اتوار , 17 اکتوبر 2021

اسرائیل میڈیا کی عمارت پر حملے کا جواز فراہم کرے، امریکا کا مطالبہ

کوپن ہیگن: امریکا کے سیکریٹری آف اسٹیٹ انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ میں فضائی حملے میں تباہ کی گئی عمارت میں حماس کے کام کرنے کے ثبوت طلب کر لیے ہیں لیکن تاحال ابھی تک کوئی ثبوت فراہم نہیں کیے گئے۔

خبر ایجنسی اے پی کے مطابق غزہ میں اسرائیلی فضائیہ کی بمباری سے کثیرالمنزلہ عمارت زمین بوس ہو گئی تھی، اس عمارت میں رہائشی مکانوں کے ساتھ ساتھ نامور بین الاقوامی اداروں کے دفاتر بھی موجود تھے۔

اسرائیل کا کہنا تھا کہ اس نے حماس کی جانب سے حملہ کرنے والوں کی عمارت میں موجودگی کے پیش نطر اسے نشانہ بنایا لیکن ابھی تک وہ اس حوالے سے کوئی بھی ثبوت پیش نہیں کر سکا۔

ڈنمارک کے شہر کوپن ہیگن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انٹونی بلنکن نے کہا کہ غزہ کی پٹی پر اسرائیل اور حماس کے مابین تازہ چھڑپوں کے بعد جنگ بندی کے لیے بائیڈن انتظامیہ پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔

مذکورہ عمارت میں الجزیرہ اور ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے دفاتر موجود تھے اور اسرائیل کا کہنا ہے کہ انہوں نے خفیہ اطلاعات پر اس عمارت کو نشانہ بنایا۔

اسرائیل کے وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے عمارت پر حملے کا دفاع کرتے ہوئے ٹی وی پر قوم سے خطاب میں اسے بالکل جائز ہدف قرار دیا۔

امریکا کے سیکریٹری آف اسٹیٹ نے پیر کو کہا کہ حملے کے فوراً بعد ہم نے ان سے اس کا جواز طلب کر لیا تھا البتہ انہوں نے کسی خفیہ معلومات کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ ہم نے ابھی تک کوئی بھی معلومات نہیں دیکھیں۔

بلنکن کے یہ بیانات ایک ایسے موقع پر سامنے آئے ہیں جب ہفتے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے سفارت کاروں اور مسلم ریاستوں کے وزرائے خارجہ کے ہنگامی اجلاس میں شہریوں کی خونریزی روکنے کے مطالبات کیے گئے جہاں ایک ہفتے سے اسرائیلی فضائیہ کی بمباری کا سلسلہ جاری ہے۔

یہ بھی دیکھیں

ایرانی و ہندوستانی وزرائے خارجہ کی ملاقات، باہمی تعاون کے مزید فروغ کے لئے پر عزم

نیویارک: اسلامی جمہوریہ ایران اور ہندوستان کے وزرائے خارجہ کے درمیان اقوام متحدہ کی جنرل …