اتوار , 20 جون 2021

سیف القدس اور اسرائیلی جھوٹ

تحریر: ڈاکٹر راشد عباس نقوی

فلسطینی عوام کی مزاحمت اور اسرائیل پر راکٹ اور میزائل حملوں کے درمیان حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نے پوری عرب اور اسلامی اقوام نیز ساری دنیا کے حریت پسند انسانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ مسجد الاقصیٰ کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہوں اور فلسطینیوں کے حق میں مظاہرے کریں۔ اسما‏عیل ہنیہ نے اپنے پیغام میں فلسطینی عوام، عرب اور اسلامی اقوام نیز دنیا بھر کے آزاد منش انسانوں کی جانب سے غاصب صیہونی حکومت کی ہٹ دھرمی اور غنڈہ گردی کے خلاف ڈٹ جانے کی تعریف اور اظہار تشکر کیا ہے۔ دوسری جانب حماس کے نائب سربرہ صالح العاروری نے کہا ہے کہ حماس کو اصولی طور پر جنگ بندی سے کوئی اختلاف نہیں ہے، تاہم جنگ کی وجوہات ہنوز باقی ہیں۔ ان کا اشارہ بیت المقدس اور مسجد الاقصیٰ کے خلاف اسرائیل کے مجرمانہ اور توسیع پسندانہ اقدامات کی جانب تھا۔ صالح العاروری نے مزید کہا کہ حماس جنگ کی خواہاں نہیں ہے لیکن ثالثی کرنے والوں کے لیے ہمارا موقف پوری طرح واضح ہے کہ اسرائیل فلسطیینوں کے خلاف حملے بند کرنے اور مسجد الاقصیٰ میں آزادانہ عبادت کے حق کو تسلیم کرنے کا اعلان کرے۔

اسرائیل اور فلسطینی مزاحمت کے درمیان سیف القدس سے موسوم جنگ کو شروع ہوئے چار دن گذر چکے ہیں۔ اگرچہ اسرائیل نے غزہ شہر کی رہائشی عمارتوں پر جارحانہ حملے کئے ہیں اور ان حملوں میں سو سے زیادہ فلسطینی شہید بھی ہوئے ہیں، تاہم یہ جنگ اسرائیل کے لئے بھی سنگین نتائج کی حامل رہی ہے اور اسرائیل کے لئے خطرے کی گھنٹی شمار ہوتی ہے۔ اس جنگ کا پہلا نکتہ یہ ہے کہ فلسطینیوں نے غزہ سے مقبوضہ علاقوں پر سینکڑوں راکٹ اور میزائل فائر کئے ہیں۔ جیسا کہ اسرائیل نے بھی اعلان کیا ہے کہ جنگ شروع ہونے کے تین ابتدائی دنوں میں ڈیڑھ ہزار سے زائد راکٹ اور میزائل غزہ سے مقبوضہ علاقوں پر فائر کئے گئے ہیں۔ عزالدین قسام بریگیڈ کے ترجمان ابو عبیدہ نے عیاش نامی درمیانی مار کرنے والے میزائل کو رامون ایئرپورٹ پر داغے جانے کی خبر دی ہے اور کہا ہے کہ یہ میزائل اڑھائی سو کیلومیٹر تک مار کرنے اور بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ان میزائلوں کی رینج میں میں اضافے اور اسی طرح مزاحمتی گروہوں کی جانب سے ایک طولانی جنگ کی آمادگی کے اعلان سے اس امر کی غمازی ہوتی ہے کہ مزاحمتی قوت کے پاس ہتھیاروں کا ذخیرہ موجود ہے۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ غزہ سن 2006ء سے اب تک سخت محاصرے میں ہے، اس طرح سے مزاحمتی گروہوں نے مسلط کردہ محاصرے کو فوجی خود کفالت کے موقع میں تبدیل کردیا ہے اور یہ اسرائیل کے لئے ایک واضح انتباہ ہے۔ دوسرا نکتہ یہ ہے کہ مقبوضہ علاقوں پر فلسطینیوں کے راکٹوں اور میزائل حملوں میں نو صیہونی کی ہلاکتوں اور ان کے پناہ گاہوں میں پناہ لینے سے اس امر کی غمازی ہوتی ہے کہ بہت سے راکٹ اور میزائل جو فلسطینیوں نے داغے ہیں، وہ اسرائیل کے آئرن ڈوم سے عبور کرگئے ہیں۔ اس لئے اس جنگ میں آئرن ڈوم کا دو حوالوں سے جائزہ لیا جا سکتا ہے، ایک تو یہ کہ یہ آئرن ڈوم مزاحمتی گروہوں کے بڑے پیمانے پر راکٹ اور میزائل حملوں کے مقابلے میں ناتواں نظر آیا ہے اور دوسری جانب اس سسٹم کے استعمال سے اسرائیل کو بھاری مالی اخراجات اٹھانے پڑیں گے۔

