جمعہ , 18 جون 2021

القدس کی مکمل آزادی تک سلامتی و استحکام ممکن نہیں، او آئی سی

جدہ: اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے القدس اور مسجد اقصیٰ کو مسلم امہ کے لیے سرخ لکیرقرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی مکمل آزادی تک سلامتی و استحکام نہیں ہوسکتا۔

سعودی عرب کے شہر جدہ میں او آئی سی کی ایگزیکٹیو کمیٹی کا وزرائے خارجہ کی سطح کا غیر معمولی ورچوئل اجلاس ہوا، جہاں اسرائیل کی جارحیت، فلسطینی علاقوں پر قبضے خاص کر القدس شریف کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری بیان میں او آئی سی کا کہنا تھا کہ ایگزیکٹیو کمیٹی نے فلسطینیوں پر اسرائیلی کے وحشیانہ حملوں کی شدید مذمت کی۔

بیان میں کہا گیا کہ ‘اجلاس کی قرار داد اسرائیل کی جانب سے جان بوجھ کر مذہبی حساسیت کو آگ دینے، فلسطینیوں اور مسلم امہ کو اشتعال دلانے کے حوالے سے واضح اور واشگاف انداز میں خبردار کرتی ہے’۔

او آئی سی کا کہنا تھا کہ ‘وزرا کی قرار داد میں کہا گیا کہ او آئی سی مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں موجودہ اسرائیلی آباد کاری اور امتیازی نظام کی بنیاد رکھنے کو مسترد اور مذمت کرنے کا اعادہ کرتی ہے’۔

قرار داد میں کہا گیا کہ ‘القدس اور الاقصیٰ اسلام کا پہلا قبلہ اور تیسری مقدس ترین مسجد ہے اور یہ امہ کے لیے سرخ لکیر ہیں، جب تک قبضے سے ان کی مکمل آزادی نہیں ہوتی کوئی سلامتی اور استحکام نہیں ہوسکتا’۔

اس موقع پر او آئی سی کے سیکریٹری جنرل یوسف العثیمین نے کہا کہ ‘ہم الاقصیٰ میں فلسطین کے عوام کی مزاحمت کو سلام پیش کرتے ہیں’۔

انہوں نے کہا کہ ‘القدس فلسطین کا لازمی جزو ہے’۔

خیال رہے کہ او آئی سی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا تھا کہ فوری مداخلت کرتے ہوئے غزہ میں شہری آبادی کے خلاف اسرائیلی مظالم رکوانے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں اور غزہ میں جاری بمباری کو فی الفور روکا جائے۔

انہوں نے کہا تھا کہ اسلامی تعاون تنظیم کا قیام مسئلہ فلسطین کی وجہ سے عمل میں آیا تھا لہٰذا ضرورت کی اس گھڑی میں امت مسلمہ کو اپنے فلسطینی بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ بھرپور یک جہتی اور ان کی حمایت کے لیے آگے بڑھنا ہوگا۔

انہوں مزید نے کہا کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے اپنے دفاع سے محروم فلسطینیوں کے خلاف طاقت کا بے رحمانہ اور بلاامتیاز استعمال، عالمی انسانی و بنیادی حقوق سمیت عالمی قوانین اور اصولوں کی سنگین اور کھلی خلاف ورزی ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ فلسطینیوں کے نصب العین کی حمایت اپنے قیام سے ہی پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ایک واضح اور نمایاں اصول رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں کے خلاف منظم جرائم کی مذمت کے لیے الفاظ ناکافی ہیں، اسرائیلی فوج کی کارروائیوں، اس کی نوآبادیاتی پالیسیز، جاری جارحیت، محاصرے اور اجتماعی آبادی کو سزا دینے کی ظالمانہ روش کی بنا پر مقبوضہ فلسطین کی بگڑتی صورت حال ناقابل برداشت ہے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ حالیہ اسرائیلی جارحیت کا کوئی جواز نہیں اور نہ ہی اس سے آنکھیں چرائی جاسکتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ شیخ الجراح سے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی، آبادیاتی تناسب میں تبدیلی، القدس الشریف کے عرب اسلامی اور مسیحی کلچر کو تبدیل کرنے کی کوششیں غیرقانونی اور ناقابل قبول ہیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ ہمیں فلسطین کے عوام اور ان کی املاک کے خلاف جاری جارحیت رکوانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنا ہوں گے۔

وزیر خارجہ نے مطالبہ کیا کہ عالمی برادری فلسطینیوں کے خلاف طاقت کے بے رحمانہ استعمال اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو فوری رکوائے اور فلسطینیوں کے تحفظ کو یقینی بنائے۔

واضح رہے کہ غزہ کی محصور پٹی میں جاری اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں اب تک اب تک 47 بچوں سمیت 181 فلسطینی جاں بحق اور ایک ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

 

یہ بھی دیکھیں

کابل میں پھر دھماکے، آٹھ افراد جاں بحق، شیعہ ہزارہ نشانے پر

کابل: افغانستان کے دارالحکومت میں جمعرات کو ہونے والے دو الگ الگ بم دھماکوں میں …