شہر بصرہ میں الجمہوری اسپتال کے قریب زوردار بم دھماکے کے …