جمعہ , 7 مئی 2021

لبنان کی نئی کابینہ کا قیام ڈیڈلاک کا شکار

فی الحال تو لبنان کے سیاسی اسٹیک ہولڈرز کو فوری طور پر اس طویل سیاسی ڈیڈلاک کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ سعد حریری ہوں یا میشال عون ہوں، صدر اور وزیراعظم کو بھی آئینی اصولوں کے تحت ہی لبنان کی حکومت کو چلانا ہے۔ ایسی صورتحال میں فرمائشی پروگرام ایک بچگانہ عمل ہی کہلائے گا۔ اسوقت لبنان کی ہر پارلیمانی جماعت کی قیادت کو حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصر اللہ کے منطقی اور مدلل بیانیہ کی تائید کرنے کی ضرورت ہے کہ مقاومتی تحریک لبنان کے عوام کو تنہاء نہیں چھوڑے گی۔ اسوقت لبنان میں بھوک اور افلاس نے ڈیرہ جمایا ہوا ہے اور سعد حریری کے گروپ کو چونچلے سوجھ رہے ہیں۔ لبنان کے یہ مسائل ایک یا دو سال میں حل ہونیوالے نہیں ہیں۔ سیاسی عمل تسلسل کیساتھ جاری رہیگا تو مشکلات جلد ختم ہونگی، ورنہ مشکلات میں اضافہ ہی ہونا ہے۔

فلسطین اور شام کا پڑوسی عرب ملک لبنان ایک طویل عرصے سے نئی حکومت کے قیام کے انتظار میں ہے۔ تا دم تحریر لبنان میں کابینہ سازی کا عمل تعطل کا شکار ہے۔ نامزد وزیراعظم سعد حریری نے پیر کے روز صدر میشال عون سے جو ملاقات کی، وہ بھی گذشتہ دیگر ملاقاتوں کی طرح بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوئی۔ دونوں جانب سے ایک دوسرے پر ناکامی کا الزام لگایا جا رہا ہے۔ صدر میشال عون بنیادی طور پر فری پیٹریاٹک موومنٹ سے تعلق رکھنے والے سابق مارونی مسیحی جرنیل ہیں۔ سعد حریری المستقبل پارٹی سے تعلق رکھنے والے سنی عرب ہیں۔ ان کی پشت پر لبنان کے سابق وزرائے اعظم فواد سنیورا، نجیب میقاتی اور تمام سلام کھڑے ہیں۔ حالانکہ ان سابق وزرائے اعظم پر بھی کرپشن کے الزامات ہیں۔ سعد حریری صدر میشال عون کو ڈیڈ لاک کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ نو دسمبر 2020ء میں سعد حریری نے اپنی کابینہ کے لیے 18 نام تجویز کیے تھے۔ ان میں چار سنی، چار شیعہ، چار مارونی مسیحی، تین گریک آرتھوڈوکس مسیحی، ایک گریک کیتھولک مسیحی، ایک آرمینیائی مسیحی اور ایک دروزی فرقے سے تعلق رکھنے والے یعنی کل اٹھارہ افراد کے نام پیش کیے تھے۔

صدر میشال عون سے ملاقات کے بعد سعد حریری نے جو بیان جاری کیا، ایوان صدر سے اس کی تردید آگئی۔ ایوان صدر کا موقف یہ ہے کہ اتوار کے روز یعنی سعد حریری کی ملاقات سے ایک روز قبل صدر کی جانب سے انہیں جو مسودہ بھیجا گیا، اس میں کسی کا بھی نام نہیں تھا بلکہ کابینہ سازی کے لیے فقط طریقہ کار تجویز کیا گیا تھا۔ صدر میشال عون نے لبنان کے آئین کے آرٹیکل 53 کی ذیلی شق چار کے تحت یہ طریقہ کار تجویز کیا تھا۔ ایوان صدر کے مطابق آئین نے لبنانی صدر کو کابینہ سازی کے عمل میں ایک شراکت دار کی حیثیت دی ہے اور یہ کہ لبنانی صدر کا کردار محض دستخط کرنا نہیں ہے۔ ایوان صدر کی وضاحت میں یہ بھی کہا گیا کہ لبنانی صدر کا عمل آئین اور نیشنل پیکٹ کی روح کے عین مطابق ہے اور یہ کہ اس کے برعکس کوئی بھی موقف قابل قبول نہیں ہے۔ نو دسمبر 2020ء کے حریری کے تجویز کردہ ناموں پر ایوان صدر کا موقف یہ ہے کہ اس میں بھی کابینہ سازی کے لازمی اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حریری نے وزراء کے قلمدان کو اس طرح گڈمڈ کر دیا تھا کہ ان قلمدانوں کا آپس میں کوئی ربط ہی نہیں بنتا تھا۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ایوان صدر نے واضح کر دیا کہ ایک حکومتی بحران کو نظام کے بحران میں تبدیل کرنے کی کوشش قابل قبول نہیں ہے۔ اس بیان میں یہ بھی اشارہ دیا گیا کہ بعض نامعلوم وجوہات کی بنیاد پر حکومت نہ بنانے کی نیت بھی اس بحران کا ایک عامل ہے۔

