اتوار , 1 اگست 2021

نیتن یاہو کا دورہ ریاض، فلسطین کی پشت میں آل سعود کا سب سے بڑا خنجر

اسرائیل کے وزیر تعلیم یوآف گالانت نے بھی اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اور سعودی ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان کے درمیان انجام پانے والی ملاقات کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے پیر 23 نومبر 2020ء کے دن اسرائیل آرمی کے ریڈیو چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا: "یہ حقیقت انتہائی درجہ اہم ہے کہ دونوں سربراہوں میں ملاقات انجام پائی ہے اور اس کے بعد اس کا اعلان بھی کر دیا گیا ہے اگرچہ ابھی تک نیم سرکاری سطح پر اس کا اعلان کیا گیا ہے۔” اسرائیلی وزیر تعلیم یوآف گالانت نے کہا کہ ہمارے اجداد ایسے دورے کی آرزو دل میں لے کر مر گئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا: "اصل مسئلہ سنی ممالک کی جانب سے اسرائیل کا پرتپاک استقبال اور ان کے درمیان دشمنی کی شدت میں کمی واقع ہونا ہے۔”

حال ہی میں ایک خبر نے خبروں کی دنیا میں ہلچل مچا دی ہے۔ یہ خبر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے دورہ ریاض اور سعودی ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ان کی ملاقات پر مبنی ہے۔ اگرچہ سعودی وزیر خارجہ نے ملاقات کی تردید کی ہے لیکں بعض ایسے ٹھوس شواہد موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ خبر حقیقت پر مبنی ہے۔ معروف امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے ایک اعلی سطحی سعودی حکومتی عہدیدار کے بقول لکھا ہے کہ سعودی ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی ملاقات میں عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان تعلقات معمول پر لانے اور ایران سے متعلق ایشوز پر بات چیت انجام پائی ہے۔ اسی طرح اس ملاقات میں سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کے فروغ پر بھی بات ہوئی ہے۔دوسری طرف بین الاقوامی پروازوں کی معلومات ظاہر کرنے والی ویب سائٹس نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے زیر استعمال طیارہ ایک پرسنل تجارتی طیارہ تھا جو پانچ گھنٹے تک سعودی عرب کے شمال مغرب میں حال ہی میں تعمیر کئے گئے نئے شہر "نیوم” میں کھڑا رہا ہے۔ یہ شہر بحیرہ احمر کے ساحل پر تعمیر کیا گیا ہے۔ پانچ گھنٹے بعد یہ طیارہ تل ابیب کے بن گورین ایئرپورٹ واپس آیا ہے۔ کان اور گالاٹس نامی اسرائیلی ریڈیو چینلز نے بھی اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اور اسرائیلی جاسوسی ادارے موساد کے سربراہ یوسی کوہن نے گذشتہ رات خفیہ طور پر سعودی عرب کا دورہ کیا ہے اور نیوم شہر میں سعودی ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات بھی کی ہے۔

اسی طرح اسرائیل کے عبری زبان میں شائع ہونے والے اخبار "اسرائیل ہیوم” نے آج 24 نومبر 2020ء کی اپنی اشاعت میں لکھا ہے کہ سعودی عرب کے اعلی سطحی حکومتی عہدیداروں کے بقول بنجمن نیتن یاہو اور شہزادہ محمد بن سلمان کے درمیان انجام پانے والی ملاقات میں ایران کے خلاف متحدہ محاذ تشکیل دینے پر غور کیا گیا ہے۔ اعلی سطحی سعودی حکومتی عہدیداروں نے اخبار کو مزید بتایا کہ ریاض اس بارے میں مطمئن ہے کہ جو بائیڈن اور ان کے مشیر ابھی سے ایران کے ساتھ ممکنہ جوہری معاہدے کی منصوبہ بندی انجام دے چکے ہیں اور وہ اس سے پہنچنے والے نقصان کو کم از کم کرنے کے درپے ہیں۔ یاد رہے ان اعلی سطحی سعودی حکومتی عہدیداروں کا دعوی ہے کہ وہ محمد بن سلمان اور نیتن یاہو کے درمیان ملاقات کی تفصیلات سے آگاہ ہیں۔

