بدھ , 29 ستمبر 2021

رومن سلطنت کو ٹکر دینے والی کلوپیٹرا کی جانشین ’جنگجو ملکہ‘ زنوبیا کون تھیں؟

پیلمائرا کی ملکہ زنوبیا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ خوبصورت ہونے کے علاوہ ایک بہترین فوجی رہنما بھی تھیں۔ دوسری صدی میں رومن سلطنت کو بہت وسعت ملی اور وہ یورپ، مشرق وسطیٰ اور شمالی امریکہ کے بہت بڑے حصوں تک پھیل گئی۔

اس وسیع سلطنت کے اہم شہروں میں سے صوبہ شام کا ایک شہر پیلمائرا (تدمر) بھی شامل تھا۔ پیلمائرا شہر کا محل و وقوع بھی سٹریٹیجک نقطہ نظر سے اہم تھا کیوں کہ یہ مغرب میں بحیرہ روم اور مشرق میں دریائے فرات کے درمیان واقع تھا۔

اسی وجہ سے مشرق کو یورپ سے جوڑنے والی شاہراہ ریشم پر سفر کرنے والے کارواں یہاں ضرور پڑاؤ کیا کرتے تھے جس سے خود اس شہر کو بڑا فائدہ ہوتا تھا۔ تیسری صدی تک پیلمائرا کا شمار دنیا کے سب سے دولتمند شہروں میں ہونے لگا تھا۔

اس شہر کی فوجی اعتبار سے بھی بہت اہمیت تھی کیوں کہ یہ رومن سلطنت اور اس کے سب سے بڑے حریف اور ہمسائے سلطنت فارس (یا ساسانی سلطنت جیسا کہ اسے اس دور میں کہا جاتا تھا) کے درمیان ایک دیوار کی مانند کھڑا تھا۔

ان دنوں پیلمائرا کی طاقت اور اہمیت اتنی بڑھ چکی تھی کہ سنہ 268 میں جب رومن سلطنت کو زبردست بحران کا سامنا ہوا تو اس خاتون نے خود اپنی علیحدہ سلطنت قائم کر لی۔

آزادی اور فتح کی اس مہم کی سربراہی کرنے والی پیلمائرا کی ملکہ زنوبیا تھیں۔

ملکہ زنوبیا نے، جنھیں ان کی تہذیب اور فوجی صلاحیتوں کے لیے جانا جاتا تھا، پیلمائرا کی سلطنت کی بنیاد رکھی جس نے سنہ 268 اور 272 کے درمیان شام، مصر، اناتولیا، فلسطین اور لبنان کو فتح کیا۔

سنہ 270 میں ملکہ زنوبیا نے خود کو مصر کی ملکہ قرار دیا اور اپنی تصویر کے ساتھ مصر میں سِکے بھی بنوائے۔ ملکہ زنوبیا خود کو ملکہ کلیوپیٹرا کی جانشین ہونے کا دعویٰ کرتی تھیں۔ لیکن زنوبیا بہت زیادہ دن تک اقتدار میں نہیں رہ سکیں۔

ان کا اقتدرا مختصر تھا لیکن انھوں نے کئی مصنفوں اور شاعروں کو متاثر کیا اور وہ کئی نظموں اور اوپرا کا بھی موضوع رہی ہیں۔

زنوبیا اقتدار میں کیسے آئیں؟

زنوبیا کی شادی پیلمائرا کے شہزادے سپتیمیس اودیناتو سے ہوئی تھی جنھیں سلطنت فارس کے خلاف کئی کامیاب مہمات کی وجہ سے رومن سلطنت میں پزیرائی حاصل تھی۔

رومن سلطنت کی مشرقی سرحد کی حفاظت کے جواب میں شکریہ کے طور پر انھیں سنہ 260 میں اودیناتو کو پیلمائرا کا بادشاہ بنا دیا گیا تھا۔ لیکن سات برس بعد بادشاہ کے بھتیجے نے ان کو اور ان کے بڑے بیٹے اور جانشین ہیران کو قتل کر دیا۔ ہیران بادشاہ کی پہلی بیوی سے تھا۔

