اتوار , 28 نومبر 2021

اگر مودی اس بار پھر ٹرمپ سرکار کا نعرہ لگا سکتے ہیں تو انڈین کسانوں کے احتجاج پر ٹروڈو کیوں نہ بولیں؟

انڈیا میں گذشتہ چھ روز سے ملک بھر سے آئے کسان دارالحکومت دلی میں دھرنا دیے بیٹھے ہیں اور اس وقت یہ مسئلہ انڈیا کے ذرائع ابلاغ کی شہ سرخیوں میں ہے۔ تاہم گذشتہ روز اس مباحثے میں کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کا ذکر بھی بار بار ہوا بلکہ خوب ہوا یہاں تک کہ انڈین حکومت کو بھی ایک باضابطہ بیان جاری کرنا پڑا۔

معاملہ کچھ یوں ہے کہ جسٹس ٹروڈو نے اپنے ایک حالیہ بیان میں انڈین سکیورٹی فورسز کے رویہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اُن (کینیڈا) کی حکومت ہمیشہ پُرامن احتجاج کی حامی رہی ہے۔

انڈین وزارت خارجہ نے ٹروڈو کے بیان پر سخت اعتراض کیا ہے اور وزارت خارجہ کے ترجمان انوراگ شریواستو نے ٹروڈو کے بیان کو ’غلط معلومات پر منبی‘ اور ’حقیقت سے دور‘ قرار دیا ہے۔

انھوں نے اپنے بیان میں کہا کہ کینیڈا کے وزیر اعظم کا بیان ’غیر ضروری‘ ہے اور کسی جمہوری ملک کے ’اندرونی معاملات میں مداخلت‘ کی طرح ہے۔

جسٹن ٹروڈو نے کینیڈا میں آباد لگ بھگ پانچ لاکھ سکھوں کے لیے گرو نانک دیو کی یوم پیدائش کے موقع پر ایک آن لائن پیغام میں کہا تھا کہ اگر وہ انڈیا میں جاری کسانوں کے مظاہرے کا ذکر نہیں کریں گے تو یہ ان کی غفلت ہو گی۔

خیال رہے کہ انڈیا کے بعد سکھوں کی سب سے بڑی آبادی کینیڈا میں مقیم ہے اور جب جسٹن ٹروڈو نے انڈیا کا دورہ کیا تھا تو وہ امرتسر کے گولڈن ٹیمپل بھی گئے تھے جو دنیا میں سکھوں کی سب سے بڑی زیارت گاہ ہے۔

جسٹن ٹروڈو نے گذشتہ روز سکھ مذہب کے بانی اور پہلے گرو کی یوم پیدائش کے موقعے سکھ برادری سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’صورتحال تشویشناک ہے۔ ہم تمام مظاہرین کے اہل خانہ اور دوستوں کے بارے میں فکرمند ہیں۔ میں آپ کو یہ یاد دلانا چاہتا ہوں کہ کینیڈا ہمیشہ پرامن احتجاج کے حق کے متعلق حساس رہا ہے۔ ہم بات چیت کی اہمیت پر یقین رکھتے ہیں۔ اس بارے میں ہم نے انڈین حکام سے براہ راست بات کی ہے۔’

ٹروڈو کے بیان پر انوراگ شریواستو نے کہا کہ سفارتی گفتگو کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

ٹروڈو

ٹروڈو کے بیان پر سوشل میڈیا میں گرما گرم بحث

بہر حال کینیڈا کے وزیر اعظم کے بیان کو انڈیا کے مختلف طبقہ ہائے فکر میں مختلف انداز میں لیا۔

سپریم کورٹ کے وکیل اور سماجی کارکن پرشانت بھوشن نے ٹویٹ کیا کہ ’مجھے خوشی ہے کہ کینیڈا کے وزیر اعظم ٹروڈو نے جمہوریت میں میسر احتجاج کے حق میں آواز اٹھائی۔ دنیا بھر کے قائدین کے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ وہ تمام ممالک میں جمہوری حقوق کے حق میں بات کریں۔ جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ اندرونی معاملے میں مداخلت ہے وہ اسے سمجھ نہیں رہے ہیں۔‘

ٹرینڈ

دوسری جانب سینیئر صحافی ویر سانگھوی نے ٹروڈو کے بیان پر تنقید کی ہے۔ انھوں نے ٹویٹ کیا ’کسانوں کے مظاہرے کے بارے میں میرا جو بھی نظریہ ہو لیکن مجھے ٹروڈو کا بیان پسند نہیں آیا۔ جسٹن ٹروڈو جانتے ہیں کہ کسی ملک کے رہنما کی حیثیت سے ان کے بیان کا عالمی سطح پر کوئی اثر نہیں ہو گا۔ وہ اپنے سکھ حامیوں کو خوش کر رہے ہیں۔‘

