بدھ , 20 اکتوبر 2021

شامی دہشت گردوں کا لیبیا میں لڑنے سے انکار، ترکی نے فنڈنگ روک دی

شام میں انسانی حقوق کی صورت حال پرنظر رکھنے والے دارے ‘سیرین آبزر ویٹری فارہیومن رائٹس’ کی طرف سے جاری ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شامی دہشت گرد گروپوں نے لیبیا میں قومی وفاق حکومت کی حمایت میں لڑنے سے انکار کردیا ہے۔شامی دہشت گرد گروپوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے مزید دہشت گرد لیبیا نہیں بھیجیں گے۔

انسانی حقوق گروپ نے باوثوق ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ حمص گورنری کے مشرقی الغوطہ میں سرگرم ‘فیلق الرحمان’ نامی گروپ جو اب بھی لیبیا کی نیشنل آرمی کی سرپرستی اور ترکی کی وفاداری میں لڑ رہا ہے نے اپنے مزید دہشت گرد لیبیا میں قومی وفاق حکومت کے دفاع میں لڑائی کے لیے بھیجنے سے انکار کردیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ لیبیا نیشنل آرمی کی طرف سے فیلق الرحمان کے دہشت گردوں کو دو ماہ سے نہ تو تنخواہیں دی گئی ہیں اور نہ ہی انہیں خوراک اور اسلحہ مہیا کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ لیبیا میں شامی دہشت گردوں کی آمد کا سلسلہ گذشتہ برس اکتوبر میں اس وقت شروع ہوا جب لیبیا کی نیشنل آرمی نے طرابلس میں قومی وفاق حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے چڑھائی کی۔ اس پر قومی وفاق حکومت کی حامی ترک حکومت نے شام سے 5 ہزار دہشت گردوں کو تربیت فراہم کرنے کے بعد انہیں لیبیا میں جنرل خلیفہ حفتر کی قیادت میں لڑنے سرگرم فوج کے خلاف لڑائی کے لیے بھیجا تھا۔

سیرین آبزر ویٹری برائے انسانی حقوق نے جمعرات کے روز بتایا تھا کہ انقرہ غیر شامی انتہا پسند دہشت گردوں کو بھی لڑائی کے لیے لیبیا بھیجتا رہا ہے۔ انسانی حقوق گروپ کو شام میں ‘داعش’ اور دوسرے انتہا پسند گروپوں کے ہمراہ لڑنے والے 37 جنگجوئوں کی فہرست ملی ہے جو اس وقت ترکی نے طرابلس میں تعینات کیے ہیں۔

گذشتہ دو ہفتوں سئ ترکی نے لیبیا میں قومی وفاق حکومت کی حمایت میں اپنی مداخلت کا سلسلہ مزید بڑھا دیا ہے۔ دوسری طرف لیبیا کی نیشنل آرمی کا کہنا ہےکہ اس نے ترھونہ شہر اور طیہ فضایہ اڈے پر قومی وفاق حکومت کے ٹھکانوں اور اسلحہ کے ذخائر کو نشانہ بنا کرانہیں تباہ کیا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

امیر عبداللہیان کی شام کے صدر بشار اسد سے ملاقات

دمشق: اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان شام کے دورے پر ہیں، …