صیہونی جریدے اسرائیل ہیوم کے توسط سے نشر ہونے والی اطلاعات کی بنیاد پر آئرن ڈوم کے ذریعے ہر راکٹ یا میزائل کو نشانہ بنانے یا انٹرسیپٹ کرنے کی لاگت اسّی ہزار ڈالر ہے۔ درحققیت صیہونی فوجی، فلسطینی مزاحمت کے بہت کم قیمت والے اور چند ہزار ڈالر کے میزائلوں اور راکٹوں کا مقابلہ کرنے اور ان کو ناکارہ بنانے کے لئے مجبور ہیں کہ اپنے میزائل فائر کریں اور وہ جو میزائل فائر کرتے ہیں، اس کی قیمت 80 اسی ہزار ڈالر ہے۔ تیسرا نکتہ یہ ہے کہ فلسطینی مزاحمت نے پہلے کی جنگوں کے برخلاف حالیہ جنگ میں اسرائیل کے اسٹریٹجیک علاقوں جیسے ایئر پورٹوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ اسی سلسلے میں فلسطینی مزاحمت نے میرائل فائر کرنے کرکے بن گورین ایئرپورٹ کی سمت جانے والی تمام فلائٹوں کا رخ موڑ دیا ہے اور اب وہ بن گورین ایئرپورٹ پر لینڈ نہیں کر رہی ہیں، در ایں اثناء انٹرنیشنل ایئرپورٹ رامون پر بھی کہ جو غزہ سے دو سو بیس کیلومیٹر دور ہے،وہاں بھی میزائل حملہ کیا گیا، جس کے سبب یہ ایئرپورٹ بھی بند ہوگیا ہے۔ فلسطینی مزاحمت کی اس صلاحیت و توانائی سے پتہ چلتا ہے کہ اسرائیل کو کافی نقصان پہنچ رہا ہے اور جنگ جاری رہنے کی صورت میں یہ اسرائیل کے لئے ایک ٹھوس انتباہ بھی ہے۔

چوتھا نکتہ یہ ہے کہ سیف القدس جنگ اور فلسطینی مزاحمتی قوتوں کی دفاعی صلاحیت نے مقبوضہ علاقوں میں غیر فعال سماجی بحرانوں کا برملا کر دیا اور یہ معلوم ہوگیا کہ اسرائیل میں یکساں آبادی نہیں ہے اور سماجی و سیاسی ثقافت کے لحاظ سے بھی وہ مختلف ہے بلکہ مقبوضہ علاقوں کے بیشتر شہری وہ ہیں، جو دیگر ملکوں سے لاکر یہاں بسائے گئے ہیں۔ حالیہ دنوں میں کہ جب جنگ شروع ہوئی ایک عرب نژاد شہری کو انتہاء پسند یہودیوں نے زد و کوب کیا تو اس کے جواب میں ایک عرب نژاد شہری نے بھی ایک یہودی نژاد شہری کو مارا پیٹا۔ درحقیقت اس جنگ نے اسرائیلی معاشرے میں آپسی تناز‏عے اور شناخت کے فرق کو نمایاں کر دیا اور یہ خود اس غاصب حکومت کے لئے اہم اور ٹھوس انتباہ ہے۔ اسی سلسلے میں یش عتید پارٹی کے لیڈر یائر لیپڈ (کہ جن کو کابینہ تشکیل دینے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے) اس سلسلے میں کہتے ہیں، جو کچھ ہم اسرائیل کی سڑکوں پر دیکھ رہے ہیں، وہ ہمارے وجود کے لئے ایک سنگین خطرہ ہے۔

ادھر صیہونی حکومت کے صدر نے اعتراف کیا ہے کہ جنگ اب اسرائیل کی ‎سڑکوں پر شروع ہوگئی ہے، جس کا ہم نے سوچا بھی نہیں تھا۔ النشرہ ویب نیوز کے مطابق صیہونی حکومت کے صدر ریووین ریولن نے اندرون اسرائیل جاری جھڑپوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اکثر لوگوں نے یہ سوچا بھی نہیں تھا اور وہ جو دیکھ رہے ہیں، انہیں یقین نہیں آرہا ہے۔ ریولن نے اس سے پہلے بھی مقبوضہ فلسطین میں اندرونی جھڑپوں کے بارے میں کہا تھا کہ وہ اس وحشتناک صورتحال کے تدارک کے لیے پوری توانائیاں بروئے کار لائیں گے، جو ہماری آنکھوں کے سامنے رونما ہو رہی ہے۔ گذشتہ روز صیہونی حکومت کے وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے بھی مقبوضہ فلسطین میں جاری کشیدگی کے بعد ایک بیان میں کہا تھا کہ اسرائیل کے شہروں میں تشدد اور شورش کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اسرائیلی ذرائع نے اللد، کفر قرع، عکا، رملہ اور یافا سمیت مقبوضہ فلسطین کے پیشتر شہروں میں فلسطینیوں اور صیہونیوں کے درمیان جھڑپوں کا اعتراف کیا ہے۔

