اتوار , 1 اگست 2021

بھارتی کسان اور انڈیا میں ہندوتوا کا بڑھتا ہوا جبر

میں اکثر سوچتا ہوں کہ زندگی کی بنیادی ضروریات بڑی محنت کے بعد کسان پیدا کرتا ہے۔ اس کے لیے مہینوں موسموں کی سختیوں کو جھیلتا ہے، اپنی جمع پونجی کو قدرت کے حوالے کرتا ہے۔ مسلسل جدوجہد کے نتیجے میں ملنے والی فصل اس کی خون پسینے کی کمائی ہوتی ہے۔ یہ بنیادی کام کرنے والا کسان اس فصل کی اصل قیمت کا محض پانچ فیصد کماتا ہے، بیوپاری چند دنوں میں دس فیصد تک فائدہ حاصل کر لیتا ہے اور اس کے بعد بڑا سرمایہ کار اسی فصل کو ڈبل قیمت پر فروخت کر رہا ہوتا ہے۔ اس سال کی گندم کی فصل ہی دیکھ لیں، کسان سے تیرہ سو سے لے کر پندرہ سو تک میں خرید گئی اور ابھی چکی کے آٹے کا ریٹ پچیس سو کے لگ بھگ ہے۔ دنیا بھر میں اگر کسی مزدور کو سب سے کم مزدوری ملتی ہے تو وہ کسان ہے۔ دوسروں کو پیٹ بھر کے کھانا فراہم کرنے والا خود بمشکل ہی پیٹ بھر کے کھانا کھاتا ہے۔ اس کے مقابل دیگر مہارتوں کو دیکھا جائے تو بہت کم محنت سے لوگ اچھا معاوضہ لے رہے ہیں۔ یہ کسانوں کے ساتھ کھلی زیادتی ہے، جس کے لیے کوئی آواز بلند نہیں کرتا، یہ خود شعور کی کمی اور اتحاد کے نہ ہونے کی وجہ سے اپنی آواز نہیں رکھتے۔

ہندوستان کی پارلیمنٹ نے دو قوانین پاس کیے ہیں، جن کے خلاف ہندوستانی کسان سراپا احتجاج ہے۔ ہریانہ اور پنجاب سے کسان اپنے ٹریکٹروں کے ساتھ دلی کا محاصرہ کیے ہوئے ہیں۔ ان قوانین کے مطابق اب اجناس نجی کمپنیاں خریدا کریں گے، اسی طرح کسان کمپنی کی ڈیمانڈ کے مطابق فصل اگائیں گے۔ بظاہر یہ بہت ہی اچھا لگتا ہے کہ اس طرح کمپنیاں مال کسان سے خرید لیں گی اور منڈی کے ساتھ ساتھ مڈل مین کا بھی خاتمہ ہو جائے گا۔ منڈی پنجاب میں صدیوں سے قائم نظام ہے، جس میں بھاو تاو کرکے سودا بیچا جاتا ہے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ بڑی بڑی کمپنیاں دنیا میں جہاں بھی آئیں، انہوں نے غریب کسان کو فائدہ تو کہاں پہنچانا تھا؟ چند سالوں میں کسان کو اس کی زمین سے ہی محروم کر دیا۔ یوں کسان کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا کہ وہ ایک مزدور کے طور پر اس کمپنی میں ملازم بن جائے۔ کسان اس بات کو جان گیا ہے کہ اگر ہمیں اپنے مستقبل کو بچانا ہے اور اپنی زمین اور اناج کا مالک خود رہنا ہے تو اسے ہر صورت میں اس قانون کی مخالفت کرنا ہوگی۔

یہ بات بھی کہی جا رہی ہے کہ یہ قوانین انڈیا کے مشہور امبالی خاندان کی کمپنیوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے بنائے گئے ہیں، جن کی کمپنیاں پنجاب اور ہریانہ کے سکھ کسانوں کو ہندوتوا کے منصوبے کے مطابق نکیل ڈالیں گی۔ سکھوں کو زیادہ مان اپنی زمینوں اور ان کی زرخیزی پر ہے، جب وہ ہی ان کی ملکیت میں نہیں رہیں گی تو ان کا گھمنڈ بھی ختم ہو جائے گا۔ پنجاب اور ہریانہ کے کچھ مقامات پر بڑے بڑے پرائیویٹ گوداموں کی تعمیر شروع کر دی گئی ہے، اسی طرح ہزاروں کی تعداد میں ٹریکٹرز کا آرڈر دیا گیا ہے، جو امبالی خاندان کی کمپنیاں پنجاب اور ہریانہ میں استعمال کریں گی۔ لگ یوں رہا ہے کہ ہندوتوا کی تحریک مسلمانوں کو دبانے کے بعد اب سکھوں کی طرف متوجہ ہوگئی ہے۔ انتہاء پسند یہ چاہتے ہیں کہ کسی بھی طرح سے کوئی قوت ہندو سپر میسی کے مقابل میں نہ رہے اور ہمیشہ کے لیے ہندوستان کو ہندو راشٹر بنا لیا جائے۔ مسلمانوں کے خلاف مسلسل قانون سازی کرکے انہوں نے مسلمانوں کو کافی ہراساں کر دیا ہے، رہی سہی کسر یوپی کے لوجہاد قانون نے نکال دی ہے، اس کے بعد ہندو مسلم معاشرتی تعلقات بھی محدود ہو جائیں گے۔

