جمعہ , 14 مئی 2021

بحرین کے شاہی افراد کو بھی تلور کے شکار کی اجازت

کراچی: وفاقی حکومت نے بحرین کے بادشاہ حمد بن عیسیٰ بن سلمان الخلیفہ اور شاہی خاندان کے 6 دیگر افراد کو 21-2020 کے شکار کے سیزن میں بین الاقوامی سطح پر محفوظ پرندے تلور کا شکار کرنے کے لیے خصوصی اجازت نامے جاری کردیے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ذرائع کا کہنا تھا شاہی شکاریوں کی فہرست میں شامل دیگر افراد میں شاہ حمد بن عیسیٰ کے انکل، وزیر داخلہ، دفاعی فورسز کے کمانڈر ان چیف، شاہ کے دفاعی مشیر اور متعدد کزن شامل ہیں۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ شکار کے اجازت نامے فرد سے متعلق ہیں اور صرف 10 دن کے لیے شکار کی اجازت ہے جس میں بیگ کی حد 100 تلور تک دی ہے۔

مذکورہ ذرائع کا یہ بھی کہنا تھا کہ وزارت داخلہ کے ڈپٹی چیف پروٹوکول (پی اینڈ آئی) کی جانب سے جاری کردہ یہ خصوصی اجازت نامے اسلام آباد میں سلطنت بحرین کے سفارتخانے کو پہنچا دیے گئے تاکہ انہیں شکار سے تعلق رکھنے والوں کو بھیجا جاسکے۔

اجازت ناموں میں شکاریوں کے ناموں اور ان کو دیے گئے علاقوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

ان کے مطابق شاہ حمد بن عیسیٰ بن سلمان الخلیفہ صوبہ سندھ کے ضلع جامشورو میں شکار کرسکتے ہیں، جس میں تحصیل تھانو بولا خان، کوٹری، منجہند اور سیہون بھی شامل ہیں۔   شاہ کے انکل اور حکمران خاندان کےسینئر رکن شیخ ابراہیم بن حمد بن عبدللہ الخلیفہ سندھ میں ضلع سجاول کی تحصیل شاہ بندر میں شکار کر سکتے ہیں۔

وزیر داخلہ اور شاہ حمد کے کزن لیفٹیننٹ جنرل شیخ راشد بن عبداللہ الخلیفہ کو شکار کے لیے بلوچستان کا ضلع جعفرآباد اور سندھ کا ضلع نوشہرو فیروز دیا گیا ہے۔

اسی طرح بحرین دفاعی فورس کے کمانڈر ان چیف فیلڈ مارشل شیخ خلیفہ بن احمد الخلیفہ کو بلوچستان کے خلع موسیٰ خیل کی تحصیل توئثر دی گئی ہے۔

شاہ کے مشیر دفاعی امور شیخ عبداللہ بن سلمان الخلیفہ کو سندھ کے ضلع سجاول کی تحصیل جاٹی دی گئی ہے۔ مزید یہ کہ شاہ کے کزن شیخ احمد بن علی الخلیفہ سندھ میں ضلع حیدرآباد اور ضلع ملیر میں (ملیر کنٹونمنٹ اور دھابیجی کے علاقوں کے علاوہ) شکار کرسکتے ہیں۔

بحرین کے بادشاہ کے ایک اور کزن شیخ خالد بن راشد بن عبداللہ الخلیفہ کو سندھ میں ضلع ٹنڈو محمد خان شکار کے لیے دیا گیا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …