جمعہ , 17 ستمبر 2021

اسرائیل کو تسلیم کرنے کامسئلہ ؟

پاکستان میں کھل کر یا پھر ڈرائنگ روموں میں یہ بحث چل رہی ہے کہ کیا پاکستان کو اسرائیل کو تسلیم کرلینا چاہیے؟

مجھے یقین ہے کہ پاکستان کے عوام کی اکثریت جس میں اہل دانش اور بنیش بھی شامل ہیں ’اسرائیل کو پاکستان کی جانب سے تسلیم کرنے کی حمایت نہیں کریں گے۔ ماسوائے چند عناصر کے جو روپیہ پیسہ لے کر اسرائیل کو تسلیم کرنے کی پاکستان میں لابی کررہے ہیں‘ وہ بری طرح ناکام ہوں گے بلکہ بدنام ہونگے(پہلے بھی یہ عناصر کب نیک نام تھے) چنانچہ عمران خان کا اسرائیل کو نہ تسلیم کرنے سے مختلف موقف بالکل درست ہے۔ ان پر یقینا بعض عرب ممالک اور عالمی سامراج کی جانب سے دبائو ضرور ہوگا لیکن انہیں اس مسئلے میں ثابت قدم رہناچاہیے۔

اسرائیل وہ واحد ملک ہے جس کی سیاسی قیادت نے پاکستان کی روز اول سے مخالفت کی ہے اور اب بھی وہ چھوٹے سامراج بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان کی سالمیت کے خلاف کام کررہے ہیں۔ اسرائیل کے پہلے وزیراعظم نے اپنی پارلیمنٹ میں کہاتھا کہ’’ اسرائیل کیلئے سب سے زیادہ خطرناک ملک پاکستان ہے‘‘ اس لئے اس کے خلاف کام کرنے کی ضرورت ہے ، ’’شاید اسرائیل کے آنجہانی وزیراعظم کو اس بات کا علم نہیں تھا کہ پاکستان عوام کی طاقت اور جمہوریت کے اصولوں کے تحت معروض وجود میں آیاہے‘‘ جس کے لئے برصغیر کے تیس لاکھ مسلمانوں نے اپنی جان ومال کی قربانیاں دی ہیں ، نیز ایسی ہجرت بھی کی ہے جس کی مثال جدید دنیا میں نہیں ملتی ہے۔

جبکہ اسرائیل برطانوی اور امریکی سامراج کے تعاون سے فلسطینیوں کی سرزمین آباد کیا گیا ہے۔ یہ یہودی ملک نہیں ہے بلکہ zoinist ملک ہے جس کا بنیادی منشور مسلمان ممالک کے درمیان اختلافات پیدا کر کے انہیں اپنا زیرنگین بنانا ہے۔ مزید براں اس نے فلسطینیوں کے ساتھ جو ظلم روا رکھا ہے۔ وہ نہ صرف قابل مذمت ہے بلکہ آئے دن یہ سامراج کی ایما پر فلسطینیوں کی باقی رہ جانے والی زمینوں پر قبضہ کررہا ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے گولن ہائٹس کو اسرائیل کے حوالے کردیا ہے ’حالانکہ یہ علاقہ شام کا ہے‘ اسرائیل نے اس پر 1967ء کی جنگ کے دوران قبضہ کیا تھا۔ جبکہ یروشلم کو اسرائیل کا درالخلافہ بناکر مسلمانوں کے مذہبی اور ثقافتی جذبات کو مجروح کیا ہے ’عرب ممالک اس صورتحال کے سامنے خاموش ہیں‘ انہیں اپنا اقتدار عزیز ہے ’اور اس ہی اقتدار کو بچانے کیلئے وہ اسرائیل کے ساتھ دوستی کررہے ہیں‘ سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے بحراحمر (Redsea) کے ایک خوبصورت مقام پر اسرائیلی وزیراعظم کے ساتھ جو ملاقات کی ہے (جو اخباری اطلاعات کے مطابق پانچ گھنٹے تک جاری رہی تھی) اس میں یہی طے پایا ہے کہ اسرائیل سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک مثلاً یو اے ای ’بحرین‘ سوڈان کے خلاف فوجی کارروائی نہیں کرے گا بلکہ وقت آنے پر ان کی مدد کرے گا۔ اس ملاقات میں امریکی وزیرخارجہ مسٹر پومپیو بھی موجود تھے۔

