ہفتہ , 15 مئی 2021

نتن یاھو بن سلمان ملاقات، آل سعود کی غداری

سعودی عرب کے ولی عہد بن سلمان نے صیہونی حکومت کے وزیراعظم بن یامین نیتن یاھو کے ساتھ ہونے والی حالیہ خفیہ ملاقات کی خبریں جاری کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

المیادین ٹیلی ویژن کے مطابق صہیونی اخبار اسرائیل ٹوڈے نے اپنے ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ سعودی عرب کے ولی عہد بن سلمان نے صیہونی وزیراعظم بن یامین نیتن یاھو کے ساتھ ملاقات کی خـبریں جاری کرنے  کی منظوری دے دی ہے  تا کہ اس حوالے سے سامنے آنے والے ردعمل کا جائزہ لیا جاسکے ۔

مذکورہ صہیونی اخبار کے مطابق بن سلمان اور نیتن یاھو کے درمیان یہ پہلی ملاقات نہیں تھی اور اس ملاقات میں شریک افراد نے امریکہ کی نئی حکومت کو واضح پیغام دینے کے لیے اس سے متعلق خبروں کو عام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سعودی ولی عہد نے صیہونی وزیراعظم کے دورہ سعودی عرب کی خبریں عام کرنے کی منظوری ایسے وقت میں دی ہے جب اس سے پہلے وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے حوالے سے ممکنہ عوامی ردعمل کے بارے میں اپنے خوف اور تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔

صیہونی ذرائع ابلاغ نے پیر کے روز بن یامین نیتن یاھو اور موساد کے عہدیداروں کے خفیہ دورہ سعودی عرب کی خبریں جاری کی تھیں۔ اس موقع امریکی وزیر خارجہ مائک پومپیو بھی سعودی عرب میں موجود تھے۔

بن یامین نیتن یاھو اور بن سلمان کے درمیان خفیہ ملاقات کی خبریں میڈیا میں آنے کے بعد علاقائی سطح پر منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔ فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک اسلامی جہاد حماس اور عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین جیسے جہادی گروہوں نے اس ملاقات کو خطرناک قرار دیا ہے۔

اسلامی جہاد کے رہنما داؤد شہاب نے کہا ہے کہ نیتن یاھو کے دورہ سعودی عرب کے علاقائی امن اور استحکام پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ صیہونی حکومت کے وزاعظم کا دورہ سعودی عرب قبلہ اول بیت المقدس سے غداری اور فلسطینیوں کے خلاف نئی جارحیت کا پیش خیمہ ہے۔

تحریک حماس کے سینئر رہنما سامی ابو زھری نے پیر کو تاکید کے ساتھ کہا کہ ریاض کو نیتن یاہو کے دورہ سعودی عرب کے بارے میں کہ جو مسلم امہ کی توہین اور ملت فلسطین کے حقوق کی پامالی ہے، وضاحت پیش کرنا چاہئے-

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …