ہفتہ , 4 دسمبر 2021

سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان جھوٹے الزام لگا کر اپنے سابقہ ہم منصب کو گرفتار کرنا چاہتے ہیں؛ واشنگٹن پوسٹ

سعودی عرب کے موجودہ بد نام زمانہ ولیعہد محمد بن سلمان نے سابق ولیعہد محمد بن نائف کو کرپشن میں ملوث کرنے کی کوششوں کا آغاز کردیا ہے۔ابلاغ نیوز نے واشنگثن پوسٹ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ سعودی عرب کے موجودہ بد نام زمانہ ولیعہد محمد بن سلمان نے سابق ولیعہد محمد بن نائف کو کرپشن میں ملوث کرنے کی کوششوں کا آغاز کردیا ہے۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ولیعہد محمد بن سلمان کی صدارت میں قائم کرپشن کمیٹی نے محمد بن نائف کے بارے میں اپنی تحقیقات کو مکمل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔کمیٹی کا اس بات پر اعتقاد ہے کہ محمد بن نائف نے وزارت داخلہ میں اپنے اقتدار کے دور میں اربوں ڈالر بعض جعلی کمپنیوں اور خاص افراد کے حساب میں منتقل کئے ہیں۔۔ امریکی ذرائع کے مطابق سعودی حکام سابق ولیعہد بن نائف سے چوری شدہ 15 ارب ڈالر حکومت کے حساب میں واپس کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ محمد بن نائف سن 2012 سے سن 2017 تک سعودی عرب کے وزير داخلہ بھی رہے ہیں۔ محمد بن نائف سن 2015 سے سن 2017 تک ولیعہد کے عہدے پر بھی فائر رہ چکے ہیں جنھیں سعودی عرب کے بادشاہ نے عہدے سے ہٹا کر اپنے بیٹے محمد بن سلمان کو سعودی عرب کا ولیعہد بنادیا۔

یہ بھی دیکھیں

ایران کا پاکستان سے سرحدی انفراسٹرکچر کی تقویت اور کسٹمز کے فروغ کی ضرورت پر زور

اسلام آباد: پاکستان میں تعینات اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر نے پاکستان فیڈرل بورڈ آف …