اتوار , 5 دسمبر 2021

دو بحرینی نوجوانوں کی سزائے موت

اداراتی نوٹ
پیر کے روز بحرین کی عدالت نے حکومت مخالف 2 بحرینی نوجوانوں کی سزائے موت کی تائید کر دی ہے۔ کورونا وائرس کے سائے میں دو بحرینی نوجوانوں کی سزائے موت اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومتِ بحرین اور عوام کے درمیان گہرا شگاف پیدا ہوگیا ہے۔ بحرین میں آل خلیفہ حکومت کو اسرائیل کی جعلی حکومت کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے کے بجائے اپنے عوام کے ساتھ تعلقات کی اصلاح کرنی چاہیئے۔ بحرین میں آل خلیفہ حکومت کی نمائشی عدالت نے ہمیشہ بحرینی انقلابیوں کو بے بنیاد الزامات کے تحت موت، شہریت منسوخ کر دینے یا پھر طویل المیعاد قید کی سزا سنائی ہے اور یہ سلسلہ بدستور جاری ہے۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنطیمیں سیاسی اور سماجی کارکنوں کے خلاف آل خلیفہ حکومت کے ظالمانہ و تشدد آمیز اقدامات پر بحرینی حکام کو بارہا خبردار کرچکی ہیں۔

برطانوی صحافی رابرٹ فسک نے سن دو ہزار گيارہ میں انڈیپنڈینٹ اخبار میں لکھا تھا کہ بحرین اب آل خلیفہ کی سرزمین نہیں ہے، بلکہ اب وہ سعودی عرب کا علاقہ اور اس کی ایک ریاست ہے۔ کئي برس گزر جانے کے بعد سبھی کو یہ بات سمجھ میں آگئی ہے کہ فسک کی پیش گوئی بالکل صحیح تھی، کیونکہ اس وقت بحرین تمام سیاسی، معاشی، سکیورٹی، فوجی یہاں تک کہ سماجی امور میں بھی پوری طرح سے سعودی عرب کے احکام کے تعمیل کر رہا ہے اور اس میں خود مختاری کی جھلک بھی دکھائی نہیں دیتی۔ سعودی عرب اور بحرین کے زرخرید مصنفین کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ بحرین جغرافیائی، سیاسی اور معاشی سطح پر بہت چھوٹا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ بحرین میں اقتدار اعلیٰ رکھنے  والے ایک خود مختار ملک میں تبدیل ہونے کے تمام ضروری عناصر پائے جاتے ہیں، لیکن وہ دو وجوہات کی بنا پر یہ کام نہیں کرسکتا۔

پہلی وجہ بحرین کو نگلنے کا سعودی عرب کا طویل المیعاد منصوبہ ہے اور دوسری وجہ آل خلیفہ کی عوام سے دوری ہے اور اسی وجہ سے یہ خاندان اپنے تخت و تاج کی حفاظت کے لیے آل سعود کے سامنے ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہوا ہے۔ سعودی عرب اور بحرین کے درمیان آقا و غلام کا جو رشتہ ہے، وہ دنیا میں کہیں بھی نہیں دکھائی دیتا۔ بحرین کے فرمانروا اور آل خلیفہ خاندان بحرینی قوم کے ساتھ انصاف، مساوات اور انسانیت کے احترام کی بنیاد پر فطری رابطہ قائم کرنے میں ناکامی کی وجہ سے اور خاندان پرستی، امتیازی سلوک اور ظالمانہ پالیسیوں کو ترجیح دینے کی وجہ سے سعودی عرب کا پٹھو بن چکا ہے اور اس نے بحرین کو ریاض کی جانب سے نگلنے کی راہ ہموار کر دی ہے۔ البتہ یہ بات آل سعود کی سمجھ میں نہیں آرہی ہے کہ قوموں کو نگلنے کا زمانہ گزر چکا ہے۔ آل خلیفہ حکومت مخالف دو بحرینی نوجوانوں کی سزائے موت کو بھی اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ یاد رہے کہ بحرینی عوام فروری دو ہزار گیارہ سے اپنے ملک میں جمہوریت اور آزادی کے قیام کے لئے پُرامن جدوجہد کر رہے ہیں۔

بشکریہ اسلام ٹائمز

یہ بھی دیکھیں

اللہ کے بندے اور آئی ایم ایف کے بندے

تحریر: تصور حسین شہزاد پاکستانی قوم اتنی سادہ ہے کہ جس عطار کے لونڈے کی …