اتوار , 17 اکتوبر 2021

پاکستان کی علاقائی ممالک کو برآمدات میں 24فیصد کمی

اسلام آباد: مارچ میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے نافذ کیے گئے لاک ڈاؤن کے سبب پاکستان کی علاقائی ممالک کو برآمدات میں سال 20-2019 میں سالانہ بنیادوں پر 24 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

اسٹیٹ بینک کے مرتب کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق خطے میں افغانستان، چین، بنگلہ دیش، سری لنکا، ہندوستان، ایران، نیپال، بھوٹان اور مالدیپ کو برآمدات گزشتہ سال 4 ارب 65کروڑ 58 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں مالی سال 20 میں 3 ارب 73کروڑ 80 لاکھ ڈالر رہیں۔

ایک سال کے دوران خطے کے ساتھ تجارتی خسارہ کم ہوا کیونکہ ان ممالک سے درآمدات میں بھی کمی دیکھی گئی۔

مزید یہ کہ افغانستان کے ساتھ برآمدات گزشتہ چند برسوں سے مستقل زوال کا شکار ہے جس کی وجہ کابل کے ساتھ خراب تعلقات اور متعدد سرحدوں کی بندشیں ہیں، شمال مغربی ہمسایہ ملک کو پاکستان کی برآمدات مالی سال 20 میں 88 کروڑ 89 لاکھ 13 ہزار ڈالر رہیں، جو مالی سال 19 میں ایک ارب 19 کروڑ 20لاکھ ڈالر تھیں جس اسکا مطلب یہ ہوا کہ اس میں 25.5فیصد کی کمی آئی۔

کچھ سال پہلے امریکا کے بعد افغانستان دوسری بڑی برآمدات کی منزل تھا، اسی اثنا میں ملک سے درآمدات بھی مالی سال 20 میں 28.5 فیصد کی کمی سے 12 کروڑ 18 لاکھ ڈالر سے زائد رہ گئیں جو 19-2018 میں 17 کروڑ 4 لاکھ ڈالر سے زائد تھیں۔

چین کو بھی پاکستان کی برآمدات مالی سال 20 میں 10.5 فیصد کم ہوکر ایک ارب 66 کروڑ 30 لاکھ ڈالر رہیں جو گزشتہ سال ایک ارب 85 کروڑ 80 لاکھ ڈالر تھیں، آمدنی میں کمی اس وقت بھی نوٹ کی گئی حالانکہ وزارت تجارت نے بیجنگ کے ساتھ آزاد تجارت کے معاہدے کے دوسرے مرحلے کے تحت مقامی مصنوعات کے لیے ترجیحی مارکیٹ تک رسائی کا دعویٰ کیا، مالی سال 20 میں چین سے درآمدات 9 ارب 54 کروڑ 40 لاکھ ڈالر ہو گئیں جو گزشتہ سال 10 ارب 16 کروڑ 40 ارب ڈالر تھیں جو 6فیصد کمی ظاہر کرتی ہیں۔

مالی سال 20 میں بھارت کو برآمدات 90.8فیصد کمی کے ساتھ 2کروڑ 86 لاکھ ڈالر پر آگئیں جہاں مالی سال 19 میں یہ 31کروڑ 19لاکھ ڈالر تھیں، حکومت نے پچھلے سال نئی دہلی کے ساتھ تجارتی تعلقات معطل کردیے تھے تاہم معطلی کے باوجود وزارت تجارت نے ہندوستان کو برآمدات کے بارے میں ابھی تک واضح نہیں کیا۔

مالی سال 20 میں ہندوستان سے درآمدات 37کروڑ 48 لاکھ ڈالر ہوگئیں جو مالی سال 19 میں ایک ارب 59 کروڑ 50 لاکھ ڈالر تھیں، نئی دہلی کے ساتھ تجارتی تعلقات معطل ہونے کے باوجود حکومت نے مشرقی ہمسایہ ملک سے دوائیوں کے لیے خام مال کی درآمدات کی اجازت دی تھی۔

گزشتہ مالی سال میں ایران کو برآمدات کی مالیت 0.055 ملین ڈالر پر آ گئی ہے جو مالی سال 19 میں 29لاکھ 42ہزار ڈالر تھی جبکہ اس وقت ملک 0.048 ملین ڈالر پر ہے جو ایک سال قبل بالکل بھی نہیں تھا، ایران کے ساتھ زیادہ تر تجارت سرحدی علاقوں میں غیر رسمی چینل کے ذریعے کی جاتی ہے۔

بنگلہ دیش کو برآمدات مالی سال 20 میں 74کروڑ 47لاکھ ڈالر سے کم ہوکر 69کروڑ 41لاکھ ڈالر ہوگئیں جو 6.79 فیصد کی کمی کا اشارہ کرتی ہے، اسلام آباد نے حال ہی میں دونوں ممالک کے مابین تجارت کو مزید آسان بنانے کے لیے ڈھاکا سے بات چیت بحال کی ہے۔

اسی طرح سری لنکا کو برآمدات مالی سال 20 میں 5.49فیصد کمی سے 28کروڑ 97 لاکھ ڈالر ہوگئیں جو پچھلے سال کے 30کروڑ 37لاکھ ڈالر تھیں، اسلام آباد نے کولمبو کے ساتھ پہلی بار ایف ٹی اے پر دستخط کیے ہیں لیکن دونوں ممالک کے درمیان تجارت حقیقی صلاحیت سے بہت پیچھے ہے۔

دوسری جانب نیپال کو برآمدات میں 86.7 فیصد کا اضافہ ہوا اور یہ مالی سال 20 میں 2کروڑ 16لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی جو گزشتہ سال 28 لاکھ 72ہزار ڈالر تھی جبکہ مالدیپ جانے والوں کی مالیت 63لاکھ سے 37.36فیصد اضافے کے ساتھ 84 لاکھ 78ہزار ڈالر ہوگئی، بھوٹان کو برآمدات مالی سال 20 میں 60.8فیصد کمی کے بعد 9کروڑ 40 لاکھ ڈالر تک آ گئی جو 19-2018 میں 24کروڑ ڈالر تھیں۔

یہ بھی دیکھیں

توانائی کے بحران میں حکومت کا نئے ایل این جی ٹرمینل کی طرف جھکاؤ

اسلام آباد: بظاہر لگتا پے کہ حکومت نے موجودہ ایل این جی ٹرمینل کی مرمت …