ہفتہ , 15 مئی 2021

نسلی تعصب یورپ میں کورونا میں اضافہ کا اہم سبب

برطانوی اور امریکی یونیورسٹیوں کے محققین کا کہنا ہے کہ نسل پرستی عام طور پر خراب صحت کی ایک ’’بنیادی وجہ‘‘ اور ’’بڑی محرک‘‘ ہے جس کی وجہ سے کوویڈ۔ 19 سے شرحِ اموات میں اضافہ ہوا ہے۔

ماہرین نے تجویز دی ہے کہ جہاں وائرس کے پھیلاؤ میں اضافے کا خطرہ زیادہ ہو ، وہاں نسلی اقلیتوں کو کام کے مقام پر سپورٹ کرتے ہوئے ایسی جگہ تعینات کیا جائے جہاں ان کا لوگوں سے کم سامنا ہو اور جہاں تک ممکن ہو کوویڈ۔ 19 سے متاثرہ علاقوں سے دور رکھا جائے۔

سینٹ جارجز یونیورسٹی لندن کی جانب سے جاری مقالے کے ابتدائی مصنف ڈاکٹر محمد رضائی نے کہا کہ جن لوگوں کو زیادہ خدشات درپیش ہوں انہیں ویکسینیشن میں پہلے ترجیح دی جانی چاہئے۔

پی اے نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمر، جنس، پہلے سے موجود صحت کی صورتحال اور پیشہ ورانہ خدشات کے عوامل سمیت نسلی اقلیتی تعلق کوویڈ۔ 19 کے لئے انتہائی خطرہ ہے، نسلی اقلیتی پس منظر کے لوگوں کو وائرس سے متاثر ہونے کی صورت میں خراب نتائج کا سامنا ہوتا ہے۔

ان حقائق کو پیش نظر رکھتے ہوئے کسی بھی خطرناک تشخیص کی صورت میں دیگر عوامل کے ساتھ نسلی اقلیتی تعلق کو پیش نظر رکھنا چاہئے اور جہاں یہ محسوس ہو کہ خدشات زیادہ ہیں وہاں نسلی اقلیتی گروہوں کو کوویڈ – 19 ویکسینیشن کے لئے ترجیح دی جانی چاہئے۔

 

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …