ہفتہ , 16 اکتوبر 2021

امریکہ میں ایشیائی نژاد امریکی شہریوں کے خلاف تشدد میں اضافہ

جاری کئے جانے والے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ امریکہ میں کورونا پھیلاؤ کے ساتھ ساتھ اس ملک میں ایشیائی نژاد امریکی شہریوں کے خلاف تشدد میں اضافہ ہو گیا ہے۔ دوسری جانب ریپبلکنز نے امریکہ کی جنوبی سرحد پر تارکین وطن اور مہاجر بچوں کے نگہداشت کے مرکز کی دل دہلادینے والی تصاویر جاری کی ہیں۔

کنگ فائیو ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ایسی حالت میں کہ امریکہ میں ایشائی نژاد امریکی شہریوں کے خلاف تشدد اور نفرت میں بے تحاشہ اضافہ ہو گیا ہے، اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ کورونا وبا کے پھیلاؤ کے دور میں اس قسم کے واقعات تیزی کے ساتھ مسلسل بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔

امریکہ کی مختلف ریاستوں میں ایشیائی نژاد امریکی شہریوں کے خلاف تشدد اور نفرت انگیز اقدامات کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور ریاست واشنگٹن کے حکام نے اس قسم کے واقعات کا مقابلہ کئے جانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

دریں اثنا بعض مقامی عہدیداروں منجملہ امریکی رکن کانگریس پرمیلا جے پال نے اس سماجی مشکل پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے قومی سطح پر اس قسم کی نسل پرستی کے خلاف کارروائی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

ایشیائی نژاد امریکیوں کے مرکز کے اعداد و شمار کے مطابق نصف سے زائد ایشیائی نژاد امریکی شہری، اپنی زندگی کے دوران نسل پرستانہ احساسات کی بھینٹ چڑھے ہیں۔

اس سلسلے میں نسل پرستی کے مخالفین نے امریکہ کے ایک پارک میں نسل پرستی کے مقابلے میں ایشیائی نژاد امریکی شہریوں کی حمایت میں ایک اجتماع بھی کیا۔

دوسری جانب کچھ امریکی ریپبلکن سینیٹروں نے جنوبی امریکہ کی سرحد پر مہاجر بچوں کی نگہداشت کے ایک مرکز کی ہولناک فوٹیج جاری کی ہیں۔

ریاست ٹیکساس کے ریپبلکن سینیٹر ٹیڈ کروز نے ان مہاجر بچوں کے مرکز کی ابتر اور ہولناک فوٹیج کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ وہ فوٹیج ہیں کہ جنھیں صدر جوبائیڈن، رائے عامہ سے چھپانے اور دور رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ یہ فوٹیج ریاست ٹیکساس کے شہر ڈینا میں واقع بچوں کے نگہداشت کے ایک مرکز کی ہیں ۔

سترہ ریپبلکن سینیٹروں نے جو بائیڈن سے اس مسئلے کو فوری طور پر حل کرنے کی اپیل کی ہے جبکہ اس مرکز کی یہ فوٹیج ان فوٹیج سے بالکل الگ ہیں کہ جن کو اس ہفتے وہائٹ ہاؤس نے کسی ایک پریس ذریعے کو نشرو و شائع کرنے کی اجازت دی ہے۔

ان میں سے ایک فوٹیج میں وزارت صحت کی ایک عمارت دکھائی گئی ہے جہاں کی صورت حال پرسکون بنی ہوئی ہے اور بھیڑ بھاڑ نظر نہیں آ رہی ہے اور پھر مہاجر بچوں کی صورت حال کا جائزہ لئے جانے کے بعد ان عمارتوں میں بچوں کو منتقل کر دیا جاتا ہے۔

امریکی صدر جوبائیڈن نے تارکین وطن کے امریکہ میں داخل ہونے کے بارے میں حال ہی میں ایک بیان میں کہا تھا کہ جب سے وہ برسر اقتدار آئے ہیں مہاجر بچوں کی تعداد میں اٹھائیس فیصد کا اضافہ ہوا ہے جب کہ یہ تعداد دو ہزار انیس میں ٹرمپ دور حکومت میں کورونا پھیلاؤ کے دور کے مقابلے میں اکتیس فیصد زیادہ ہے۔

واضح رہے کہ ہرسال اس طرح کے واقعات رونما ہوتے ہیں کہ بڑی تعداد میں لوگ سرحد کی طرف آتے ہیں اور سرحد کو پار کرتے ہیں اور پھر انھیں کیمپوں میں رکھ کر واپس بھیج دیا جاتا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

ایرانی و ہندوستانی وزرائے خارجہ کی ملاقات، باہمی تعاون کے مزید فروغ کے لئے پر عزم

نیویارک: اسلامی جمہوریہ ایران اور ہندوستان کے وزرائے خارجہ کے درمیان اقوام متحدہ کی جنرل …