انھوں نے مزید لکھا ’انڈیا میں ہمارے اپنے اختلافات ہیں۔ مثال کے طور پر میں اس حکومت کا پرستار نہیں ہوں۔ لیکن میں اس اصول کے ساتھ ہوں کہ ہم اپنے تنازع کو داخلی طور پر حل کریں گے۔ یہ شرمناک بات ہے کہ بہت سے انڈینز ہمارے داخلی معاملات میں مغربی مداخلت کا خیرمقدم کر رہے ہیں کیونکہ انھیں اس حکومت کی مخالفت مقصود ہے۔‘

ٹرینڈ

کانگریس پارٹی حکومت کی جانب سے زرعی اصلاحات کے قانون کی مخالفت کرتی رہی ہے۔ لیکن کانگریس پارٹی کی قومی ترجمان شمع محمد نے بھی ایک ٹویٹ میں ٹروڈو کے تبصروں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

شمع محمد نے اپنے ٹویٹ میں لکھا ’میں مودی سرکار کے زرعی بل کے خلاف ہوں کیونکہ اس نے ہمارے کسانوں کو اعتماد میں نہیں لیا لیکن اس سے کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کو ہمارے اندرونی معاملات میں مداخلت کا حق نہیں ملتا ہے۔ ہم ایک خودمختار ملک ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ ہم اپنے معاملات کو کس طرح نمٹائیں گے۔‘

سوشل میڈیا پر کچھ لوگوں نے ٹروڈو کے بیان کے حق میں یہاں تک کہا کہ اگر انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی امریکہ میں جا کر ’اس بار ٹرمپ سرکار‘ کہہ سکتے ہیں تو ٹروڈو سے سوال اٹھانا کتنا جائز ہے؟

مصنف اور مبصر صبا نقوی نے ٹویٹ کیا کہ ’دوسرے ممالک کے بارے میں ہمارے اپنے خیالات ہوتے ہیں۔ ہم اپنے این آر آئی (غیر رہائشی انڈین) تک جاتے ہیں اور ایک صدر کے لیے ہاؤڈی کرتے ہیں۔۔۔ لیکن جب ٹروڈو کسان کا ذکر کرتا ہے تو ہم بے چین ہو جاتے ہیں۔ شاید ہم اس بات کو سمجھ نہیں پاتے کہ کینیڈا کے وزیر اعظم صرف اپنے یہاں کی سکھ اقلیت کا خیال کر رہے ہیں۔۔۔‘

ٹوئٹر پر 34 ہزار سے زیادہ فالوورز والے تشار جی نے لکھا: ‘مجھے انڈیا کے احتجاج کرنے والوں کسانوں کے ساتھ ٹروڈو کے اظہار یکجہتی میں کوئی غلطی نظر نہیں آتی۔ ہمارے وزیر اعظم نے بھی تو امریکی انتخابی مہم میں شرکت کی تھی۔’

اسی طرح کانگریس سے تعلق رکھنے والے سری وتس بی نے لکھا کہ ‘جسٹن ٹروڈو انڈیا کے معاملے میں کچھ نہ بولیں لیکن مودی امریکہ میں جا کر ‘اب کی بار ٹرمپ سرکار’ کہہ سکتے ہیں۔

سابق سفارتکار کے سی سنگھ نے سینیئر صحافی برکھا دت کے ساتھ ایک ٹاک شو میں کہا کہ جسٹن ٹروڈو کا بیان انڈین حکومت کی سفارتی ناکامی ہے۔

انھوں نے کہا کہ اگر ٹروڈو خیالی خالصتانیوں کے زیر اثر آئے ہیں تو آپ کا کام ہے کہ ایسا نہ ہونے دیں۔ کے سی سنگھ نے کہا کہ آپ کتنے ممالک میں جاکر ان سے لڑیں گے؟

ٹروڈو

واضح رہے کہ انڈیا میں علیحدہ سکھ ریاست کا ایک زمانے سے مطالبہ چلا آ رہا ہے۔ ہر چند کہ اس کا زور وزیر اعظم اندرا گاندھی کے قتل کے بعد انڈیا میں تقریبا ختم ہو گیا لیکن اس کے حامیان ابھی بھی انڈیا سمیت مختلف ممالک میں موجود ہیں۔