اس موقع پر سعودی عرب کی تاریخ کا حوالہ دینا ضروری ہے جب بادشاہ عبدالعزیز نے حجاز(اصلی نام) کے بعض علاقوں کو فتح کیا تو انہوں نے امریکی صدر روز ویلٹ سے ملاقات کرنے کی خواہش ظاہر کی جن کا جنگی بحری جہاز(Quincy) سوئز کینال پر لنگر انداز تھا۔ یہ ملاقات 14فروری 1945 کو ہوئی تھی ’دوسری جنگ عظیم کے شعلے بھج رہے تھے۔ جبکہ اسرائیل کو فلسطینی علاقوں میں قبضہ کرنے کی سامراجی چال زورں پر تھی‘ اس ملاقات میں بادشاہ عبدالعزیز امریکی صدر روز ویلیٹ سے درخواست کی سعودی عرب کی حفاظت اور استحکام کی تمام تر ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوگی‘ اور سعودی عرب تیل انتہائی کم نرخ پر امریکہ کو فروخت کرے گا اور امریکی کمپنی آرامکو اس کی نگراں ہو گی۔ بادشاہ عبدالعزیز اور امریکی صدر روز ویلٹ کے درمیان مذاکرات تین دن تک جاری رہے‘ جوکہ بعد میں کامیابی سے ہمکنار ہوئے تھے اس دن سے لیکر آج تک سعودی عرب کی حفاظت کی ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوتی ہے۔

اس پس منظر میں امریکی انتخابات سے قبل امریکی صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر امریکہ سعودی عرب کی حفاظت کرنے سے دستبردار ہو جائے تو سعودی حکومت اور ان کا اقتدار ایک ہفتہ میں تحلیل ہو جائے گی۔چنانچہ سعودی ولی عہد کی اسرائیلی وزیراعظم سے ملاقات میں یہ بات طے پائی ہے (اخباری اطلاعات) کہ آئندہ اسرائیل سعودی عرب کی حفاظت کرے گا ‘ جبکہ امریکہ دیگر معاملات پر ان دونوں ملکوں کو مشورے دیتا رہے گا۔ تاہم یہ بات بھی لکھنی بہت ضروری ہے کہ سعودی عرب یا دیگر عرب ممالک نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کرنے سے متعلق جو فیصلے کئے ہیں ’وہ ان کا اپنا اندرون معاملہ ہے‘ لیکن مظلوم فلسطینی عوام نے اسے مسترد کر دیا ہے‘ وہ اپنے اس موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ اسرائیل کے وجود سے متعلق بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے صحیح کہا تھا کہ ’’سامراجی ممالک نے اسرائیل کو قائم کرکے مسلمانوں کی پیٹ میں خنجر گھونپا ہے‘‘۔

دنیا بھر کا ایک عام مسلمان بھی سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان بڑھتے ہوئے مراسم سے سخت دل گرفتہ ہے لیکن وہ کچھ بھی نہیں کرسکتے ہیں۔ دوسری طرف اسرائیل کوتسلیم کرنے کا مطلب (خدانخواستہ) یہی ہوگا کہ پاکستان فلسطینیوں اور مقبوضہ کشمیر کے عوام کی جدوجہد آزادی اور خودمختاری کے مطالبے سے دستبردار ہو جائے ؟ ایسا ممکن نہیں ہے۔ تاہم مسلمانوں اور خصوصیت کے ساتھ اس مسئلہ پر بعض عرب ممالک کے درمیان اختلافات سے اسرائیل اور عالمی سامراج مشرق وسطیٰ کے موجودہ حالات سے بھرپور فائدہ اٹھائے گا اور ان کے وسائل پر جارحیت کے ذریعہ قبضہ بھی کرتارہے گا۔

ذرا سوچیئے !!

تحریر : آغا مسعود حسین

یہ بھی دیکھیں

کابل: شہریوں کو ہفتے میں ایک ہزار افغانی نکالنے کی اجازت، بینکوں پر رش لگ گیا

کابل: افغانستان کے دارالحکومت کابل میں طالبان کے کنٹرول کے بعد بینکوں میں رش لگ …