جمعہ , 3 دسمبر 2021
تازہ ترین

پاکستانی محققین کا منفرد اعزاز، فیس بُک کا ریسرچ ایوارڈ اپنے نام کرلیا

فیس بک کی جانب سے مصنوعی ذہانت میں اخلاقیات کے عنوان سے تحقیق کے لیے کیے گئے اقدام میں جیتنے والوں کا اعلان کیا ہے جس میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے پنجاب کی انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی (آئی ٹی یو) کے پروفیسر جنید قادر اور انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) کراچی کی کو انویسٹی گیٹر امانا رقیب بھی شامل ہیں۔

مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی اخلاقیات کے شعبے میں باضابطہ بنیادی تحقیق اور اس کے تصورات کے بارے میں تعاون فراہم کرنے کے لیے کیے گئے اس اقدام میں جیتنے والوں میں نو مختلف ممالک شامل ہیں۔

ایشیاء پیسفک میں اے آئی ایتھکس میں معاونت کے لئے فیس بک نے یونیورسٹی آف ہانگ کانگ کے سینٹر فار سول سوسائٹی اینڈ گورننس اور ہانگ کانگ کے پرائیویسی کمشنر فار پرسنل ڈیٹا (پی سی پی ڈی) کے ساتھ دسمبر 2019 میں پیش کشوں کے لیے درخواست (آر ایف پی) کا آغاز کرکے اشتراک کیا۔ یہ پیش کشیں ایشیا پیسفک بھر میں فعال اور رجسٹرڈ تعلیمی اداروں، تھنک ٹینکس اور تحقیقی اداروں کے لئے دست یاب تھے۔
فیس بک کے APACکی ہیڈ آف پرائیویسی اینڈ ڈیٹا پالیسی، اینگیجمنٹ رائنا یونگ کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تازہ ترین پیش رفت سے معاشرے میں بڑی تبدیلی آرہی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی مختلف اقسام کے اخلاقی نوعیت کے سوالات بھی جنم لے رہے ہیں جن کا لازمی طور پر گہرائی سے جائزہ لینا ہے ۔ اسی وجہ سے ہم اے پی اے سی میں خودمختار تعلیمی اداروں کو تعاون کی فراہمی میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں تاکہ مصنوعی ذہانت سے متعلقہ اخلاقیات میں مختلف شعبوں کی تحقیق کو پیش نظر رکھا جائے۔ اس ٹیکنالوجی سے معاشرے اور انسانیت کو بہت زیادہ فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

اس مجوزہ ضابطہ کار کے ذریعے پروجیکٹ ٹیم مصنوعی ذہانت سے متعلقہ اخلاقی ضابطے اور نئی معلومات پیش کرنے کے لئے کوشاں ہوگی جس کی بدولت مصنوعی ذہانت اور اسلامی اخلاقی اصولوں و ہدایات پر عمومی علم پیش رفت کرسکتا ہے۔

جنید قادر لاہور کی انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی میں اپریل 2020 سے پروفیسر کے طور پر فعال ہیں جبکہ وہ جنوری 2019 سے الیکٹریکل انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے چیئرپرسن کے طور پر بھی فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے سال 2008 میں آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف نیو ساؤتھ ویلز سے اپنا پی ایچ ڈی مکمل کیا جبکہ سال 2000 میں لاہور کی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی سے الیکٹریکل انجینئرنگ میں بیچلرز کیا۔

امانہ رقیب اس پروجیکٹ میں کو انوسٹی گیٹر پی آئی ہیں۔ انہوں نے آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف کوئنز لینڈ سے امتیازی مقام کے ساتھ مذہبی فلسفہ اور ایتھکس میں اپنا ڈاکٹریٹ مکمل کیا۔ انہوں نے اس سے قبل جامعہ کراچی سے فلسفہ میں گریجویشن کی۔ وہ ایک کتاب کی مصنفہ ہیں جس کا نام اسلامک ایتھکس آف ٹیکنالوجی: ان اوبجیکٹوز اپروچ ہے۔

یہ بھی دیکھیں

امریکی بڑی کمپنیوں کا اسرائیل کے ساتھ ناطہ توڑنے کا مطالبہ

امریکہ کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ملازمین اور فلسطینیوں کے حقوق کی حمایت کرنے والے …