جمعہ , 17 ستمبر 2021

امریکی پابندی کے آگے پست ہوئے اردوغان، لہجے میں آئی نرمی

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کا کہنا ہے کہ کسی بھی ملک کے ساتھ ہمارے اختلافات ایسے ہیں ہی نہیں جن کو حل نہ کیا جا سکے۔

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کے لہجے میں بڑی تبدیلی کا مشاہدہ کیا جا رہا ہے۔ وہ امید کے برخلاف نرم لہجے میں گفتگو کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملک کے ساتھ ہمارے اختلافات ایسے ہیں ہی نہیں جن کو حل نہ کیا جا سکے۔

ترک صدر کا کہنا تھا کہ امریکا، یورپ، روس، چین یا کسی بھی دوسرے ممالک کے ساتھ ان کے ملک کے اختلافات اس طرح کے ہیں ہی نہیں جن کے حل کا راستہ تلاش نہ کیا جا سکے۔

انہوں نے انقرہ میں سنیچر کے روز ایک پروگرام میں کہا کہ باہمی احترام کی شرط پر انقرہ ہر ایک کے ساتھ مذاکرات کے لئے تیار ہے۔

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کا کہنا تھا کہ دنیا میں نئے اقتصادی اور سیاسی ڈھانچے کی تعمیر میں یقینی طور پر ترکی ایک مناسب مقام حاصل کرنے کا خواہشمند ہے۔

اسی کے ساتھ ترک صدر نے امریکا کے نو منتخب صدر جو بائیڈن کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ میں سوچتا ہوں وہ ترکی کے ساتھ تعلقات کے بارے میں زیادہ سنجیدہ ہوں گے۔

واضح رہے کہ ترک صدر رجب طیب اردوغان کے لہجے میں حالیہ نرمی، امریکا کی جانب سے عائد کی گئی اس پابندی کے بعد آئی جس میں انقرہ نے روس سے ایس-400 میزائل سسٹم خریدا تھا اور اس سے ناراض ہوکر واشنگٹن نے انقرہ پر پابندی عائد کر دی ہے۔

 

یہ بھی دیکھیں

طالبان نے سابق حکمرانوں سے برآمد لاکھوں ڈالر مرکزی بینک میں جمع کرا دیے

کابل: طالبان نے سابق حکومتی عہدیداروں سے برآمد ہونے والے ایک کروڑ 20 لاکھ امریکی …