اسرائیل کے وزیر تعلیم یوآف گالانت نے بھی اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اور سعودی ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان کے درمیان انجام پانے والی ملاقات کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے پیر 23 نومبر 2020ء کے دن اسرائیل آرمی کے ریڈیو چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا: "یہ حقیقت انتہائی درجہ اہم ہے کہ دونوں سربراہوں میں ملاقات انجام پائی ہے اور اس کے بعد اس کا اعلان بھی کر دیا گیا ہے اگرچہ ابھی تک نیم سرکاری سطح پر اس کا اعلان کیا گیا ہے۔” اسرائیلی وزیر تعلیم یوآف گالانت نے کہا کہ ہمارے اجداد ایسے دورے کی آرزو دل میں لے کر مر گئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا: "اصل مسئلہ سنی ممالک کی جانب سے اسرائیل کا پرتپاک استقبال اور ان کے درمیان دشمنی کی شدت میں کمی واقع ہونا ہے۔”

اسرائیل آرمی ریڈیو چینل نے اپنے ٹویٹر اکاونٹ پر جاری کئے گئے پیغام میں لکھا ہے: "ایک نیا اتحاد تشکیل پا رہا ہے جس میں اسرائیل، امریکہ اور تمام ایسے ممالک شامل ہیں جو ایران کی شدت پسندی کے مخالف ہیں۔” اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ سعودی ولیعہد محمد بن سلمان کی ملاقات پر مبنی خبر شائع ہونے کے بعد وسیع پیمانے پر اسلامی دنیا میں اس کے خلاف شدید ردعمل سامنے آنا شروع ہو گیا ہے۔ لبنان کے اخبار "الاخبار” نے اس ملاقات کو فلسطین کی پشت میں آل سعود رژیم کا سب سے بڑا خنجر قرار دیتے ہوئے لکھا ہے: "آل سعود رژیم نے کئی سال پہلے سے غاصب صہیونی رژیم کے ساتھ خفیہ تعلقات استوار کر رکھے ہیں۔ لیکن اب اسرائیلی میڈیا کی جانب سے ان تعلقات کو منظرعام پر لانا اور انہیں خیر مقدم کہنا ایک نئے مرحلے کے آغاز کو ظاہر کرتا ہے۔”

الاخبار مزید لکھتا ہے: "اگرچہ سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے نیتن یاہو اور محمد بن سلمان کے درمیان ملاقات کا انکار کیا ہے لیکن اس کے باوجود اسرائیلی وزیراعظم کے دورہ ریاض کا انکار نہیں کیا۔ یہ دورہ ایک نئے مرحلے کے آغاز کو ظاہر کرتا ہے جو صہیونی رژیم اور آل سعود رژیم کے درمیان اعلانیہ اتحاد سازی کا مرحلہ ہو گا۔” الاخبار نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ ممکن ہے آل سعود رژیم اور صہیونی رژیم ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاوس سے رخصتی سے پہلے ایک بڑا شدت پسندانہ اقدام انجام دیں اور ان کے اس اقدام کا خطرہ سب سے زیادہ فلسطین پر چھایا ہوا ہے۔ الاخبار کے مطابق ماضی کے برعکس اس بار اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسیز نے اس ملاقات کو منظرعام پر لانے کی اجازت دی ہے جس سے اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتے دوستانہ تعلقات ظاہر ہوتے ہیں۔

تحریر: علی احمدی

یہ بھی دیکھیں

مقبوضہ کشمیر: عیدالاضحیٰ پر جانوروں کی قربانی پر پابندی کا فیصلہ واپس

سری نگر: بھارتی حکام نے مقبوضہ کشمیر میں عیدالاضحیٰ پر جانوروں کی قربانی پر پابندی …