جمعہ , 18 جون 2021

اسرائیل، حال سے بےحال

لندن سے شائع ہونے والے اخبار رای الیوم کے اداریہ میں مقبوضہ فلسطین کے حالات کا جائزہ لیا گیا ہے جس میں کئي اہم نکات کا ذکر کیا گيا ہے ۔ غزہ کے حالات کے لئے ضرور پڑھیں …

جب ہم ٹی وی اسکرین پر سینکڑوں آبادکار مرد و عورتوں اور بچوں کو ، استقامتی محاذ کی میزائیلوں کے خوف سے آدھے ادھورے کپڑوں میں ادھر سے ادھر پناہ گاہ کی تلاش میں بھاگتے دیکھتے ہيں تو ہمارے ذہن میں یہ سوال ابھرتا ہے کہ کیا یہ وہی اسرائيل عظمی ہے جس پر پوری دنیا کے سامنے نیتن یاہو فخر کرتے نہيں تھکتے تھے اور کیا اب اس حکومت کے تحت زندگی گزاری جا سکتی ہے ؟

بس کچھ ہی مہینے پہلے کی بات ہے کہ جب اسرائيلی اور ان کے نئے نئے یار دوست ، ” ابراہیم امن معاہدے ” کا جشن منا رہے تھے ، اس غلط فہمی میں کہ فلسطین کا معاملہ تو ختم ہو چکا ہے ، فلسطینی گھٹنے ٹیک چکے ہيں اور اب انہوں نے سفید پرچم بلند کر دیا ہے اس لئے اب اسرائيل ہی ان نئے نئے دوستوں کا خیال رکھے گا لیکن استقامتی محاذ کی میزائيلوں کی گرج سے ان بیچاروں کے خوابوں کا محل ، ریت کی دیوار کی طرح ڈھہ گیا کیونکہ وہ جن لوگوں کے سہارے پر سینہ پھلا کر آگے بڑھنا چاہ رہے تھے وہ سب تو نیتن یاہو اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ ، پناہ گاہوں میں چوہوں کی طرح چھپے بیٹھے ہیں ۔

اسرائيل جب بھی جنگ کرتا تھا ، مارتا تھا اور اسے یقین ہوتا تھا کہ سب کچھ اسی کے ہاتھ میں ہے اور اس سے آگے کوئی نہيں ہے۔ استقامت کے میزائيل ” کھلونے ” ہیں اور زیادہ سے زیادہ ایک کیلو میٹر تک مار کر سکتے ہيں وہ بھی بغیر کسی دھماکہ خیز مادے کے، مگر جب جھڑپ شروع ہوئی تو استقامتی محاذ کی میزائيلوں نے مقبوضہ فلسطین کی ایک ایک انچ زمین کا جو بوسہ لیا تو اس کے بعد جنگی ماہرین کے سارے اندازے ہی غلط ثابت ہو گئے ، پاک و با عظمت ہے خدا کی وہ ذات جو حالات بدل دیتی ہے ۔

سوچنے کی بات ہے تہتر برسوں کے بعد آج اسرائيل کے پاس کوئي محفوظ ايئر پورٹ نہيں ، ایسا اس کے ناجائز وجود کے آغاز سے اب تک کبھی نہیں ہوا تھا ۔ آج حالات یہ ہیں کہ اسرائيل سے یارانہ بڑھانے والے ملکوں کے طیاروں کے اترنے کی کوئی جگہ ہے نہ ان کے سفیروں کے لئے پناہ لینے کا کوئي مقام ۔ اب مقبوضہ فلسطین کے آسمانوں میں تیرتے، گرجتے اور برستے میزائیلوں سے بچ کر بھاگنے کا کوئی راستہ انہيں نظر نہیں آ رہا ہے ۔

ہم اسرائيلی میڈیا پر گہری نظر رکھے ہيں ، اس کے لہجے میں شکست صاف جھلک رہی ہے ، اب صیہونی خواب کو چکناچور ہوتے دیکھا جا سکتا ہے ، نا قابل شکست اسرائيلی فوج بری طرح سے ہار چکی ہے اور حماس کی قیادت میں فلسطینی جنگجو فاتح میدان ہیں ۔ جنگ کے آغاز کے محض چھے دنوں کے اندر بہت سے حقائق واضح ہو گئے ، فلسطینیوں کے پاس ابھی چھے مہینوں تک لڑنے کے لئے میزائیل ہیں جبکہ ، اسرائيل کے انٹی میزائيل سسٹم ، آئرن ڈوم کے میزائیل بہت جلد ختم ہونے والے ہيں۔

ان حقائق کی روشنی میں یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ امریکی عہدیدار کیوں قاہرہ اور دوحہ بھاگ بھاگ کر جا رہے ہيں اور جلد از جلد جنگ بندی کی کوشش کر رہے ہيں ؟

آج اسرائيل ایک وقت میں تین تین محاذوں پر لڑ رہا ہے ، پہلا محاذ سن انیس سو اڑتالیس میں مقبوضہ علاقوں میں ، دوسرا ، غرب اردن میں اور تیسرا غزہ پٹی میں اور یہ بھی سمجھ لیں کہ ان تنیوں محاذوں میں جنگ کے شعلے بھڑکتے رہيں گے بھلے ہی جنگ بندی پر اتفاق رائے ہو جائے کیونکہ سن انیس سو ستاسی میں پتھروں کی تحریک تین برسوں تک جاری رہی ، دوسری انتفاضہ تحریک چار برسوں تک اور تیسری یقینا اور بھی زيادہ دنوں تک جاری رہے گی کیونکہ فلسطین کا جن بوتل سے باہر نکل آیا ہے اور اب وہ اللہ کے حکم سے مکمل فتح کے بغیر بوتل میں واپس جانے والا نہيں ہے ۔

اسرائيل کی خفیہ ایجنسیوں کی شرمناک ناکامی کو پوری دنیا کے سامنے ثابت کرتے ہوئے حماس اور فلسطینی تنظیموں نے اپنی میزائيلی طاقت کا لوہا منوا لیا ہے اور یہ بھی ثابت کر دیا ہے کہ وہ جو کہتی ہیں وہ کر دیتی ہيں اور جب دھمکی دیتی ہیں تو پھر اس پر عمل بھی کرتی ہیں یہی نہیں اس محاذ نے نفسیاتی جنگ میں بھی فتح حاصل کی ہے اور آج یہ حالت ہے کہ غرب اردن کے لوگ مقبوضہ بیت المقدس میں آگ برسانے والے ہر میزائیل کی گھن گرج پر جھوم جھوم کر رقص کرتے ہيں ۔

صیہونی جارح ، ڈٹ جانے والے غزہ کی جتنی عمارتوں کو چاہيں ملبے میں بدل دیں ، اینٹ ، پتھر اور سیمنٹ پھر مل کر عمارتیں بنا دیں گے ، فلک بوس ٹاور پھر سے بادلوں سے باتیں کریں گے لیکن ریزہ ریزہ ہو جانے والے صیہونی خواب کے محل کو دوبارہ نہیں بنایا جا سکتا ، نہ ہی فوجی برتری کا ” ہوا” پھر کھڑا کیا جا سکتا ہے اور ہاں ، اب فلسطین نام کی غصب شدہ سر زمین میں غاصبوں کے لئے چین کی نیند بھی ممکن نہيں …

یہ بھی دیکھیں

بلیک ستمبر: کیا 1970 میں فلسطینیوں کے ’قتل عام‘ میں ضیاالحق بھی ملوث تھے؟

عابد حسین اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جاری حالیہ تنازع پر دنیا بھر کے مختلف …