ایسے میں اودیناتو کی دوسری بیوی سے پیدا ہونے والے چھوٹے بیٹے لوسیئس لولیئس کو تخت پر بٹھایا گیا۔ اس چھوٹے بیٹے کو وابالاتو کے نام سے جانا گیا۔ وابالاتو کی کم عمری کی وجہ سے ان کی والدہ زنوبیا نے والیٴ سلطنت کے طور پر ذمہ داریاں سنبھال لیں۔

ان کی عمر محض پچیس برس تھی لیکن کہا جاتا ہے کہ وہ انتہائی مہذبت تھیں۔ چند تاریخ دانوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ زنوبیا کے والد رومن سلطنت میں گورنر تھے۔ انھیں شاہی خاندانوں کے افراد کی طرح تعلیم اور تربیت حاصل ہوئی وہ بہت سی زبانیں بول سکتی تھیں۔

کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی خوبصورتی کے علاوہ اپنی ذہانت سے بھی توجہ حاصل کرتی تھیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ بہت نڈر تھیں۔ شوہر کی ہلاکت کے بعد انھوں نے صرف پیلمائرا کی خودمختاری کا تحفظ ہی نہیں کیا بلکہ رومن سلطنت کو چیلنج کرنے کا فیصلہ بھی کیا۔

پیلمائرا کی نئی سلطنت
پیلمائرا کی علیحدہ سلطنت کھڑی کرنے کا منصوبہ ابتدائی طور پر روم کی سلطنت کے ایرانی دشمنوں سے مبینہ طور پر تحفظ کے طور پر دیکھا گیا۔ اودیناتو خود واضح کر چکے تھے کہ ان کا مقصد مشرقی ممالک تک فتح کا پرچم لہرانا تھا۔

زنوبیا نے شوہر کے منصوں کو جاری رکھا۔ ان میں فوجی حکمت عملی کی زبردست سمجھ تھی۔ انھوں نے ناصرف سلطنت فارس کو دور رکھا بلکہ ان علاقوں کو بھی فتح کرنے میں کامیابی حاصل کی جو رومن سلطنت کے تھے۔

زنوبیا نے شدید بحران سے دوچار نئے رومن بادشاہ کلاڈیئس دوئم گوتھک کے حالات کا فائدہ اٹھایا، جسے سنہ 268 میں تخت پر بیٹھتے ہی گوتھس، غول اور جرمن ایلمانی قبیلے کی صورت میں تین طرف سے خطرہ تھا۔

اُدھر روم پر قبضہ ہوا اور اِدھر زنوبیا نے 269 میں مصر پر فتح حاصل کر کے خود کو ملکہ قرار دیا۔ اور اس طرح اپنی سلطنت کی سرحدوں کو دریائے نیل سے فرات تک پھیلا دیا۔

زنوبیا کی فوج اور عوام انھیں ایک ‘جنگجو ملکہ’ کے طور پر جانتی تھی۔ مصر کے بعد انھوں نے مشرق وسطیٰ میں تجارت کے لیے اہم رومن شہروں کو فتح کرنا جاری رکھا۔ تاہم 270 میں کلاڈیئس کے بعد اوریلیانو کی آمد نے پیلمائرا کی سلطنت کے توسیع کے منصوبوں کو دھچکا پہنچایا۔

اوریلیانو نے زنوبیا کے سامراجی منصوبوں کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔ اولینیانو نے گوتھک، غول اور ایلمانی قبیلوں کو روکنے میں کامیابی حاصل کرنے کے علاوہ مصر کو بھی دوبارہ حاصل کر لیا اور مشرق میں دوبارہ روم کا پرچم لہرانے کا فیصلہ کیا۔