کے سی سنگھ نے کہا ’آپ کینیڈا کے وزیر اعظم سے کہہ رہے ہیں کہ وہ حقیقت سے باخبر نہیں ہیں۔ سچی بات تو یہ ہے کہ کسان احتجاج کے لیے دہلی آنا چاہتے تھے اور آپ نے انھیں آنے نہیں دیا۔ ٹروڈو نے کہا ہے کہ احتجاج کرنے کا لوگوں کو حق ہے۔ پچھلے چھ سالوں سے مسٹر مودی گھریلو سیاست میں انڈین تارکین وطن کو استعمال کر رہے ہیں۔ ایسی صورتحال میں ان ممالک میں رہائش پذیر ہند نژاد لوگوں کا اپنا خیال ہو سکتا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’ٹروڈو نے اتنا ہی کہا ہے کہ جو کچھ (انڈیا میں) ہو رہا ہے اس کی وجہ سے (کینیڈا میں) ان کے اہل خانہ اور دوست پریشان ہیں۔ یہ بات بالکل سچ ہے کہ ٹروڈو نے غلط موقع پر یہ بات کہی ہے۔ انھیں یہ بات گرو پرب (گرونانک کے یوم پیدائش) پر نہیں کہنا چاہیے تھی۔ ٹروڈو نے امریکہ میں سیاہ فام لوگوں کی تحریک پر بھی اظہار خیال کیا تھا۔ اگر آئندہ بائیڈن کچھ کہیں گے تو کیا آپ ان کے خلاف بھی لڑنے جائيں گے؟‘

جگمیت سنگھ

سکھ علیحدگی پسندی اور کینیڈا کی سیاست

کینیڈا میں سکھ ووٹ بینک کی سیاست اہمیت رکھتی ہے۔ ٹروڈو کی لبرل پارٹی، کنزرویٹو پارٹی اور جگمیت سنگھ کی نیو ڈیموکریٹک پارٹی سب کے لیے سکھ ووٹ اہم ہیں۔ یہاں سکھ آبادی پانچ لاکھ کے قریب ہے۔ انڈیا اور کینیڈا کے تعلقات میں سکھ علیحدگی پسندی یا خالصتان ایک اہم مسئلہ رہا ہے۔

فروری سنہ 2018 میں ٹروڈو سات روزہ دورے پر انڈیا پہنچے تھے۔ اس دورے میں بھی کشیدگی واضح تھی۔ ٹروڈو کے دورے کو انڈین حکومت کی طرف سے کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی۔ انڈین اور غیر ملکی میڈیا میں یہ بات کہی گئی کہ رقبے کے معاملے میں دنیا کے دوسرے بڑے ملک کینیڈا کے وزیر اعظم کے دورے کے متعلق انڈیا نے خاص گرمجوشی ظاہر نہیں کی۔

کینیڈا کے وزیر اعظم کو سکھوں کے ساتھ روادری رکھنے کے لیے مذاقاً جسٹن ’سنگھ‘ ٹروڈو کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ خالصتان باغی گروپ کینیڈا میں سرگرم عمل ہے اور جسٹن ٹروڈو پر ایسے گروپوں کے ساتھ ہمدردی کا الزام ہے۔

سنہ 2015 میں جسٹن ٹروڈو نے کہا تھا کہ انھوں نے اپنی کابینہ میں جس تعداد میں سکھوں کو جگہ دی ہے اتنی انڈیا کی کابینہ میں بھی نہیں ہے۔ اس وقت ٹروڈو کی کابینہ میں چار سکھ وزرا تھے۔

ٹروڈو کے مہمانوں کی فہرست میں سکھ علیحدگی پسند

پنجاب اسمبلی میں وزیر کابینہ ملکیت سنگھ سدھو سنہ 1986 میں کینیڈا کے شہر وینکوور میں ایک نجی پروگرام میں شرکت کے لیے گئے تھے۔ اسی دوران کینیڈا کے سکھ علیحدگی پسند جسپال سنگھ اٹوال نے ملکیت سنگھ کو مارنے کی کوشش کی تھی۔ ملکیت سنگھ کو گولی مار گئی لیکن وہ بچ گئے۔ اس معاملے میں جسپال سنگھ اٹوال کو قتل کی کوشش کے الزام میں سزا سنائی گئی تھی۔