فری پیٹریاٹک موومنٹ کی قیادت صدر میشال عون کے داماد جبران باسل کر رہے ہیں۔ اس جماعت کا موقف ہے کہ سعد حریری نئی کابینہ کے کل اراکین کا نصف اور اس کے ساتھ ایک اضافی وزیر کا کوٹہ چاہتے ہیں۔ جیسا کہ سعد حریری اٹھارہ وزراء پر مشتمل نئی کابینہ تجویز کر رہے ہیں تو بقول فری پیٹریاٹک موومنٹ کے حریری دس وزراء کا کوٹہ چاہتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کا سوال یہ بھی ہے کہ وزارت اور محکموں کی تعداد اور خصوصیت کے پیش نظر اگر وزراء کی تعداد بیس، بائیس یا چوبیس بھی ہو تو کیا حرج ہے!؟ اسی طرح ان کا ایک سوال یہ بھی ہے کہ ہر گروپ کو اس کے وزراء کے نام تجویز کرنے کی اجازت دے کر صرف انہیں کیوں نام تجویز کرنے سے منع کیا گیا ہے؟ یہاں یہ یاد رہے کہ لبنان میں صرف مارونی کرسچن نہیں رہتے بلکہ دیگر فرقوں کے کرسچن بھی آباد ہیں اور کرسچن ووٹ بینک بھی منقسم ہے تو مسلمانوں کا ووٹ بینک بھی منقسم ہے۔ سعد حریری سارے سنی ووٹ بینک کا دعویٰ نہیں کرسکتے، یعنی سنی ووٹرز حریری کے مخالفین کو بھی منتخب کرکے پارلیمنٹ میں بھیجتے ہیں۔ شیعہ ووٹ بینک بنیادی طور پر حزب اللہ اور امل تحریک کے لیے مخصوص ہے۔ دروز ووٹرز بھی بنیادی طور پر دو گروپس میں تقسیم ہیں۔ یعنی لبنان میں صدر میشال عون کے اتحادی مسلمان بھی ہیں اور ان کے مخالف بعض کرسچن بھی ہیں اور یہی معاملہ سعد حریری کے ساتھ بھی ہے کہ بعض مسلمان اور کرسچن بھی ان کے مخالف سیاسی کیمپ میں ہیں۔

اس لیے لبنان کی حکومت سازی کا یہ بحران تہہ در تہہ پیچیدہ نوعیت کا حامل ہے۔ ایک جانب لبنان کے داخلی اختلافات ہیں۔ دوسری جانب بیرونی فیکٹرز بھی ہیں۔ ان میں سرفہرست زایونسٹ امریکی مغربی بلاک ہے، جس کے پیش نظر صرف اور صرف اسرائیل کا مفاد ہے۔ البتہ مغربی بلاک کی طرف سے زیادہ بڑا کردار آج کل فرانس کو دیا گیا ہے۔ زایونسٹ امریکی مغربی بلاک اس ضمن میں اپنے دوست اور اتحادی سعودی عرب اور متحدہ امارات، حتیٰ کہ عرب لیگ اور اقوام متحدہ کو بھی اپنے مفاد میں استعمال کرنے کی ایک طویل تاریخ رکھتا ہے۔ لبنان کے اندر چند اہم سیاستدان انہی بیرونی سرپرست ممالک کی وجہ سے مصنوعی بحران ایجاد کرنے کی ایک تاریخ رکھتے ہیں۔ گو کہ آج کل امریکا کی ڈیجیٹل ڈپلومیسی کے تحت فنڈڈ ایکٹیوسٹ خواتین و حضرات بھی لبنان میں جلاؤ گھیراؤ کی سیاست میں مصروف ہیں، لیکن موجودہ بحران کے اصلی ذمہ دار وہ لبنانی سیاستدان ہیں، جو کرپشن کرتے رہے ہیں، جن کی وجہ سے لبنان کو اقتصادی بدحالی کا سامنا ہے۔ ساتھ ساتھ یہ کرپٹ سیاستدان بیرونی آقاؤں کے آسرے پر کسی بھی حکومت کو ختم کرنے میں بھی مستعدی دکھاتے رہے ہیں۔ جیسا کہ سال 2019ء کے آخر میں ہوا کہ احتجاج کو بہانہ بناکر وزیراعظم مستعفی ہوگئے، حالانکہ نئی حکومت بننے کے بعد بھی مسئلہ جوں کا توں ہے اور وہ نئی حکومت بھی ٹیکنو کریٹ چونچلے کے تحت ہی بنائی گئی تھی۔

