جمعرات , 2 دسمبر 2021

مدینہ منورہ میں غیر ملکی سُپرماڈلز کو سعودی عرب نے فوٹو شوٹ کی اجازت دیدی

ریاض: سعودی حکومت ، طویل عرصے سے مسلمانوں کے سب سے مقدس مقامات کا نگہبان ہونے کا دعویدار ہے تاہم اب سعودی عرب نے مسلمانوں کی مقدس سرزمین مدینہ منورہ میں بین الاقوامی سپر ماڈلوں کی "غیر اخلاقی ” فوٹو شوٹ کی اجازت دے دی جس کے بعد تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔مشرق وسطی مانیٹر پریس آبزرویٹری تنظیم نے جمعرات کو انکشاف کیا ہے کہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی سربراہی میں ریاض میں ووگ عربیا یعنی امریکہ میں مشہور فیشن میگزین کے عربی ایڈیشن کو اجازت دی تھی کہ وہ “بین الاقوامی سپر ماڈلوں کا مدنیہ منورہ کے مغربی علاقے میں ایک غیر اخلاقی فوٹو شوٹ کروائے۔

"الولا 24 گھنٹے” نامی اس فوٹو شوٹ میں ، ماڈلز کو عریانی کپڑے پہنے ہوئے دکھائے گئے تھے جب انہوں نے یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثہ سائٹ کے لیے فوٹو شوٹ کروائیں ۔ دنیا کے بد ترین تصویری شوٹ میں ماٹ ماڈل ، جیسے کیٹ ماس ، مارییا کارلا بوسونو ، کینڈیسی سوانیپول ، جورڈن ڈن ، امبر ویلےٹا ، ژاؤ وین اور ایلک ویک شامل ہیں۔فوٹو شوٹ کی سائٹ مدینہ منورہ سے قریب 300 کلومیٹر دور اور مکہ کے قریب ہے ، جو پوری دنیا میں پوری مسلم برادری کے دو مقدس شہر ہیں۔
خیال ظاہر کیا جتا ہے کہ یہ متنازعہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب حالیہ برسوں میں آل سعود حکومت نے خواتین کے ساتھ بد سلوکی کرنے اور اختلاف رائے پر سخت کارروائی کی تھی جس کے بعد انسانی حقوق کے گروپوں نے سعودی عرب پر دبائو ڈالا تھا تاہم اب سعودی عرب نے انسانی حقوق کے گروپوں کی تنقید سے بچنے کے لیے اپنے ملک کی روایات، انسانی اور اسلامی اقدار کو پامال کرنا شروع کر دیا اور مقدس سرزمین پر عریانی پر مبنی فوٹو شوٹ کی اجازت دے کر دنیا بھر کے مسلمانوں کے دلوں کو رنجیدہ کر دیا ہے۔
یہ یاد رہے سعودی خواتین پر 2015 تک ووٹ ڈالنے اور 2018 تک گاڑی چلانے پر پابندی عائد تھی۔دوسری جانب دنیا کے سُپر ماڈلز کے فوٹو شوٹ کو اصلاحات کی ایک سیریز قرار دیا گیا ہے ۔

یہ بھی دیکھیں

براہ راست پروازوں کے اضافہ سے ایران پاکستان عوامی تعلقات اور سیاحت کی ترقی

کراچی: اسلامی جمہوریہ ایران اور پاکستان نے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان عوامی تعلقات کو …