جمعہ , 14 مئی 2021

۲۱۰۰روزہ جنگِ یمن میں آل سعود کے کارنامے

انسانی حقوق کے حامی ایک مرکز نے یمن میں سعودی اتحاد کے ہاتھوں 2100 روزہ جنگی جرائم کی رپورٹ جاری کر دی ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق یمن کے نہتے اور بے گناہ شہریوں پر سعودی اتحاد کے حملوں میں 17 ہزار سے زيادہ افراد شہید ہوئے ہیں۔

عین الانسانیہ سے موسوم انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے اس ادارے نے بتایا ہے کہ 2100 روزہ جارحیت کے دوران مجموعی طور پر 17 ہزار 42 یمنی شہریوں نے جام شہادت نوش کیا کہ جن میں 3804 بچے اور 2389 خواتین شامل ہیں۔

عین الانسانیہ کی جانب سے یہ اعداد شمار ایک ایسے وقت سامنے آئے ہیں کہ جب بعض حلقوں نے مجموعی طور پر سعودی اتحاد کے حملوں شہید ہونے والوں کی کل تعداد 26 ہزار 355 بتائی ہے کہ جن میں 4128 معصوم بچے اور 2801 خواتین شامل ہیں۔

اس درمیان یمن کے شہریو طبی اور عوامی مراکز پر کئے جانے والے حارحانہ حملوں میں 15 ائرپورٹس، 16 بندرگاہیں ، 305 پاور ہاؤس اور 545 مواصلاتی تنصیبات کو بالکل تباہ کر دیا گیا۔

مارچ 2015 میں منصور ہادی کی پٹھو حکومت کو اقتدار میں لانے کے لئے سعودی اتحاد کی جانب سے یمن کے نہتے اور بے گناہ عوام پر جنگ مسلط کی گئی ہے جس کے دوران اب تک اسکول، مدارس، مساجد، ہاسپٹلو یونیورسیٹیوں، اسٹیڈیئمز، زرعی ز‍مینوں اور آثار قدیمہ کو بھی جانتے بوجھتے نشانہ بنایا گیا ہے مختصر یہ کہ کسی بھی قسم کا کوئی بھی مرکز یا مقام آل سعود کے شر سے محفوط نہیں رہ سکا۔

سعودی اتحاد کے ان جنگی جرائم کا نوٹس لیتے ہوئے اقوام متحدہ نے سعودی عرب کو بچوں کی قاتل حکومت کی فہرست میں شامل کیا تھا تاہم امریکی دباؤ اور سعودی پیٹرو ڈالروں کے سامنے پسپائی اختیار کرتے  ہوئے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو یہ فیصلہ واپس لینا پڑا۔

مبصرین کے مطابق سعودی عرب کی اس کھلی اور ننگی جارحیت کے باوجود یمن کے عوام کے حوصلے بلند ہیں اور ایسا نہیں لگتا کہ آل سعود اور متحدہ عرب امارات کے حکام خود کو اس رسوا کن جنگ کے تباہ کن نتائج سے محفوظ رکھ پائيں گے۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …