جمعہ , 22 اکتوبر 2021

طالبان نے پہلی مرتبہ شیعہ ضلعی امیر کا تقرر کردیا

طالبان نے پہلی مرتبہ ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے شخص مولوی مہدی کو اپنا ضلعی سربراہ مقرر کردیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تنظیم ملک میں اہل تشیع برادری کی حمایت حاصل کرنا چاہتی ہے۔خامہ پریس نیوز ایجنسی کے مطابق یہ اقدام اس تناظر میں بھی خاصا حیران کن ہے کہ طالبان نے 90ء کی دہائی میں اقتدار حاصل کرنے کے بعد ہزارہ برادری کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں کیں، جن میں 1998ء میں بلخ کے علاقے مزار شریف میں ہزارہ افراد کا قتل عام سر فہرست ہے۔

دریں اثناء سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا افغان امن مذاکرات کے پیش نظر طالبان کی کوشش ہے کہ اہل تشیع افراد کی تنظیم میں بھرتیوں کے ذریعے برادری کی حمایت حاصل کی جائے۔افغانستان کے ایک تجزیہ کار صابر ابراہیمی کا کہنا ہے کہ طالبان ایسی تنظیم نہیں تھی کہ جو ہر ایک کو بلا تخصیص شامل کرلے بلکہ کوئٹہ، پشاور اور دوحہ میں اس کی قیادت سنی پشتونوں پر مشتمل تھی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اس سے پہلے طالبان نے خصوصاً شمالی افغانستان میں تاجک کمانڈرز کو برائے نام تنظیم میں شمولیت دی تھی تاہم اب یہ شیعہ ہزارہ کو بھی کچھ نمائندگی دے رہے ہیں۔

ایک اور تجزیہ کار یاور عادلی کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران طالبان نے تاجک اور ازبک برادریوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی بھی بھرتی کی ہے، ایسا لگتا ہے کہ طالبان نے یہ محسوس کرلیا ہے کہ خود کو ملک گیر تحریک ثابت کرنے میں انہیں مطلوبہ کامیابی اس لئے حاصل نہیں ہو رہی کہ ہزارہ برادری پر ان کا کوئی خاص اثر و رسوخ نہیں۔طالبان نے گزشتہ ہفتے حال ہی میں سرپل صوبے میں مقرر کردہ ضلعی سربراہ مولوی مہدی کی ایک ویڈیو بھی جاری کی تھی۔اپنے ویڈیو پیغام میں مولوی مہدی نے ہزارہ برادری پر زور دیا کہ وہ یہودی اور صہیونی حملہ آوروں کیخلاف جنگ کیلئے طالبان میں شمولیت اختیار کریں۔

یہ بھی دیکھیں

لبنان کو ایرانی تیل کی ترسیل کا سلسلہ جاری

تہران: ایرانی ایندھن کا حامل ایک اور کاروان شام کے راستے لبنان میں داخل ہو …