جنگ کا پانچواں اور آخری نکتہ یہ ہے کہ اسرائیل میں سیاسی تعطل جاری رہنے کا امکان بڑھ گیا ہے۔ نتن یاہو مارچ میں ہونے والے انتخابات کے بعد اٹھائیس دنوں کی مہلت میں کابینہ تشکیل دینے میں ناکام رہے اور صیہونی حکومت کے سربراہ نے یائیرلیپیڈ کو کابینہ تشکیل دینے کی ذمہ داری سونپ دی۔ لیپیڈ کی کوشش تھی کہ کابینہ کی تشکیل کے لئے رعم نامی عرب الائنس کے ساتھ مفاہمت کرلے، لیکن اس جنگ نے تقریباً اس عرب الائنس کے ساتھ اتحاد کو ناممکن بنا دیا ہے۔ ایسا خیال کیا جا رہا ہے کہ اسرائیل میں گذشتہ اڑھائی برسوں کے دوران پانچویں بار پارلیمانی انتخابات ہوسکتے ہیں۔ بہرحال عرب دنیا کے معروف صحافی عبد الباری عطوان کے بقول آج کل اسرائيل جس طرح سے جھوٹ بول رہا ہے، اسے گن پانا تو کافی مشکل کام ہے، مگر اس کے دو چار جھوٹ اتنے واضح ہیں کہ ان کے بارے میں کوئی بھی حقیقت کا اندازہ لگا سکتا ہے۔

مثال کے طور پر اسرائيل غزہ کی مشرقی سرحد پر ٹینک اور فوج کو جمع کر رہا ہے اور اس طرح سے وہ یہ ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ غزہ کے خلاف زمینی کارروائی کی تیاری ہے، جبکہ صیہونیوں کو بخوبی علم ہے کہ اگر ایسا کوئی قدم اٹھایا گيا تو یہ دراصل غزہ کے محاصرے میں بھوک و پیاس سے جنگ لڑنے والے اور شہادت کا خواب دیکھنے والے مجاہدوں کے لئے بہت بڑا تحفہ ہوگا۔ غزہ کے اڑھائي لاکھ سے زائد شہریوں کے پاس بندوقیں ہیں۔ ہمارے خیال میں اسرائیلی فوجی قیادت کی تاریخ کے بدترین و ظالم ترین کمانڈر ارییل شیرون جو سات ہزار آباد کاروں کے ساتھ غزہ سے بھاگے تھے اور پھر انہوں نے خوف کی وجہ سے کبھی پیچھے مڑ کر نہيں دیکھا، تمام اسرائيلی رہنماؤں کے لئے ایسا سبق ہيں جسے وہ کبھی بھول نہیں سکتے۔

ایک دوسرا جھوٹ جو اسرائيلی بہت بول رہے ہيں، وہ یہ کہ تل ابیب حکومت نے حماس کی طرف سے پیش کی جانے والی جنگ بندی کی تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔ یہ سفید جھوٹ ہے، کیونکہ ہمارے ذرائع نے اندر کی خبر یہ دی ہے کہ نیتن یاہو نے قاہرہ و دوحہ سے رابطہ کرکے ثالثی کی اپیل کی ہے اور جلد از جلد جنگ بندی کی خواہش ظاہر کی ہے، جبکہ حماس اور اسلامی جہاد تنظیموں نے جنگ بندی کی پیش کش ٹھکرا دی ہے اور کہا ہے کہ وہ جہاد جاری رکھیں گے اور جن میزائلوں کا استعمال کیا ہے، وہ ان کے پاس موجود میزائیوں کا دسواں حصہ بھی نہيں ہیں اور یہ کہ انہیں نیتن یاہو اور ان کے عرب دوستوں پر ذرہ برابر اعتماد نہيں ہے۔

یہ بھی دیکھیں

بلیک ستمبر: کیا 1970 میں فلسطینیوں کے ’قتل عام‘ میں ضیاالحق بھی ملوث تھے؟

عابد حسین اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جاری حالیہ تنازع پر دنیا بھر کے مختلف …