ہفتہ , 16 اکتوبر 2021

امریکہ میں نسلی امتیاز کے خاتمے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے

امریکی شہر اٹلانٹا میں فائرنگ کے 3 واقعات میں 6 ایشیائی خواتین سمیت 8 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

ابلاغ نیوز کی رپورٹ کے مطابق امریکی شہر اٹلانٹا میں فائرنگ کے 3 واقعات میں 6 ایشیائی خواتین سمیت 8 افراد کی ہلاکتوں کے بعد شروع ہونے والے مظاہروں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ مظاہرین نے ریاستی اسمبلی کے سامنے کل ہونے والے مظاہرے کے دوران پلے کارڈ اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر نسلی امتیاز کے خاتمے سمیت مختلف قسم کے نعرے درج تھے۔

واضح رہے کہ امریکہ میں نسلی امتیاز کا سلسلہ ٹرمپ کے دور حکومت میں اپنے عروج پر پہنچا حتی کہ کورونا ویکسینیشن کے عمل میں سیاہ فاموں اور دوسری نسلی اکائیوں پر کم توجہ دی جارہی ہے۔ سفید فاموں کے مقابلے میں کورونا ویکسین حاصل کرنے والے دیگر لوگوں کا تناسب انتہائی کم ہے۔ کائسر فاؤنڈیشن کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں اب تک استعمال ہونے والی تقریبا انسٹھ فی صد ویکسین سفید فاموں کو لگائی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکہ کی سیاہ فام آبادی کے حصے میں صرف چھے اعشاریہ ایک فیصد جبکہ ایشیائی نژاد امریکیوں کے حصے میں صرف چار اعشاریہ چھے فی صد کورونا ویکسین آئی ہے۔ کورونا ویکسینیشن میں لاتینی نژاد امریکی شہریوں کا حصہ اب تک صرف سات اعشاریہ پانچ فی صد رہا ہے۔

کائسر فا‎ؤنڈیشن کے جاری کردہ اعداد و شمار نے امریکہ میں کورونا ویکسین کے حصول کے حوالے سے مختلف نسلی اکائیوں کے درمیان شدید تشویش پیدا کردی ہے۔ رپورٹ کے مطابق صدر جوبائیڈن کی جانب سے کورونا ویکسین کو اپنی حکومت کی ترجیحات میں شامل کیے جانے کے باوجود امریکہ کے مختلف علاقوں میں کورونا ویکسین کے حصول کا معاملہ موضوع بحث بن گیا ہے۔

یاد رہے کہ امریکی شہر اٹلانٹا میں فائرنگ کے 3 واقعات میں 6 ایشیائی خواتین سمیت 8 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

سرکاری سطح پر جاری ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق دو کروڑ ستر لاکھ سے تین کروڑ ہتھیار، لوگوں کے پاس موجود ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ امریکہ میں تقریبا ہرشخص کے پاس ایک آتشیں اسلحہ موجود ہے۔

یہ بھی دیکھیں

ایرانی و ہندوستانی وزرائے خارجہ کی ملاقات، باہمی تعاون کے مزید فروغ کے لئے پر عزم

نیویارک: اسلامی جمہوریہ ایران اور ہندوستان کے وزرائے خارجہ کے درمیان اقوام متحدہ کی جنرل …