پیر , 18 اکتوبر 2021

کورونا وبا کی دوسری لہر کے حوالے سے علماء کا متفقہ فیصلہ

ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ علماء نے دوسری لہر پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور متفقہ طور پر کہا ہے کہ مساجد میں ایس او پیز پر علمدرآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔ عوام کی آگاہی کی ضرورت ہے ۔

آج بروز جمعرات صدر ہاوس میں ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے علماء کا اجلاس بلایا گیا جس میں وزیر مذہبی امور نور الحق قادری ، طاہر اشرفی ، سربراہ امت واحدہ علامہ محمد امین شہیدی ، چئیرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر قبلہ ایاز اور دیگر معزز علماء نے شرکت کی۔ اس اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ 17 اپریل کے بنائے گئے ایس او پیز پر دوبارہ سے عمل کیا جائے گا ۔

مزید اطلاعات کے مطابق جمعرات کو یہاں کورونا وائرس کی دوسری لہر اور اس کی صورتحال کے بارے میں وفاقی وزیر مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی نور الحق قادری اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کے ہمراہ بریفنگ میں اظہار خیال کرتے ہوئے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کی پہلی لہر میں اپریل میں اوسط 500 مریض تھے۔ عوام کی احتیاطی تدابیر کے نتیجہ میں وبا کے پھیلائو پر قابو پایا گیا اور 22 جون کو 6400 مریضوں کا ٹیسٹ مثبت آیا جو 6500 تک بڑھنے کے بعد رک گیا۔ انہوں نے کہا کہ اب کورونا کا دوسرا حملہ ہے اس کے تناظر میں عوام سے اپیل ہے کہ پہلی لہر کے دوران حاصل کامیابیوں کی روشنی میں حفاظتی اقدامات کریں اور اس مہم میں کورونا وائرس کی وبا سے لڑنے والے الفاظ کی بجائے کورونا وائرس کی وبا سے بچنا ہے کو شامل کیا جائے۔

اس حوالے سے میڈیا بھی پہلے کی طرح کردار ادا کرے جبکہ علمائے کرام نے ملک کی سیاسی قیادت سے اپیل کی ہے کہ جلسے اور جلوس کچھ عرصہ کے لئے موخر کردیئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلی لہر اور منبر اور محرم سے اٹھنے والی آواز پر عوام نے عمل کیا۔ انہوں نے کہا کہ علماء منظم ہیں اور ان کی بات سنی جاتی ہے۔ صدر نے کہا کہ کورونا کے علاوہ صحت کے دیگر مسائل میں بھی علماء سے مدد لی جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ناموس رسالت اور او آئی سی اعلامیہ میں وزیر اعظم عمران خان نے اہم کردار ادا کیا جس کو تمام علماء نے متفقہ طور پر سراہا ہے۔ صدر مملکت نے کہا ہے کہ علماء نے کورونا کی دوسری لہر پر تشویش ظاہر کی ہے کہ لوگ کم سیریس ہیں۔ اس لئے طے پایا ہے کہ خدا کے حضور معافی کے لئے خصوصی دعائیں کی جائیں گی۔ صدر نے مزید کہا کہ اختیاطی تدابیر پر عملدرآمد، خدا سے دعا اور غریبوں کے احساس سے اللہ تعالیٰ ہم پر رحم فرمائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پہلی لہر میں بھی یہی کیا گیا اور شاید خدا کو ہم پر رحم آ گیا۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ علماء عوام کی آگاہی کے لئے اقدامات کریں گے تاکہ بد احتیاطی کو ختم کیا جا سکے۔ صدر ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ علماء نے ایس او پیز پر عملدرآمد کا اعادہ کیا ہے اور ہاتھ دھونے، سماجی فاصلے، ماسک پہننے اور نماز کے دوارن صفوں میں مناسب فاصلہ پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کوشش کریں کہ وضو گھر سے کریں اور جائے نماز ساتھ لائیں جبکہ 55 سال سے زائد عمر افراد نماز گھر پر ہی ادا کریں تو ان کی صحت اور تحفظ کےلئے بہتر ہو گا۔

صدر نے مزید کہا کہ علماء نے سیاسی قیادت سے اپیل کی ہے کہ جلسے جلوس کچھ عرصہ کے لئے موخر کئے جائیں وبا کے بعد دوبارہ جمہوری حقوق پر واپس آیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ علماء، مساجد و منبر ، نمازیوں اور تمام اہل وطن کے ساتھ ساتھ میڈیا بھی آگاہی فراہم کرے اور یادہانی کا عمل بڑھایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تمام علماء نے متفقہ طور پر کہا ہے کہ پہلی لہر میں ہمیں کامیابی ملی اور دوسری لہر سے تحفظ کے لئے رجوع الی اللہ کیا جائے، خدا تعالیٰ سے معافی مانگی جائے اور اس کی پناہ طلب کی جائے۔ عبادات کا عمل جاری رکھتے ہوئے، احتیاط کریں اور ساتھ ساتھ معاشرے کے غریب طبقات کا خیال رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ان اقدامات سے ہمیں کورونا کی پہلی لہر کے خلاف کامیابی حاصل ہوئی اور انشا اللہ دوسری لہر میں بھی اللہ تعالیٰ وبا سے محفوظ رکھے گا۔

یہ بھی دیکھیں

ایرانی و ہندوستانی وزرائے خارجہ کی ملاقات، باہمی تعاون کے مزید فروغ کے لئے پر عزم

نیویارک: اسلامی جمہوریہ ایران اور ہندوستان کے وزرائے خارجہ کے درمیان اقوام متحدہ کی جنرل …