ہفتہ , 18 ستمبر 2021

ایران پاکستان کے توانائی کے شعبے میں ضرورت پورا کرنے کے لئے تیار

ایران کے سفیر نے پاکستان سے قریبی اور گہرے تعلقات سمیت تجارتی اور اقتصادی شعبوں میں باہمی تعلقات کے مزید فروغ پر تاکید کی۔

پاکستان میں تعینات اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر سید محمد علی حسینی نے پاکستان  کے ایک نجی ٹی وی چینل کوانٹرویو دیتے ہوئے ایران اور پاکستان کے دلچسپی کے امور، تجارتی تعلقات، دونوں ممالک کے عوام کے درمیان تعلقات، افغانستان کی صورتحال، کورونا کے بحران کے خاتمے کے بعد باہمی تعاون کے فروغ اور امریکی صدارتی انتخابات کے بعد کی صورتحال پر گفتگو کی۔

سید محمد علی حسینی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان کا ملک توانائی کے شعبے میں پاکستان کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے تیار ہے اور تہران- اسلام آباد کے تعلقات کی توسیع ایران کی ترجیحات میں سرفہرست ہے۔

ایرانی سفیر نے افغانستان میں قیام امن اور استحکام کو ایران اور پاکستان کیلئے انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ  ایران اپنے ہمسایہ ملک میں قیام امن کا خواہاں ہے۔

سید محمد علی حسینی نے کہا کہ اس وقت پاک ایران باہمی تجارتی حجم کی شرح 5۔1 ارب ڈالر ہے جسے 5 ارب ڈالر تک پہنچنانے کی کوشش ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران اور پاکستان نے 2009ء میں گیس پائپ لائن منصوبے پر دستخط کیے جو اس شعبے میں باہمی تجارتی تعلقات کی اہم مثال ہے۔

ایرانی سفیر نے کہا کہ اس وقت ایران 100 میگاواٹ سے زیادہ بجلی پاکستان کو برآمد کررہا ہے اورپاکستان میں توانائی کے بحران میں کمی لانے کے لئے اسے 500 میگا واٹ تک لے جانے کاارادہ ہے۔

یہ بھی دیکھیں

طالبان نے سابق حکمرانوں سے برآمد لاکھوں ڈالر مرکزی بینک میں جمع کرا دیے

کابل: طالبان نے سابق حکومتی عہدیداروں سے برآمد ہونے والے ایک کروڑ 20 لاکھ امریکی …