اتوار , 17 اکتوبر 2021

ترکی کی توانائی کی دریافت کے لیے سرگرمیوں کے ردعمل میں یونانی بحریہ بھی چوکس

اسلام آباد: یونان نے بحیرہ ایجین میں ترکی کی توانائی کی تلاش اور کھدائی کی سرگرمیوں کے ردعمل میں اپنے جنگی بحری جہاز بھیج دیے ہیں اور انھیں چوکس رہنے کا حکم دیا ہے۔ابلاغ نیوز نے عالمی ذرائع ابلاغ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ یونان نے ایک روز قبل ترکی کی جانب سے بحیرہ ایجین کے جنوب مشرقی علاقے میں ایک جہاز بھیجنے کے ردعمل میں یہ اقدام کیا ہے۔ یونانی وزارت خارجہ نے ترکی کے اس اعلان پر باضابطہ احتجاج کیا تھا۔ترکی نے کہا تھا کہ یہ جہاز یونانی جزیرے کاسٹیلوریزو کے جنوب میں تیل اور گیس نکالنے کے لیے کھدائی کا کام کرے گا۔

یونانی بحریہ کے ایک افسر نے فرانسیسی خبررساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا ہے کہ ’’ ایجین کے جنوب مشرق اور جنوب میں نیوی کے یونٹس تعینات کردیے گئے ہیں‘‘ لیکن انھوں نے اس کی مزید تفصیل نہیں بتائی ہے۔البتہ صرف یہ کہا ہے کہ یونٹس کسی بھی سرگرمی کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔یونانی بحریہ نے جہاز راں کمپنیوں پر زوردیا ہے کہ وہ ترکی کی جانب سے علاقے میں جہاز رانی پر عاید کردہ پابندیوں کو نظر انداز کردیں۔

یونانی وزیراعظم کیریاکوس مٹسوٹاکیس نے جمعرات اور جمعہ کو گریک پارٹی کے لیڈروں کو الگ الگ ملاقات کے لیے بلا بھیجا ہے۔ وہ انھیں قومی امور کے بارے میں بریفنگ دیں گے۔یونان کا کہنا ہے کہ ترکی کے قبرص کی سمندری حدود میں تیل کی تلاش اور ڈرلنگ کے لیے سروے کی وجہ سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے جبکہ ترکی یونان کے اس موقف کو تسلیم نہیں کرتا ہے اوراس کا کہنا ہے کہ اس علاقے پر یونان کے کوئی حقوق نہیں ہیں۔یونانی وزارت خارجہ نے بدھ کو ایک بیان میں کہا:’’ہم ترکی سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر اپنی غیر قانونی سرگرمیاں بند کردے۔یہ ہمارے خود مختارانہ حقوق کے منافی ہیں اور ان سے خطے میں امن اور سلامتی کو نقصان پہنچے گا۔‘‘یورپی یونین نے بھی ترکی کی قبرص کے ساحلی علاقے میں تیل اور گیس نکالنے کے لیے ڈرلنگ کی غیر قانونی سرگرمی پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔اس کے علاوہ اس نے لیبیا میں اقوام متحدہ کی تسلیم شدہ حکومت کی حمایت میں ترکی کے اقدامات اور فوجی سرگرمیوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

ایرانی و ہندوستانی وزرائے خارجہ کی ملاقات، باہمی تعاون کے مزید فروغ کے لئے پر عزم

نیویارک: اسلامی جمہوریہ ایران اور ہندوستان کے وزرائے خارجہ کے درمیان اقوام متحدہ کی جنرل …