لبنان کے مسائل کا حل یہی ہے کہ لبنان کے اصل اسٹیک ہولڈرز اپنے ملک و قوم کے دشمنوں کو دشمن کہنے کی جرات پیدا کریں۔ لبنان پر جارحیت کا ارتکاب اسرائیل نے کیا اور آج تک بعض علاقوں پر اسرائیل کا قبضہ برقرار ہے۔ اسرئیل روزانہ کی بنیاد پر لبنان کی جغرافیائی حدود کی، آزادی و خود مختاری کی خلاف ورزی کرتا ہے اور اسرائیل کو امریکا، برطانیہ اور فرانس سمیت یورپی یونین کی حمایت حاصل ہے۔ پورا امریکی مغربی بلاک زایونسٹ اسرائیلی مفادات کا محافظ بنا ہوا ہے۔ چونکہ انٹرنیشنل فائنانشل سسٹم ان کے کنٹرول میں ہے، اس لیے لبنان کو اقتصادی مشکلات میں مبتلا کرنے میں ان کا بھی بڑا کردار ہے۔ داخلی سطح پر کرپٹ سیاستدان اور خارجی فیکٹر یہ ممالک ہیں۔ انہیں یقیناً امریکی زایونسٹ بلاک کی طرف سے کوئی ڈکٹیشن دی گئی ہے کہ لبنان میں سیاسی ڈیڈ لاک کو طول دیتے رہیں، ورنہ جب بھی نئی کابینہ بنے گی، اس نے کرنا وہی ہے، جو پہلے کابینہ کرتی رہی ہیں۔ کیونکہ لبنان کے آئین اور نیشنل پیکٹ یا طائف معاہدے کے تحت رولز آف گیم تو وہی رہتے ہیں، جو پہلے سے طے شدہ ہیں، تو جوہری تبدیلی کیسے ممکن ہے!؟

یقیناً لبنان کو ایک ٹیکنو پولیٹیکل حکومت کی ضرورت ہے۔ صرف ٹیکنو کریٹ کابینہ عوام کی نمائندگی نہیں کرسکے گی، کیونکہ انہیں جب عوام نے چنا ہی نہیں ہے تو عوام ان پر اعتماد کیوں کریں گے!؟ اور یہ ٹیکنوکریٹ سڑکوں پر جمع احتجاج کرنے والوں کو کیسے قائل کر پائیں گے۔ سیاسی اور منتخب جماعتوں کے وزراء کم سے کم عوام کو جوابدہ تو ہوتے ہیں اور ان کا عوام سے رابطہ بھی ہوتا ہے اور سیاسی اونر شپ کے بغیر ٹیکنوکریٹس کس طرح حکومت چلا پائیں گے!؟ فی الحال تو لبنان کے سیاسی اسٹیک ہولڈرز کو فوری طور پر اس طویل سیاسی ڈیڈلاک کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ سعد حریری ہوں یا میشال عون ہوں، صدر اور وزیراعظم کو بھی آئینی اصولوں کے تحت ہی لبنان کی حکومت کو چلانا ہے۔ ایسی صورتحال میں فرمائشی پروگرام ایک بچگانہ عمل ہی کہلائے گا۔ اس وقت لبنان کی ہر پارلیمانی جماعت کی قیادت کو حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصر اللہ کے منطقی اور مدلل بیانیہ کی تائید کرنے کی ضرورت ہے کہ مقاومتی تحریک لبنان کے عوام کو تنہاء نہیں چھوڑے گی۔ اس وقت لبنان میں بھوک اور افلاس نے ڈیرہ جمایا ہوا ہے اور سعد حریری کے گروپ کو چونچلے سوجھ رہے ہیں۔ لبنان کے یہ مسائل ایک یا دو سال میں حل ہونے والے نہیں ہیں۔ سیاسی عمل تسلسل کے ساتھ جاری رہے گا تو مشکلات جلد ختم ہوں گی، ورنہ مشکلات میں اضافہ ہی ہونا ہے۔

تحریر: محمد سلمان مہدی

یہ بھی دیکھیں

میزائل تجربے پر تنقید : شمالی کوریا نے اقوام متحدہ پر چڑھائی کردی

شمالی کوریا نے میزائل ٹیسٹ کے بعد پابندیوں کی تجویز پر اقوام متحدہ پر چڑھائی …