جمعرات , 2 دسمبر 2021

اسرائیلی پروفیسر نے ایرانی سائنسدان کو قتل کرنے کا مقصد واضح کر دیا

تل ابیب یونیورسٹی کے پروفیسر نے کہا کہ اس قتل میں ملوثین اور کردار ادا کرنے والوں کا مقصد ایران کیخلاف دباؤ ڈالنے اور پورے خطے کو قابو سے باہر کرنے کا ہے۔

تل ابیب یونیورسٹی کے پروفیسر نے کہا ہے کہ ایرانی کمانڈروں اور سائنسدانوں کے قتل سے علاقے کو خطرے اور کشیدگی کا شکار کرنے کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوگا۔

ان خیالات کا اظہار”ڈیویڈ مناشری” نے انگریزی زبان چینی نیوز چینل "سی جی ٹی این” میں منعقدہ ان لائن گول میز کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مشرق وسطی کی تبدیلیوں سے متعلق منعقدہ اس گول میز کے دوران، ایرانی کمانڈر جنرل سلیمانی اور اعلی ایرانی سائنسدان محسن فخری زادہ کے قتل پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران جوہری معاہدے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی علیحدگی کے بعد خطے میں کشیدگی پیدا ہوگئی ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان جیسے اقدامات اور قتلوں سے خطی کشیدگی کا فروغ ہوگا لہذا ایران اور امریکہ کو کشیدگی کے خاتمے پر کوشش کرنی ہوگی اور امریکی انتخابات میں "جوبائیڈن” کی جیت نے اس سلسلے میں مناسب موقع کی فراہمی کی ہے۔

تل ابیب یونیورسٹی کے پروفیسر نے کہا کہ اس قتل میں ملوثین اور کردار ادا کرنے والوں کا مقصد ایران کیخلاف دباؤ ڈالنے اور پورے خطے کو قابو سے باہر کرنے کا ہے۔

انہوں نے امریکہ سے کشیدگی کی کمی پر توجہ دینے کی مشورت دیتے ہوئے کہا کہ جوہری معاہدے اور مذاکرات کے بغیر مسائل کے حل کا امکان نہیں ہے۔

واضح رہے کہ ایران کے ایٹمی پروگرام کے بانی سائنسدان محسن فخری زادہ کو 27 نومبر میں تہران میں ایک دہشتگردانہ حملے میں شہید کر دیا گیا۔

ایران کے دارالحکومت تہران کے علاقے دماوند میں مسلح افراد نے ایرانی سائنسدان کی گاڑی پر حملہ کیا؛ حملہ آوروں نے ان کی گاڑی کے قریب دھماکا اور فائرنگ کی جس کے نتیجے میں سائنس دان محسن فخری زادہ شدید زخمی ہوگئے، اُنہیں قریبی اسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہوسکے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ "محمد جواد ظریف” نے شہید فخری زادہ کے قتل کی ذمہ داری ناجائز صہیونی ریاست پر عائد کی ہے۔

ظریف نے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ شہید فخری زادہ کے قتل میں ناجائز صہیونی ریاست کے ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔

اس کے علاوہ ایرانی سپریم لیڈر حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے بھی ایٹمی اور دفاعی شعبے میں اعلی ایرانی سائنسدان کی شہادت میں ملوث افراد کی شناخت اور سزا دینے پر زور دیا۔

قابل ذکر ہے کہ محسن فخری زادہ ایران کی وزارت دفاع کی ریسرچ اورانوویشن تنظیم کے سربراہ تھے اور وہ ایران کے سینیئر ترین ایٹمی سائنسدان تھے؛ محسن فخری زادہ کا شمار ایران کے ایٹمی پروگرام کے بانیوں میں ہوتا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

براہ راست پروازوں کے اضافہ سے ایران پاکستان عوامی تعلقات اور سیاحت کی ترقی

کراچی: اسلامی جمہوریہ ایران اور پاکستان نے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان عوامی تعلقات کو …