جب ٹروڈو سنہ 2018 میں انڈیا آئے تو جسپال سنگھ اٹوال ان کے سرکاری ایونٹ کی گیسٹ لسٹ میں شامل تھے ۔ ممبئی میں 20 فروری کو ٹروڈو کے اعزاز میں منعقدہ ایک پروگرام میں جسپال اٹوال کو کینیڈا کے وزیر اعظم کی اہلیہ کے ساتھ دیکھا گیا تھا۔ اٹوال نے بعد میں اس پر افسوس کا اظہار کیا کہ وزیر اعظم ٹروڈو کو ان کی وجہ سے انڈیا کے دورے کے دوران شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔

سکھ کینیڈا کیسے پہنچے؟

سنہ 1897 میں ملکہ وکٹوریہ نے برطانوی ہندوستانی فوجیوں کے ایک دستے کو ڈائمنڈ جوبلی جشن میں شرکت کے لیے لندن آنے کی دعوت دی۔ گھڑسوار دستوں کا ایک گروپ اس وقت ہندوستان کی ملکہ کے ساتھ برٹش کولمبیا جا رہا تھا۔ رسالدار میجر کیسر سنگھ ان سپاہیوں میں سے ایک تھے۔ وہ پہلے سکھ تھے جنھیں کینیڈا منتقل کیا گیا تھا۔

کیسر سنگھ کے ساتھ کچھ دوسرے فوجیوں نے کینیڈا میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا۔ انھوں نے برٹش کولمبیا کو اپنا گھر بنایا۔ جب ان کی کہانی لے کر باقی سپاہی ہندوستان واپس آئے تو انھوں نے بتایا کہ برطانوی حکومت انھیں آباد کرنا چاہتی ہے۔ اب معاملہ انتخاب کا تھا۔ ہندوستان سے کینیڈا جانے والے سکھوں کا عمل یہاں سے شروع ہوا۔ کچھ ہی سالوں میں برٹش کولمبیا میں ہندوستانیوں کی آبادی پانچ ہزار تک تک پہنچ گئی جن میں 90 فیصد سکھ تھے۔

تاہم کینیڈا میں سکھوں کی آبادکاری اور ان کی ترقی آسان نہیں تھی۔ ان کی آمد اور ان کا نوکریاں حاصل کرنا سفید فام کینیڈین کو راس نہیں آیا۔ ان کا احتجاج شروع ہوگیا یہاں تک کہ کینیڈا میں سب سے طویل عرصے تک وزیر اعظم رہنے والے ولیم میکینزی نے بھی مذاق کرتے ہوئے کہا ‘ہندوؤں کو اس ملک کی آب و ہوا راس نہیں آ رہی ہے۔’

کسان
انڈیا میں احتجاج کرنے والے کسانوں نے گرونانک کا 551واں یوم پیدائش سڑکوں پر ہی منایا

کینیڈا میں سکھوں کا غلبہ

رقبے کے لحاظ سے دنیا کے دوسرے بڑے ملک کینیڈا میں انڈین نژاد بڑی تعداد میں آباد ہیں جن میں سکھ مذہب کے ماننے والوں کی آبادی کافی ہے۔

سکھوں کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ جب جسٹن ٹروڈو نے اپنی پہلی کابینہ تشکیل دی تو اس میں چار سکھ وزراء کو شامل کیا گيا تھا۔

کینیڈا میں انڈین نژاد افراد کے اثر و رسوخ کا اندازہ اس حقیقت سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ سنہ 2015 میں ہندوستانی نژاد 19 افراد کو ہاؤس آف کامنز کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔ ان میں سے 17 کا تعلق ٹروڈو کی لبرل پارٹی سے تھا۔

لیکن جب جسٹن ٹروڈو اپنے اہل خانہ کے ساتھ سنہ 2018 کے اوائل میں ہندوستان کے دورے پر گئے تو ان کا دورہ تنازعات کا شکار ہو گیا۔ ان کا سات روزہ دورہ ہندوستان اور غیر ملکی میڈیا میں بھی زیر بحث رہا۔

یہ کہا گیا تھا کہ ’کینیڈا میں خالصتان بنانے کے خواہشمند باغی گروپ سرگرم ہیں اور جسٹن ٹروڈو کو ایسے گروہوں سے ہمدردی ہے۔‘

غیر ملکی میڈیا نے کہا کہ ’حالیہ برسوں میں کینیڈا اور ہندوستان کی حکومت کی جانب سے شمالی امریکہ میں آزاد خالصتان کی حمایت میں اضافے کی وجہ سے تناؤ میں اضافہ ہوا ہے۔‘

یہ بھی دیکھیں

لبنان کو ایرانی تیل کی ترسیل کا سلسلہ جاری

تہران: ایرانی ایندھن کا حامل ایک اور کاروان شام کے راستے لبنان میں داخل ہو …