مسلمانوں کے بعد سکھ ہندوستان کی بڑی کمیونٹی ہیں، یہ انتہائی منظم اور تعلیم یافتہ ہیں۔ دو ہفتے سے ان کا انتہائی منظم احتجاج جاری ہے۔ انہوں نے اپنے نعروں اور طریقہ کار سے پورے ہندوستان کو متاثر کیا ہے، اب ان کی آواز بین الاقوامی حیثیت اختیار کر رہی ہے۔ کینڈا کے وزیراعظم نے کسان سکھوں کے لیے بھرپور آواز اٹھائی ہے، جس سے مودی حکومت کافی تلملائی ہے۔ برطانیہ کی پارلیمنٹ میں احتجاج ہوا ہے اور ممبران نے کسانوں کے لیے آواز اٹھائی ہے۔ ایک سکھ رہنما نے درست کہا کہ کشمیر کا بارڈر ہو یا چائنہ کا، جہاں بھی سینہ تان کر لڑنے کی بات ہوتی ہے تو سکھ رجمنٹ کو بھیج دیا جاتا ہے، وہاں اس کچھا رجمنٹ(آر ایس ایس) کو لگایا جائے، تاکہ انہیں پتہ چلے کہ لڑائی کس سینے کے زور پر ہوتی ہے۔ اس احتجاج نے سوشل میڈیا پر بھی اثرات دکھائے ہیں، ٹویٹر وغیرہ پر کسان احتجاج ٹاپ ٹرینڈ بنا رہا۔ پاکستانی بھی بڑی تعداد میں سکھوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کر رہے ہیں۔ نو فارمر نو فوڈ، کدال ہی رہنے دو، گن نہ اٹھواو، ہم کسانوں کے ساتھ ہیں اور اسی طرح کے درجنوں ٹرینڈز چل رہے ہیں۔

اس احتجاج کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ اس میں سکھ مسلم اتحاد کا بہت زیادہ مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔ مسلمانوں نے سکھوں کے لیے بڑے بڑے لنگر لگائے ہیں، جہاں انہیں کھانا مفت میں بانٹا جا رہا ہے۔ اسی طرح مسلمان نماز ادا کر رہے ہیں اور ان کی حفاظت کے لیے سکھوں نے انہیں گھیرے میں لیا ہوا ہے۔ ہندوتوا ایک وقت میں ایک اقلیت سے نمٹنا چاہتی ہے، اسی لیے پہلے انہوں نے مسلمانوں کو دبایا اور اب سکھوں کی باری ہے۔ لگ یوں رہا ہے اس کے بعد دلتوں کی باری ہے، جس کا آغاز یوپی میں ہوچکا ہے۔ اعلیٰ ذات کے ہندو لڑکوں نے دلت لڑکی کا ریپ کرکے قتل کیا۔ پولیس نے بغیر پوسٹمارٹم کیے اس کی لاش کو اپنی نگرانی میں جلایا دیا، گھر والوں کو اس کی لاش بھی نہیں دی۔ مودی سرکار اس قانون کے ذریعے سکھوں سے ان کی خودمختاری ہتھیانا چاہتی ہے۔ اگر سرکار کو کسانوں سے اتنی ہی ہمدردی ہے تو وہ ان کے قرضے معاف کر دے، تاکہ ہر سال ہزاروں کی تعداد میں ہونے والی خود کشیاں ہی رک جائیں۔ ہاں تو بابا قائد اعظم یاد آگئے، ایک بڑے سکھ لکھاری نے درست لکھا کہ قائداعظم ٹھیک آکھدا سی(قائداعظم نے درست کہا تھا) ہمیں تو اسی وقت معلوم تھا کہ بابا ہی ٹھیک کہہ رہا ہے۔

تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس

یہ بھی دیکھیں

مقبوضہ کشمیر: عیدالاضحیٰ پر جانوروں کی قربانی پر پابندی کا فیصلہ واپس

سری نگر: بھارتی حکام نے مقبوضہ کشمیر میں عیدالاضحیٰ پر جانوروں کی قربانی پر پابندی …