ہفتہ , 16 اکتوبر 2021

امن معاہدے پر عمل میں کابل انتظامیہ رکاوٹ قرار

کابل:ترجمان افغان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے امن معاہدے پر عمل میں کابل انتظامیہ کو رکاوٹ قرار دے دیا۔ترجمان افغان طالبان ذبیح اللہ مجاہد کا اپنے ایک بیان میں کہنا تھا کہ امن معاہدے پر عمل میں کابل انتظامیہ رکاوٹ ہے،امن معاہدے کے تحت دس دن کے اندر قیدیوں کا تبادلہ ہونا تھا اور قیدیوں کے تبادلے سے بین الافغان مذاکرات کی راہ ہموار ہونا تھی لیکن کابل انتظامیہ پہلے دن سے قیدیوں کے تبادلے میں رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھاکہ بین الافغان مذاکرات شروع ہو جاتے تو اب تک امن سمیت بڑے مسائل پر پیشرفت ہو جاتی،امریکا ، نیٹو اور ان کے اتحادی بھی امن معاہدے پر عمل میں ناکام ہو گئے ہیں ،نیٹو نے جنگ میں شدت لانے کے لیے کابل انتظامیہ کو حال ہی میں اسلحہ فراہم کیا،جب مخالف فریق امن معاہدے پر عمل نہیں کر رہا تو ہم سے جنگ بندی کے مطالبات غیرمنطقی ہیں،جنگ بندی کا واحد راستہ امن معاہدے پر مکمل عمل درآمد ہے۔

یہ بھی دیکھیں

افغانستان میں امریکی ڈرون حملے پر چین سمیت عالمی برادری کا تحقیقات کا مطالبہ

واشنگٹن: امریکی وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ وہ نہیں جانتے کہ افغانستان …