جمعہ , 14 مئی 2021

میزائیل اور ڈرون ٹیکنالوجی کے لحاظ سے یمن سب سے آگے

دور مار میزائلوں کی کوالٹی اور رینج کےلحاظ سے یمن کو پورے جزیرہ نمائے عرب میں برتری حاصل ہوگئی ہے۔

یمن کی مسلح افواج کے ترجمان یحی السریع نے اپنے ملک کے پاس موجود پیشرفتہ ہتھیاروں کا حوالہ دیتے ہوئے سعودی اتحاد کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے جنگ اور محاصرہ ختم نہ کیا تو اس پر ایسی کاری ضربیں لگائیں جس کا تصور بھی محال ہوگا۔

بریگیڈیئر جنرل ، یحی السریع نے کہا کہ جارحیت کے ساتویں برس دشمن کو ہمارے جدید ترین میزائلوں کا سامنا کرنا پڑے گا اور ان میزائلوں کی رونمائی عنقریب کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ پورے جزیرہ نمائے عرب میں یمن، میزائلوں کی کوالٹی اور رینج کے لحاظ سے پہلے نمبرپر ہے۔

یمنیوں نے جنہیں ایک مسلمان اور پڑوسی ملک کی جانب سے جنگ اور جارحیت کی کوئی توقع نہیں تھی ، سعودی اتحاد کے حملوں کے بعد، جنگ کا توازن تبدیل کرنے کے لیے، میزائل سازی کو اپنی اولین دفاعی ترجیح قرار دیا اور گزشتہ برسوں کے دوران مختلف قسم کے میزائل اور ڈرون بنانے میں کامیابی حاصل کی۔

یمنیوں کا تیار کردہ قدس ایک میزائل تین ہزار کلومیٹر تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جبکہ صماد تین قسم کے ڈرون طیارے سترہ سو کلومیٹر کی رینج میں اڑان بھرنے کی توانائی رکھتے ہیں۔

یمن کی مسلح افواج کے ترجمان یحی السریع نے پچھلے چھے برس کے دوران میزائل اور ڈورن سازی میں ہونے والی ترقی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اب تک چار سو ننانوے میزائل، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی فوجی تنصیبات اور اہم اہداف پر لگ چکے ہیں جبکہ آٹھ سو انچاس ڈرون طیاروں نے سعودی عرب کے اندر، اور یمن کے مقبوضہ علاقوں میں دشمن کے فوجی اڈوں اور اہم مراکز کو نشانہ بنایا ہے ۔

یحی السریع نے بتایا کہ یمن کے ڈرون یونٹوں نے اب تک ساڑھے بارہ ہزار سے زائد آپریشن انجام دیئے ہیں جن میں سے ایک سو پچاس آپریشن حملوں کے لیے اور باقی جاسوسی اور دوسرے عسکری مقاصد کے لیے انجام پائے۔

یمنیوں کے تیار کردہ میزائلوں اور ڈرون طیاروں کی اہم بات یہ ہے کہ ، امریکی دفاعی نظام بھی ان کا پتہ لگانے اور انہیں نشانہ بنانے میں ناکام رہا ہے، جبکہ ان میزائلوں اور ڈرون طیاروں نے سعودی عرب کے اندر اپنے اہداف کو ٹھیک ٹھیک نشانہ بنایا ہے اور امریکی پیٹریاٹ سسٹم بھی انہیں روکنے میں ناکام رہا۔

ایک اور اہم بات یہ ہے کہ یمنیوں کے ڈرون طیارے ایک ہزار ڈالر سے کم کی مالیت سے تیار ہوتے ہیں اور اربوں ڈالر کے ڈیفینس سسٹم کو عبور کرکے سعودی فوجی اہداف اور تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بناتے ہیں۔

آج جنگ یمن کے ساتویں برس یمنی قوم ایک جانب جدید ترین میزائل سسٹم کی رونمائی کرنے والی ہے اور دوسری جانب ڈرونوں اور میزائیلوں کی تعداد میں بھی اضافہ کرتی جارہی ہے۔

اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ جنگ کا ساتواں سال سعودی اتحاد کے لیے انتہائی سخت ثابت ہوگا اور اسے بھاری نقصان اٹھانا پڑے گا کیونکہ یمنی فوج کی دفاعی اور حربی دونوں توانائیوں میں بے پناہ اضافہ ہوچکا ہے۔ اور یمنی افواج سعودی اہداف کو مزید تباہ کن حملوں کا نشانہ بنانے کی طاقت حاصل کرچکی ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …