اتوار , 5 دسمبر 2021

یونان کی جانب سے ترکی کی "نئی اشتعال انگیزی” کی مذمت اور اسے روکنے کا عزم

یونان نے ترکی کی جانب سے بحیرہ روم کے مشرق میں تیل کی تلاش کے لیے کھدائی کی نئی کارروائیاں شروع کرنے کے ارادے کو "نئی اشتعال انگیزی” قرار دیا ہے۔ گذشتہ چند ماہ کے دوران دونوں ملکوں کے بیچ کشیدگی کی شدت میں اضافہ ہوا ہے۔یونان کے وزیر خارجہ نیکوس ڈیندیاس نے پیر کے روز کہا کہ "ترکی کے سرکاری ضمیمے میں ترکی کی تیل کی کمپنی کی جانب سے پرمٹ کی درخواستیں شائع کی گئی ہیں۔ ان کا مقصد یونان کے علاقے میں کھدائی کی نئی کارروائیاں کرنا ہے۔ یہ پڑوسی ملک کی جانب سے تصرفات کا حصہ ہے جو بتدریج یونان کے سیادتی اور خود مختاری حقوق چھیننے کی کوشش کر رہا ہے”۔

ڈیندیاس نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ "اگر ترکی نے ایسا کیا تو یونان اس نئی اشتعال انگیزی کا راستہ روکنے کے لیے تیار ہے”۔واضح رہے کہ جمعے کے روز ترکی کے وزیر توانائی فاتح دونماز نے اعلان کیا تھا کہ انقرہ حکومت "بحیرہ روم کے مشرق میں آئندہ تین سے چار ماہ کے دوران تیل کی مصنوعات کے حوالے سے کھدائی کی نئی کارروائیوں کے آغاز کی منصوبہ بندی کر رہی ہے”۔ یہ پیش رفت لیبیا میں وفاق حکومت کے ساتھ نومبر 2019 کے اواخر میں طے پانے والے ایک متنازع معاہدے کے تحت عمل میں آئے گی۔ ترکی کے وزیر نے کھدائی کی کارروائیوں کے مقام کا ذکر نہیں کیا۔

بحیرہ روم پر پھیلے دیگر کئی ممالک کی طرح یونان نے بھی ترکی اور لیبیا میں وفاق حکومت کے سربراہ فائز السراج کے بیچ اس سمجھوتے کی مذمت کی۔ایتھنز حکومت کے نزدیک اس معاہدے کا مقصد بحیرہ روم میں ترکی کے رسوخ کو بڑھانا ہے۔ یہاں انقرہ نے قبرص کے نزدیک دریافت کی کارروائیاں کی تھیں جنہوں نے قبرص، یونان اور مصر کو احتجاج پر مجبور کر دیا تھا۔یورپی یونین کئی بار ترکی سے مطالبہ کر چکی ہے کہ وہ قبرص کے ساحلوں کے نزدیک گیس اور تیل کی تلاش میں کھدائی کی غیر قانونی کارروائیوں کا سلسلہ روک دے .. اس لیے کہ یہ یورپی بلاک کے رکن ملک قبرص کے اقتصادی زون میں مداخلت ہے۔ یورپی یونین نے انقرہ حکومت کو پابندیوں کی دھمکی بھی دے چکی ہے ۔

حالیہ کچھ عرصے سے ترکی اور یونان کے درمیان تعلقات کو کشیدگی کی نئی لہر کا سامنا ہے۔ اس کا سبب ترکی کی جانب سے شام اور مہاجرین کے معاملے کے حوالے سے یورپی یونین کی سپورٹ کے لیے کوشاں ہونا ہے۔ایتھنز حکومت نے گذشتہ ہفتے احتیاطی اقدام کے طور پر 400 پولیس اہل کاروں کو ترکی کے ساتھ اپنی زمینی سرحد پر بھیجا تھا۔ اس کا مقصد مہاجرین کے ریلے کو یونان میں داخل ہونے سے روکنا تھا جیسا کہ رواں سال فروری میں ہوا تھا۔

یہ بھی دیکھیں

سعودی اتحاد کےجنگی طیاروں کی بمباری، سولہ یمنی شہری شہید

صنعا: سعودی اتحاد کی یمن پر جارحیت و بربریت کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ المسیرہ …