اتوار , 28 نومبر 2021

امریکہ میں 3 کروڑ افراد بے روزگار ہو گئے

واشنگٹن: امریکہ میں اقتصادی صورتحال بگڑتی جا رہی ہے اور اب تک مزدور طبقے سے تعلق رکھنے والے تقریبا تین کروڑ امریکی اپنے روزگار سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔ابلاغ نیوز نے فارس نیوز ایجنسی کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ امریکی سینیٹر اور آئندہ صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کے سابق حریف برنی سینڈرز نے ایک ٹوئیٹ کیا جس میں انہوں نے کورونا کے بعد امریکہ کی بگڑتی اقتصادی و معیشتی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ حالیہ چند مہینوں کے دوران تین کروڑ امریکی شہری اپنی آمدنی کے ذرائع ہاتھ سے گنوا چکے ہیں اور اس وقت بہت سے امریکی، غذا کی فراہمی کے لئے جدوجہد میں مصروف ہیں۔

برنی سیڈرز نے امریکہ میں سماجی طبقات کے درمیان پائی جانے والی خلیج کی جانب اشارہ کیا اور کہا کہ امریکہ واحد ایسا بڑا اور ترقی یافتہ ملک ہے جہاں میڈیکل انشورنس کی سہولت تمام شہریوں کے لئے میسر نہیں ہے۔تازہ ترین تحقیقات کے مطابق امریکہ میں فروری سے مئی کی درمیانی مدت میں کم سے کم چون لاکھ امریکی بے روزگار ہونے کے سبب اپنے میڈیکل انشورنس سے بھی محروم ہو چکے ہیں۔کورونا وائرس کے آغاز سے لے کر اب تک امریکہ میں ہزاروں کمپنیاں، کارخانے اور تجارتی مراکز بند ہو چکے ہیں۔ ماہرین اقتصاد نے یہ خدشہ ظاہر کیا ہے کہ امریکہ میں بے روزگاری کی شرح سولہ فیصد تک پہنچ جائے گی جو دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکہ میں ایک ریکارڈ شمار ہوتی ہے۔جدید ترین اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں اب تک اڑتیس لاکھ اٹھانوے ہزار پانچ سو سے زائد افراد کورونا کی لپیٹ میں آ چکے ہیں جن میں سے ایک لاکھ تینتالیس ہزار افراد کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

لبنان کو ایرانی تیل کی ترسیل کا سلسلہ جاری

تہران: ایرانی ایندھن کا حامل ایک اور کاروان شام کے راستے لبنان میں داخل ہو …