ایک کے بعد دوسرے، وہ ان تمام علاقوں کو حاصل کرتا چلا گیا جن پر زنوبیا کی فوجیں قبضہ کر چکی تھیں۔ ملکہ کو اپنی فوجیں واپس بلانی پڑیں اور پیلمائرا میں چھپنا پڑا۔ لیکن اوریلیانو ہارنے والوں میں سے نہیں تھا۔ اس نے پیلمائرا کو چاروں طرف سے گھیر لیا اور باہر سے آنے والی اشیاء کے شہر میں داخلے کو روک دیا۔

اس دوران 272 میں زنوبیا اور ان کے صاحبزادے نے سلطنت فارس بھاگنے کی کوشش کی، لیکن دونوں پکڑے گئےاور انھیں روم لے جایا گیا۔ روم میں بادشاہ نے اپنی فتح کا جلوس نکالا جس میں دونوں قیدیوں کی نمائش کی گئی۔

اس کے بعد کیا ہوا اس بارے میں مختلف داستانیں ہیں۔ سب سے زیادہ مقبول داستان کے مطابق اوریلیانو نے انھیں معاف کر دیا تھا اور روم کے شمال مشرقی شہر تِبور (موجودہ تِوولی) میں پورے عیش و آرام کے ساتھ جلا وطنی کی زندگی گزارنے دی۔

اس داستان کے مطابق زنوبیا روم کے اعلیٰ سماج میں ایک بہترین فلسفی کے طور پر جانی گئیں۔

پیلمائرا کی شان
زنوبیا نے اپنی حکمرانی کے دوران پیلمائرا کی خوبصورتی میں چار چاند لگا دیے۔ پیلمائرا اپنی خوبصورت عمارتوں، مجسموں اور باغیچوں کے لیے مشہور رہا ہے۔

پیلمائرا کے کھنڈرات جو اب شام کے صوبہ حمس میں واقع ہیں، عالمی ورثوں میں شامل ہے لیکن ان تاریخی ڈھانچوں کو شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

تاریخ کے ہر دور میں پیلمائرا کی خوبصورتی اور تاریخی اہمیت کو برقرار رکھا گیا۔ شام میں اس شہر کے قدیم ڈھانچے سیاحتی اعتبار سے خاصی اہمیت رکھتے ہیں۔ سنہ 1980 میں پیلمائرا کو یونیسکو کی جانب سے عالمی ورثہ قرار دیا گیا۔

حالانکہ، اس شہر پر متعدد بار قبضہ ہوا اور اس دوران اسے شدید نقصان بھی پہنچایا گیا۔ پیلمائرا کی سلطنت کے غروب اور باغیوں کی ناکام کوشش کے بعد رومن حکمرانوں نے پیلمائرا پر قبضہ کر لیا، جو کہ پہلا قبضہ تھا۔

پیلمائرا سے بیش قیمتی اشیاء اور خزانے روم لے جائے گئے۔ جدید دور میں بھی پیلمائرا نے شدید نقصان اٹھایا۔ 2015 میں نام نہاد شدت پسند گروہ دولت اسلامیہ نے شام کی خانہ جنگی میں اس شہر پر قبضہ کر کے اس کی عمارتوں اور قدیم ڈھانچوں کو شدید نقصان پہنچایا۔

شہر کے متعدد تاریخی مجسموں اور عمارتوں کو بت پرستی کی علامت بتا کر بارود سے تباہ کر دیا گیا۔ حالانکہ، شہر کا قبضہ واپس حاصل کرنے کے بعد شام کی حکومت نے کہا تھا کہ شدید نقصان کے باوجود شہر کے متعدد اہم اور قدیم ڈھانچے اب بھی برقرار ہیں۔

 

یہ بھی دیکھیں

پچیس ذیقعدہ کا دن نزول رحمت اور فرش زمین بچھنے کا دن ہے

حضرت امام رضا علیہ السلام جب خراسان کے سفرکے دوران 25 ذیقعدہ کو مرو پہنچے …